صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
117. بَابُ اسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسْجِدِ وَغَيْرِهِ:
باب: مسجد وغیرہ میں جانے کے لیے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا۔
حدیث نمبر: 5238
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں (نماز پڑھنے کے لیے) جانے کی اجازت مانگے تو اسے نہ روکو بلکہ اجازت دے دو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5238]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کے لیے اجازت طلب کرے تو وہ (خاوند) اسے نہ روکے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5238]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
118. بَابُ مَا يَحِلُّ مِنَ الدُّخُولِ وَالنَّظَرِ إِلَى النِّسَاءِ فِي الرَّضَاعِ:
باب: دودھ کے رشتے سے بھی عورت محرم ہو جاتی ہے، بےپردہ اسے دیکھ سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5239
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے دودھ چچا (رضاعی چچا، افلح) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، اجازت نہیں دے سکتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں، انہیں اندر بلا لو۔ میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی (رضاعی) اس لیے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہمارے لیے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5239]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرا رضاعی چچا آیا اور اس نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا تا آنکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے اور اسے اندر آنے دو۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے (اس کے) مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے اور تمہارے پاس آ سکتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ واقعہ ہم پر پردے کی پابندی عائد ہونے کے بعد کا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا: ”دودھ پلانے سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5239]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
119. بَابُ لاَ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا:
باب: ایک عورت دوسری عورت سے (بےستر ہو کر) نہ چمٹے اس لیے کہ اس کا حال اپنے خاوند سے بیان کرے۔
حدیث نمبر: 5240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5240]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی عورت دوسری عورت سے بے ستر چمٹے پھر وہ اپنے خاوند سے اس طرح تصویر کشی کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5240]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5241
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے مل کر اپنے شوہر سے اس کے حلیہ نہ بیان کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5241]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کو دوسری عورت سے (بے ستر) ہو کر اس طرح نہیں ملنا چاہیے کہ وہ اس کا حلیہ اپنے شوہر سے بیان کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5241]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
120. بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى نِسَائِهِ:
باب: کسی مرد کا یہ کہنا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آؤں گا۔
حدیث نمبر: 5242
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ فَأَطَافَ بِهِنَّ وَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ أَرْجَى لِحَاجَتِهِ".
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سلیمان بن داؤد علیہاالسلام نے فرمایا کہ آج رات میں اپنی سو بیویوں کے پاس ہو آؤں گا (اور اس قربت کے نتیجہ میں) ہر عورت ایک لڑکا جنے گی تو سو لڑکے ایسے پیدا ہوں گے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ فرشتہ نے ان سے کہا کہ ان شاءاللہ کہہ لیجئے لیکن انہوں نے نہیں کہا اور بھول گئے۔ چنانچہ آپ تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کسی کے بھی بچہ پیدا نہ ہوا اور اس ایک کے یہاں بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان شاءاللہ کہہ لیتے تو ان کی مراد بر آتی اور ان کی خواہش پوری ہونے کی امید زیادہ ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5242]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے فرمایا: ”آج رات میں اپنی سو بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا، ہر بیوی ایک لڑکا جنم دے گی تو سو لڑکے پیدا ہوں گے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔“ فرشتے نے ان سے کہا: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ لیجیے۔“ لیکن انہوں نے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ نہ کہا اور وہ بھول گئے، چنانچہ وہ تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کسی کے ہاں بچہ نہ پیدا ہوا، اس نے بھی ادھورا بچہ جنم دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ لیتے تو ان کی مراد بر آتی اور ان کی خواہش پوری ہونے کی امید زیادہ ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5242]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
121. بَابُ لاَ يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلاً إِذَا أَطَالَ الْغَيْبَةَ مَخَافَةَ، أَنْ يُخَوِّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ:
باب: آدمی سفر سے رات کے وقت اپنے گھر نہ آئے یعنی لمبے سفر کے بعد ایسا نہ ہو کہ اپنے گھر والوں پر تہمت لگانے کا موقع پیدا ہو یا ان کے عیب نکالنے کا۔
حدیث نمبر: 5243
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے رات کے وقت اپنے گھر (سفر سے اچانک) آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5243]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”کسی شخص کے رات کے وقت اپنے گھر آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5243]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلًا".
ہم سے محمد بن مقاتل مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم بن سلیمان نے خبر دی، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص زیادہ دنوں تک اپنے گھر سے دور ہو تو یکایک رات کو اپنے گھر میں نہ آ جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5244]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی زیادہ دیر تک گھر سے دور رہا ہو تو یکایک رات کے وقت اپنے گھر نہ آجائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5244]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
122. بَابُ طَلَبِ الْوَلَدِ:
باب: جماع سے بچہ کی خواہش رکھنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 5245
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا يُعْجِلُكَ؟ قُلْتُ: إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا؟ قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ"، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الثِّقَةُ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: الْكَيْسَ الْكَيْسَ يَا جَابِرُ يَعْنِي الْوَلَدَ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے، ان سے سیار بن دروان نے، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد (غزوہ تبوک) میں تھا، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کنواری عورت سے تم نے شادی کی یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ جابر نے بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ۔ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ تمہاری بیویاں جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی چوٹی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ موئے زیر ناف صاف کر لیں۔ ہشیم نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ «الكيس، الكيس» یعنی اے جابر! جب تو گھر پہنچے تو خوب خوب «كيس» کیجؤ (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) «كيس» کا مطلب ہے کہ اولاد ہونے کی خواہش کیجؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5245]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ جب ہم واپس آئے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قدر جلدی کیوں کر رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری عورت سے شادی کی ہے یا شوہر دیدہ کو بیاہ لائے ہو؟“ میں نے کہا: بیوہ سے نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ شادی کی تاکہ تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے اور وہ تیرے ساتھ کھیلتی؟“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور اپنے گھروں میں جانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا ٹھہر جاؤ، رات ہونے کے بعد گھر جانا تاکہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ زیرِ ناف بال صاف کر لیں۔“ راوی کہتا ہے کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: ”اے جابر! «الْكَيْسَ الْكَيْسَ» ۔“ کیس کے معنی جماع کے وقت اولاد کی طلب کرنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5245]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5246
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ"، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَعَلَيْكَ بِالْكَيْسِ الْكَيْسِ". تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْكَيْسِ.
ہم سے محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سیار نے، ان سے شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت) فرمایا، جب رات کے وقت تم مدینہ میں پہنچو تو اس وقت تک اپنے گھروں میں نہ جانا جب تک ان کی بیویاں جو مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے، اپنا موئے زیر ناف صاف نہ کر لیں اور جن کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھا نہ کر لیں۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ضروری ہے کہ جب تم گھر پہنچو تو خوب خوب «كيس» کیجؤ۔ شعبی کے ساتھ اس حدیث کو عبیداللہ نے بھی وہب بن کیسان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، اس میں بھی «كيس» کا ذکر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5246]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کے وقت (اپنے شہر) آؤ تو اپنے اہل خانہ کے پاس رات کے وقت مت آؤ جب تک وہ عورتیں جن کے خاوند تادیر باہر رہے ہیں اپنے زیر ناف بال صاف نہ کرلیں اور پراگندہ بالوں میں کنگھی نہ کرلیں۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جماع کرنے سے فرزند کی طلب ضروری ہے۔“ عبید اللہ نے وہب اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْكَيْسَ» کے الفاظ بیان کرنے میں شعبی کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5246]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
123. بَابُ تَسْتَحِدُّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطُ الشَّعِثَةُ:
باب: جب خاوند سفر سے آئے تو عورت استرہ لے اور بالوں میں کنگھی کرے۔
حدیث نمبر: 5247
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ الْمَدِينَةِ تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَسَارَ بَعِيرِي كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: أَتَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ".
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو سیار نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (غزوہ تبوک) میں تھے۔ واپس ہوتے ہوئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا۔ ایک صاحب نے پیچھے سے میرے قریب پہنچ کر میرے اونٹ کو ایک چھڑی سے جو ان کے پاس تھی، مارا۔ اس سے اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا، جیسا کہ تم نے اچھے اونٹوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری نئی شادی ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پوچھا، کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو شہر میں داخل ہونے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ پراگندہ بال عورت چوٹی کنگھا کر لے اور جس کا شوہر موجود نہ رہا ہو وہ موئے زیر ناف صاف کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5247]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں تھے۔ واپسی کے وقت جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا تو میرے پیچھے سے ایک سوار آیا اور میرے قریب پہنچ کر اپنی چھڑی سے میرے اونٹ کو ٹھونکا۔ اس سے میرا اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا جیسا کہ تم نے اچھی چال چلنے والے اونٹ کو دیکھا ہوگا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بھی شادی کر لی ہے؟“ عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: شوہر دیدہ سے نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تیرے ساتھ کھیلتی؟“ پھر جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو اپنے گھروں میں جانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ عشاء کے وقت گھروں کو جاؤ تاکہ بکھرے بالوں والی عورت کنگھی کرلے اور شہر سے غائب خاوند والی عورت اپنے زیرِ ناف بال صاف کرلے۔““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5247]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة