صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ الثَّيِّبَاتِ:
باب: بیوہ عورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: Q5079
وَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی بیٹیاں اور بہنیں نکاح کے لیے میرے سامنے مت پیش کیا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5079]
حدیث نمبر: 5079
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" قَفَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ فَتَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يُعْجِلُكَ؟ قُلْتُ: كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرُسٍ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، قَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیار بن ابی سیار نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد سے واپس ہو رہے تھے۔ میں اپنے اونٹ کو، جو سست تھا تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار مجھ سے آ کر ملا اور اپنا نیزہ میرے اونٹ کو چبھو دیا۔ اس کی وجہ سے میرا اونٹ تیز چل پڑا جیسا کہ کسی عمدہ قسم کے اونٹ کی چال تم نے دیکھی ہو گی۔ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا ابھی میری شادی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کسی کنواری سے کیوں نہ کی تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ اور رات ہو جائے تب داخل ہو تاکہ پریشان بالوں والی کنگھا کر لیوے اور جن کے شوہر موجود نہیں تھے وہ اپنے بال صاف کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5079]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم ایک غزوے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ واپس آئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ پر چلنے میں جلدی کی۔ اس دوران میرے پیچھے سے ایک سوار مجھے آ کر ملا اور اس نے میرے اونٹ کو اپنا چھوٹا سا نیزہ مارا، جس کی وہ چال تم نے دیکھی ہو گی۔ میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہیں کس چیز کی جلدی ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”میری نئی نئی شادی ہوئی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری سے ہو یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا: ”بیوہ سے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کنواری سے شادی کیوں نہ کی تاکہ تو اس سے دل لگی کرتا اور وہ تجھ سے خوش طبعی کرتی۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر جب ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ، رات کو گھروں میں جاؤ، تاکہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے اور جن کے شوہر موجود نہیں تھے وہ اپنے زیر ناف بال صاف کر لیں۔۔“““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5079]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5080
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: تَزَوَّجْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَزَوَّجْتَ؟ فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَقَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیل کود کرتے۔ محارب نے کہا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عمرو بن دینار سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے۔ مجھ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5080]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم نے کیسی عورت سے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: ایک بیوہ سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کنواری لڑکیوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرنے سے اجتناب کرتے ہو؟“ راویِ حدیث (شعبہ) نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکی سے (شادی) کیوں نہ کی کہ تو اس سے ہنسی مذاق کرتا اور وہ تجھ سے کھیل کود کرتی؟“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5080]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
11. بَابُ تَزْوِيجِ الصِّغَارِ مِنَ الْكِبَارِ:
باب: کم عمر کی عورت سے زیادہ عمر والے مرد کے ساتھ شادی کا ہونا۔
حدیث نمبر: 5081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا أَنَا أَخُوكَ، فَقَالَ: أَنْتَ أَخِي فِي دِينِ اللَّهِ وَكِتَابِهِ وَهِيَ لِي حَلَالٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے یزید بن حبیب نے، ان سے عراک بن مالک نے اور ان سے عروہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ (تو عائشہ سے کیسے نکاح کریں گے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لیے حلال ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5081]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو انہوں نے عرض کی: ”میں تو آپ کا بھائی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق میرے دینی بھائی ہو۔ وہ (عائشہ) میرے لیے حلال ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5081]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
12. بَابُ إِلَى مَنْ يَنْكِحُ:
باب: کس طرح کی عورت سے نکاح کیا جائے؟
حدیث نمبر: Q5082
وَأَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ، وَمَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَتَخَيَّرَ لِنُطَفِهِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ.
اور کون سی عورت بہتر ہے اور مرد کے لیے اچھی عورت کو اپنی نسل کے لیے بیوی بنانا بہتر ہے، مگر یہ واجب نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5082]
حدیث نمبر: 5082
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی (عرب) عورتوں میں بہترین عورت قریش کی صالح عورت ہوتی ہے جو اپنے بچے سے بہت زیادہ محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال اسباب میں اس کی بہت عمدہ نگہبان و نگراں ثابت ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5082]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ پر سوار ہونے والی عورتوں میں بہترین عورت قریش کی نیک عورت ہے جو اپنے بچے سے اس کی صغر سنی میں بہت زیادہ محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی بہت اچھی حفاظت کرنے والی ثابت ہوتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5082]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
13. بَابُ اتِّخَاذِ السَّرَارِيِّ:
باب: لونڈیوں کا رکھنا کیسا ہے۔
حدیث نمبر: Q5083
وَمَنْ أَعْتَقَ جَارِيَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا.
اور اس شخص کا ثواب جس نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5083]
حدیث نمبر: 5083
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ وَلِيدَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ مَوَالِيهِ وَحَقَّ رَبِّهِ فَلَهُ أَجْرَانِ"، قَالَ الشَّعْبِيُّ: خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ قَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتَقَهَا ثُمَّ أَصْدَقَهَا".
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوحد بن زیاد نے، کہا ہم سے صالح بن صالح ہمدانی نے، کہا ہم سے عامر شعبی نے، کہا کہ مجھ سے ابوبردہ نے بیان کیا اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے، اسے ادب سکھائے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایمان لائے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے۔ عامر شعبی نے (اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنانے کے بعد کہا کہ بغیر کسی مشقت اور محنت کے اسے سیکھ لو۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لیے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ اور ابوبکر نے بیان کیا ابوحصین سے، اس نے ابوبردہ سے، اس نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اس شخص نے باندی کو (نکاح کرنے کے لیے) آزاد کر دیا اور یہی آزادی اس کا مہر مقرر کی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5083]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اس کو اچھی تعلیم سے آراستہ کرے، پھر اسے اچھے آداب سکھائے تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔ اور جو کوئی اہل کتاب سے اپنے نبی پر ایمان لائے تو اس کے لیے بھی دو گنا اجر ہے۔ اور جو غلام اپنے آقاؤں کا حق ادا کرے اور اپنے رب کا بھی حق ادا کرے تو اسے دوگنا ثواب ملے گا۔“ امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ حدیث کسی معاوضے کے بغیر لے جاؤ، جبکہ پہلے اس سے کم مسائل معلوم کرنے کے لیے آدمی کو مدینہ منورہ کا سفر کرنا پڑتا تھا۔“ ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے لونڈی کو آزاد کر دیا اور اسے حق مہر بھی ادا کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5083]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5084
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ"، بَيْنَمَا إِبْرَاهِيمُ مَرَّ بِجَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَأَعْطَاهَا هَاجَرَ، قَالَتْ: كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَنِي آجَرَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (دوسری سند) ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے تین مرتبہ کے سوا کبھی دین میں جھوٹ بات نہیں نکلی۔ ایک مرتبہ آپ ایک ظالم بادشاہ کی حکومت سے گزرے آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ علیہ السلام تھیں۔ پھر پورا واقعہ بیان کیا (کہ بادشاہ کے سامنے) آپ نے سارہ علیہ السلام کو اپنی بہن (یعنی دینی بہن) کہا۔ پھر اس بادشاہ نے سارہ علیہا السلام کو آجر (ہاجرہ) کو دے دیا۔ (بی بی سارہ علیہا السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے) کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ہاتھ کو روک دیا اور آجر (ہاجرہ) کو میری خدمت کے لیے دلوا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یعنی اے عرب والو! یہی ہاجرہ علیہا السلام تمہاری ماں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5084]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بظاہر تین خلاف باتیں کی ہیں: ایک یہ کہ آپ کا گزر ایک ظالم بادشاہ کے پاس سے ہوا جبکہ آپ کے ہمراہ آپ کی بیوی حضرت سارہ رضی اللہ عنہا تھیں۔“ اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی، (اس میں ہے کہ) اس (بادشاہ) نے بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے کر ان کو رخصت کیا۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے کافر کا ہاتھ مجھ سے روکے رکھا اور مجھے خدمت کے لیے ہاجرہ بھی عنایت کر دی۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے آسمان کے پانی سے گزر اوقات کرنے والو! یہی ہاجرہ رضی اللہ عنہا تمہاری والدہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5085
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أُمِرَ بِالْأَنْطَاعِ، فَأَلْقَى فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ: الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ دستر خوان بچھانے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے؟ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5085]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینے کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور اسی مقام پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے آپ کے ولیمے کے لیے مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوتِ ولیمہ میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت ہی تھا، تاہم دسترخوان بچھانے کا حکم دیا گیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا گیا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ کچھ مسلمانوں نے کہا: ”حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں یا آپ کی لونڈی؟“ اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے پردے کا اہتمام فرمایا تو ام المومنین ہیں اور اگر پردے کا حکم نہ دیا تو آپ کی باندی ہے۔“ بعد ازاں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا تو ان کے لیے اپنی سواری پر اپنے پیچھے جگہ بنائی، نیز ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ ڈال دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5085]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة