صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ:
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 5323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا: لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا (کہ مطلقہ بائنہ کو) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5323]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فاطمہ بنت قیس کو کیا ہو گیا ہے؟ کیا وہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتی؟ کیونکہ وہ کہتی ہے کہ مطلقہ بائنہ کو رہائش اور خرچہ نہیں ملتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5323]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا: لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا (کہ مطلقہ بائنہ کو) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5324]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فاطمہ بنت قیس کو کیا ہو گیا ہے؟ کیا وہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتی؟ کیونکہ وہ کہتی ہے کہ مطلقہ بائنہ کو رہائش اور خرچہ نہیں ملتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5324]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5325
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ:" أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ، فَخَرَجَتْ، فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا صَنَعَتْ، قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ"، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ، وَقَالَتْ:" إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ فلانہ (عمرہ بنت حکم) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں سے منتقل ہونے کی) انہیں اجازت دے دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5325]
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”آپ فلاں بنتِ حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں؟ ان کے شوہر نے انہیں طلاقِ بائنہ دے دی تو وہ وہاں سے نکل آئی۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔“ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”آپ نے حضرت فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ نہیں سنا؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ واقعہ ذکر کرنے میں کوئی خیر کا پہلو نہیں۔“ ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور کہا: ”فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا تو ایک بے آباد جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف وحشت برستی تھی، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت دی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5326
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ:" أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ، فَخَرَجَتْ، فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا صَنَعَتْ، قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ"، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ، وَقَالَتْ:" إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ فلانہ (عمرہ بنت حکم) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں سے منتقل ہونے کی) انہیں اجازت دے دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5326]
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”کیا آپ فلانہ بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں؟ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی تو وہ وہاں سے نکل آئی۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔“ عروہ نے کہا: ”کیا آپ نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ نہیں سنا؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ واقعہ ذکر کرنے میں کوئی خیر کا پہلو نہیں۔“ ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور کہا: ”فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک بے آباد جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف وحشت برستی تھی، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت دی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5326]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
42. بَابُ الْمُطَلَّقَةِ إِذَا خُشِيَ عَلَيْهَا فِي مَسْكَنِ زَوْجِهَا أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَيْهَا، أَوْ تَبْذُوَ عَلَى أَهْلِهَا بِفَاحِشَةٍ:
باب: وہ مطلقہ عورت جس کے شوہر کے گھر میں کسی (چور وغیرہ یا خود شوہر) کے اچانک اندر آ جانے کا خوف ہو یا شوہر کے گھر والے بدکلامی کریں تو اس کو عدت کے اندر وہاں سے اٹھ جانا درست ہے۔
حدیث نمبر: 5327
حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ،" أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ".
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا (کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا) انکار کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5327]
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے موقف کا انکار کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5327]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5328
حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ،" أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ".
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا (کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا) انکار کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5328]
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے موقف کا انکار کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
43. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} مِنَ الْحَيْضِ وَالْحَملِ:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے۔
حدیث نمبر: 5329
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً، فَقَالَ لَهَا:" عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي إِذًا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا (فرمایا راوی کو شک تھا) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5329]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر پریشان کھڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عَقْرَىٰ» یا فرمایا «حَلْقَىٰ»، تو ہمیں روک دے گی۔ کیا تو نے قربانی کے دن طواف کر لیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوچ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
44. بَابُ: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ}:
باب: اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کی اندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے۔
حدیث نمبر: Q5330
فِي الْعِدَّةِ، وَكَيْفَ يُرَاجِعُ الْمَرْأَةَ إِذَا طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ.
اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یا دو طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5330]
حدیث نمبر: 5330
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ:" زَوَّجَ مَعْقِلٌ أُخْتَهُ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً".
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، ان سے یونس بن عبید نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن جمیلہ کا نکاح کیا، پھر (ان کے شوہر نے) انہیں ایک طلاق دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5330]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کا نکاح کسی سے کر دیا تو اس نے اسے طلاق دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5330]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5331
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ،" أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ كَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا، فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ أَنَفًا، فَقَالَ: خَلَّى عَنْهَا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَخْطُبُهَا، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ، فَتَرَكَ الْحَمِيَّةَ وَاسْتَقَادَ لِأَمْرِ اللَّهِ".
مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد انہوں نے تنہائی میں عدت گزاری۔ عدت کے دن جب ختم ہو گئے تو ان کے پہلے شوہر نے ہی پھر معقل رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔ معقل کو اس پر بڑی غیرت آئی۔ انہوں نے کہا جب وہ عدت گزار رہی تھی تو اسے اس پر قدرت تھی (کہ دوران عدت میں رجعت کر لیں لیکن ایسا نہیں کیا) اور اب میرے پاس نکاح کا پیغام بھیجتا ہے۔ چنانچہ وہ ان کے اور اپنی بہن کے درمیان میں حائل ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن» ”اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں تو تم انہیں مت روکو۔“ آخر آیت تک پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یہ آیت سنائی تو انہوں نے ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5331]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھی، اس نے اسے طلاق دے دی، پھر اس سے علیحدہ رہا حتیٰ کہ اس کی عدت ختم ہو گئی، اس نے دوبارہ پیغامِ نکاح بھیجا تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ کو بڑی غیرت آئی اور انہوں نے کہا: ”جب وہ عدت گزار رہی تھی تو اسے رجوع کی قدرت تھی لیکن وہ اب (میرے پاس) پیغامِ نکاح بھیجتا ہے“، چنانچہ وہ ان کے اور اپنی بہن کے درمیان حائل ہو گئے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] ”جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے میں ان کے لیے رکاوٹ نہ بنو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یہ آیت سنائی تو انہوں نے اپنی ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة