صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ الإِشَارَةِ فِي الطَّلاَقِ وَالأُمُورِ:
باب: اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 5297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ:" كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، ثُمَّ قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اترو اور ستو گھول لو۔ آخر تیسری مرتبہ کہنے پر انہوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5297]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”اترو اور میرے لیے ستو تیار کرو۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تھوڑی سی دیر کر لیں تو بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”اترو اور میرے لیے ستو تیار کرو۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگر تھوڑی سی مزید دیر کر لیں تو اچھا ہے کیونکہ ابھی دن باقی معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”اترو اور میرے لیے ستو تیار کرو۔“ چنانچہ وہ اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیسری مرتبہ کہنے پر اس نے ستو تیار کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نوشِ جاں کیا، پھر اپنے دستِ مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ رکھنے والا اپنا روزہ افطار کر دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5297]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
وضاحت: باب اور حدیث میں مناسبت جاننےکے لیے آپ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5293 کے فوائد و مسائل از الشیخ محمد حسین میمن دیکھیں۔
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5298
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ"، أَوْ قَالَ:" أَذَانُهُ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي"، أَوْ قَالَ:" يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ" وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ كَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوِ الْفَجْرَ، وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنَ الْأُخْرَى.
ہم سے عبداللہ بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو (سحری کھانے سے) بلال کی پکار نہ روکے یا آپ نے فرمایا کہ ”ان کی اذان“ کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے (صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا (صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5298]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے۔ وہ تو اس لیے اذان دیتا ہے تاکہ تم میں سے تہجد پڑھنے والا اپنے گھر لوٹ آئے، اس لیے نہیں کہ فجر یا صبح ہو چکی ہے۔“ یزید بن زریع راوی نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، پھر ایک کو دوسرے پر دراز کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5298]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
وضاحت: باب اور حدیث میں مناسبت جاننےکے لیے آپ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5293 کے فوائد و مسائل از الشیخ محمد حسین میمن دیکھیں۔
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5299
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ شَيْئًا إِلَّا مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلَا يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلَّا لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا فَهُوَ يُوسِعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ"، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ.
اور لیث نے بیان کیا کہ ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور سخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے (اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ) اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5299]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل اور مال خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جنہوں نے چھاتی سے گردن تک لوہے کا لباس پہن رکھا ہے۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو اس کی زرہ جلد پر ڈھیلی ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے، بلکہ اس کے چلنے کے نشانات کو مٹا دیتی ہے، لیکن بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر چپک جاتا ہے۔ وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کھلتا نہیں ہے۔“ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5299]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
وضاحت: باب اور حدیث میں مناسبت جاننےکے لیے آپ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5293 کے فوائد و مسائل از الشیخ محمد حسین میمن دیکھیں۔
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
25. بَابُ اللِّعَانِ:
باب: لعان کا بیان۔
حدیث نمبر: Q5300
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ إِلَى قَوْلِهِ: إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6 - 9 فَإِذَا قَذَفَ الْأَخْرَسُ امْرَأَتَهُ بِكِتَابَةٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ بِإِيمَاءٍ مَعْرُوفٍ فَهُوَ كَالْمُتَكَلِّمِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَازَ الْإِشَارَةَ فِي الْفَرَائِضِ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا سورة مريم آية 29، وَقَالَ الضَّحَّاكُ: إِلا رَمْزًا سورة آل عمران آية 41 إِلَّا إِشَارَةً، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَا حَدَّ وَلَا لِعَانَ، ثُمَّ زَعَمَ: أَنَّ الطَّلَاقَ بِكِتَابٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ إِيمَاءٍ جَائِزٌ وَلَيْسَ بَيْنَ الطَّلَاقِ وَالْقَذْفِ فَرْقٌ، فَإِنْ قَالَ: الْقَذْفُ لَا يَكُونُ إِلَّا بِكَلَامٍ، قِيلَ لَهُ: كَذَلِكَ الطَّلَاقُ لَا يَجُوزُ إِلَّا بِكَلَامٍ، وَإِلَّا بَطَلَ الطَّلَاقُ وَالْقَذْفُ، وَكَذَلِكَ الْعِتْقُ وَكَذَلِكَ الْأَصَمُّ يُلَاعِنُ. وَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَقَتَادَةُ إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ. فَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ، تَبِينُ مِنْهُ بِإِشَارَتِهِ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ الأَخْرَسُ إِذَا كَتَبَ الطَّلاَقَ بِيَدِهِ لَزِمَهُ. وَقَالَ حَمَّادٌ الأَخْرَسُ وَالأَصَمُّ إِنْ قَالَ بِرَأْسِهِ جَازَ.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ النور میں) فرمایا «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ”اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس ان کی ذات کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔“ آخر آیت «من الصادقين» تک۔ اگر گونگا اپنی بیوی پر لکھ کر، اشارہ سے یا کسی مخصوص اشارہ سے تہمت لگائے تو اس کی حیثیت بولنے والے کی سی ہو گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض میں اشارہ کو جائز قرار دیا ہے اور یہی بعض اہل حجاز اور بعض دوسرے اہل علم کا فتویٰ ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فأشارت إليه قالوا كيف نكلم من كان في المهد صبيا» ”اور (مریم علیہا السلام نے) ان کی (عیسیٰ علیہ السلام) طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کس طرح گفتگو کر سکتے ہیں جو ابھی گہوارہ میں بچہ ہے۔“ اور ضحاک نے کہا کہ «إلا رمزا» بمعنی «إشارة.» ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ( «إشارة.» سے) حد اور لعان نہیں ہو سکتی ہے۔ جبکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ طلاق کتابت، اشارہ اور ایماء سے ہو سکتی ہے۔ حالانکہ طلاق اور تہمت صرف کلام ہی کے ذریعہ مانی جائے گی تو ان سے کہا جائے گا کہ پھر یہی صورت طلاق میں بھی ہونی چاہیئے اور وہ بھی صرف کلام ہی کے ذریعہ معتبر مانا جانا چاہیئے ورنہ طلاق اور تہمت (اگر اشارہ سے ہو) تو سب کو باطل ماننا چاہیئے اور (اشارہ سے غلام کی) آزادی کا بھی یہی حشر ہو گا اور یہی صورت لعان کرنے والے گونگے کے ساتھ بھی پیش آئے گی۔ اور شعبی اور قتادہ نے بیان کیا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”تجھے طلاق ہے“ اور اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا تو وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی۔ ابراہیم نے کہا کہ گونگا اگر طلاق اپنے ہاتھ سے لکھے تو وہ پڑ جاتی ہے۔ حماد نے کہا کہ گونگے اور بہرے اپنے سر سے اشارہ کریں تو جائز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5300]
حدیث نمبر: 5300
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے اور انہوں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بتاؤں کہ قبیلہ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا۔ اس کے بعد ان کا مرتبہ ہے جو ان سے قریب ہیں یعنی بنو عبدالاشہل کا، ان کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنی الحارث بن خزرج کا۔ اس کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنو ساعدہ کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی بند کی، پھر اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ کی چیز کو پھینکتا ہے پھر فرمایا کہ انصار کے ہر گھرانہ میں خیر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5300]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کی خبر نہ دوں؟“ لوگوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! ضرور بتائیں۔“ آپ نے فرمایا: ”بہترین گھرانہ بنو نجار کا ہے، پھر جو ان سے ملے ہوئے ہیں وہ بنو عبد الاشہل ہیں، اس کے بعد وہ جو ان کے قریب ہیں، یعنی بنو حارث بن خزرج، اس کے بعد وہ ہیں جو ان کے قریب ہیں یعنی بنو ساعد کا درجہ ہے۔“ پھر آپ نے اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کیا اور مٹھی بند کر کے اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ سے کوئی چیز پھینکتا ہے، پھر فرمایا: ”انصار کے تمام گھرانے ہی بہتر ہیں اور خیر و برکت سے معمور ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5300]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5301
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ، أَوْ كَهَاتَيْنِ، وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بعثت قیامت سے اتنی قریب ہے جیسے اس کی اس سے (یعنی شہادت کی انگلی بیچ کی انگلی سے) یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (راوی کو شک تھا) کہ جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5301]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت اس انگلی اور اس انگلی کی طرح ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5302
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي ثَلَاثِينَ، ثُمَّ قَالَ: وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ، يَقُولُ مَرَّةً ثَلَاثِينَ وَمَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ آپ کی مراد تیس دن سے تھی۔ پھر فرمایا اور اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا بھی ہوتا ہے۔ آپ کا اشارہ انتیس دنوں کی طرف تھا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس کی طرف اشارہ کیا اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5302]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا: ”مہینہ اتنے، اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔“ یعنی تیس دنوں کا۔ پھر فرمایا: ”اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔“ یعنی انتیس دنوں کا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس کی طرف اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5302]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ:" وَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ الْإِيمَانُ هَا هُنَا مَرَّتَيْنِ، أَلَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ برکتیں ادھر ہیں۔ دو مرتبہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں یعنی ربیعہ اور مضر میں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5303]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کر کے دو مرتبہ فرمایا: ”برکتیں ادھر ہیں، نیز سختی اور سنگ دلی ان کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کے دونوں سینگ طلوع ہوتے ہیں، یعنی ربیعہ اور مضر میں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5303]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5304
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5304]
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5304]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ إِذَا عَرَّضَ بِنَفْيِ الْوَلَدِ:
باب: جب اشاروں سے اپنی بیوی کے بچے کا انکار کرے اور صاف نہ کہہ سکے کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 5305
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنَّى ذَلِكَ؟ قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ".
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دور کے رشتہ دار پر پڑا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5305]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! میرے ہاں ایک سیاہ فام بچہ پیدا ہوا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کیا رنگ ہیں؟“ اس نے کہا: ”وہ سرخ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی سیاہی مائل بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سیاہی مائل اونٹ کیسے آ گیا؟“ اس نے کہا: ”شاید کسی رگ نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تیرے بیٹے کو کسی رگ نے کھینچ لیا ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5305]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة