صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ الْقُسْطِ لِلْحَادَّةِ عِنْدَ الطُّهْرِ:
باب: زمانہ عدت میں حیض سے پاکی کے وقت عود کا استعمال کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5341
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَطَّيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ".
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگاتے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا (دھاگا) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5341]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوائے خاوند کے، کیونکہ اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، نیز دوران سوگ میں نہ ہم سرمہ لگاتیں، نہ خوشبو استعمال کرتیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا ہی پہنتیں۔ ہاں وہ کپڑا استعمال کرنے کی اجازت تھی جس کا دھاگا بننے سے پہلے ہی سے رنگ دیا ہو۔ ہمیں اس کی بھی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض سے پاک ہوتی تو «أَظْفَار» کی تھوڑی سی کستوری استعمال کرے، نیز ہمیں جنازے کے پیچھے جانے سے روکا جاتا تھا۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: ” «الْقُسْطُ» اور «الْكُسْتُ» ایک ہی چیز ہیں، جیسے «الْكَافُورُ» اور «الْقَافُورُ» (دونوں ایک ہیں)۔ «نُبْذَةٌ» کے معنی ہیں ٹکڑا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
49. بَابُ تَلْبَسُ الْحَادَّةُ ثِيَابَ الْعَصْبِ:
باب: سوگ والی عورت یمن کے دھاری دار کپڑے پہن سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 5342
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا لَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ".
ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے وہ اس کے سوگ میں نہ سرمہ لگائے نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے مگر یمن کا دھاری دار کپڑا (جو بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5342]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ پر ایمان اور روزِ آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے شوہر کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ حلال نہیں؛ وہ سرمہ بھی نہ لگائے اور نہ رنگے ہوئے کپڑے استعمال کرے، مگر سفید سیاہ دھاری دار کپڑے پہن سکتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5343
وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ،" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَمَسَّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْقُسْطُ وَالْكُسْتُ مِثْلُ الْكَافُورِ وَالْقَافُورِ.
امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ انصاری نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ (کسی میت پر) خاوند کے سوا تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے اور (فرمایا کہ) خوشبو کا استعمال نہ کرے، سوا طہر کے وقت جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود (قسط) اور (مقام) اظفار (کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے)، ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ «قسط» اور «الكست» ایک ہی چیز ہیں، جیسے ”کافور“ اور ”قافور“ دونوں ایک ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5343]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوگ منانے والی عورت کو خوشبو استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ ہاں، حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑی سی «عُود» استعمال کر سکتی ہے۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رضی اللہ عنہ) نے کہا: ” «قُسْط» اور «كُسْت» ایک ہی چیز ہے جیسے «كَافُور» اور «قَافُور» میں کوئی فرق نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
50. بَابُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} إِلَى قَوْلِهِ: {بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ}:
باب: اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں اللہ تعالیٰ کے فرمان «بما تعملون خبير» تک، یعنی وفات کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5344
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ" وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سورة البقرة آية 234، قَالَ: كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ سورة البقرة آية 240، قَالَ: جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً، إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ سورة البقرة آية 240"، فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا زَعَمَ ذَلِكَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، وَقَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ: فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ سورة البقرة آية 234، قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ، فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا سُكْنَى لَهَا.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شبل بن عباد نے، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے آیت کریمہ «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی، پہلے واجب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں (ان پر لازم ہے کہ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک (گھر سے) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ (خود) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔“ اس باب میں جسے وہ (بیویاں) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہری رہے اور اگر چاہے (چار مہینے دس دن کی عدت) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم» تک یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ کا یہی منشا ہے۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلے تھی، اب بھی اس پر واجب ہے۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور (اسی طرح اس آیت نے) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج» یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔“ (کو بھی منسوخ کر دیا ہے)۔ عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے (شوہر کے) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلا جناح عليكم فيما فعلن» الخ، یعنی ”پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔“ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے (شوہر کی طرف سے) مکان کا انتظام نہیں ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5344]
امام مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے اس آیت کریمہ: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [سورة البقرة: 240] ”جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ کی تفسیر میں کہا کہ ”یہ عدت جو شوہر کے اہل خانہ کے پاس گزاری جاتی تھی یہ ضروری امر تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ”اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نکالا نہ جائے، ہاں، اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (نکاح) کر لیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔““ امام مجاہد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”اللہ تعالیٰ نے سات ماہ بیس دن سال پورا کرنے کے لیے وصیت میں شمار کیے ہیں۔ بیوی اگر چاہے تو وصیت کے مطابق ٹھہری رہے اور اگر چاہے تو گھر سے چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 240] ”انہیں نکالا نہ جائے اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ کے یہی معنیٰ ہیں، عدت کے ایام تو اس پر واجب ہیں جیسا کہ مجاہد رحمہ اللہ سے منقول ہے۔“ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اس آیت نے اہل خانہ کے پاس عدت گزارنے کو منسوخ کر دیا ہے، اس لیے وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔“ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» کے متعلق فرمایا: ”اگر چاہے تو عدت کے ایام اپنے (شوہر کے) گھر والوں کے پاس گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے تو وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ”تم پر اس کے متعلق کوئی گناہ نہیں جو وہ اپنی مرضی کے مطابق معروف طریقے سے کریں۔““ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”اس کے بعد میراث کے احکام نازل ہوئے تو اس نے ”رہائش“ کو بھی منسوخ کر دیا۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ شوہر کی طرف سے اس کے لیے مکان کا انتظام نہیں ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5344]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، ان سے حمید بن نافع نے بیان، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5345]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ جب انہیں اپنے والد گرامی (حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ) کے فوت ہونے کی اطلاع ملی تو (تین دن کے بعد) انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازوؤں پر لگائی، پھر فرمایا: ”مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ پر ایمان اور روزِ آخرت پر یقین رکھتی ہو وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
51. بَابُ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنِّكَاحِ الْفَاسِدِ:
باب: بیوہ کے خرچے اور نکاح فاسد کا بیان۔
حدیث نمبر: Q5346
وَقَالَ الْحَسَنُ: إِذَا تَزَوَّجَ مُحَرَّمَةً وَهُوَ لَا يَشْعُرُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَلَهَا مَا أَخَذَتْ وَلَيْسَ لَهَا غَيْرُهُ، ثُمَّ قَالَ: بَعْدُ لَهَا صَدَاقُهَا.
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص نہ جان کر کسی محرمہ عورت سے نکاح کرے تو ان کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی اور وہ کچھ مہر لے چکی ہے وہ اسی کا ہو گا۔ اس کے سوا اور کچھ اسے نہیں ملے گا، پھر اس کے بعد کہ اسے اس کا مہر مثل دیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5346]
حدیث نمبر: 5346
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، کاہن کی کمائی اور زانیہ عورت کے زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5346]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کتے کی قیمت، کاہن کی اجرت اور بدکار عورت کی کمائی“ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5346]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5347
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ الْمُصَوِّرِينَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گدوانے والی، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5347]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جسم میں سرمہ بھرنے والی، جس کے جسم میں سرمہ بھرا جائے، سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔ اسی طرح آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی سے منع فرمایا ہے، نیز تصویر بنانے والوں پر بھی لعنت کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ".
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں محمد بن جحادہ نے، انہیں ابوحازم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے زنا کی کمائی سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5348]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
52. بَابُ الْمَهْرِ لِلْمَدْخُولِ عَلَيْهَا:
باب: جس عورت سے صحبت کی اس کا پورا مہر واجب ہو جانا۔
حدیث نمبر: Q5349
وَكَيْفَ الدُّخُولُ، أَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالْمَسِيسِ.
اور صحبت کے کیا معنی ہیں اور دخول اور مساس سے پہلے طلاق دے دینے کا حکم (جماع کرنا یا خلوت ہو جانا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5349]