🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ قَوْلِ الإِمَامِ اللَّهُمَّ بَيِّنْ:
باب: امام یا حاکم لعان کے وقت یوں دعا کرے یا اللہ! جو اصل حقیقت ہے وہ کھول دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5316
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" ذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا، قَلِيلَ اللَّحْمِ، سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ، جَعْدًا، قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوءَ فِي الْإِسْلَامِ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ لعان کرنے والوں کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی (کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤں تو وہیں قتل کر ڈالوں) پھر واپس آئے تو ان کی قوم کے ایک صاحب ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس معاملہ میں میرا یہ ابتلاء میری اس بات کی وجہ سے ہوا ہے (جس کے کہنے کی جرات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی) پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت سے مطلع کیا جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور وہ جسے انہوں نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا گندمی رنگ، گھٹے جسم کا زرد، بھرے گوشت والا تھا اس کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! معاملہ صاف کر دے چنانچہ ان کی بیوی نے جو بچہ جنا وہ اسی شخص سے مشابہ تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کے پاس اسے پایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شاگرد نے مجلس میں پوچھا، کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت سنگسار کرتا تو اسے کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں۔ یہ دوسری عورت تھی جو اسلام کے زمانہ میں اعلانیہ بدکاری کیا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5316]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لعان کرنے والوں کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوا تو حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق ایک بات کہی، پھر وہ چلے گئے۔ بعد ازاں ان کے پاس ان کی برادری کا ایک شخص آیا اور ان سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ہمراہ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میری یہ آزمائش میری ہی ایک بات کی بنا پر ہوئی ہے، تاہم وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتِ حال سے آگاہ کیا جس میں اس نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت اور سیدھے بالوں والے تھے اور جسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا اس کا گندمی رنگ، پنڈلیاں موٹی موٹی، جسم بھاری بھرکم اور بال سخت گھنگریالے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» اے اللہ! حقیقتِ حال کھول دے۔ چنانچہ اس کی بیوی نے جو بچہ جنم دیا وہ اس شخص کے مشابہ تھا جسے انہوں نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان لعان کر دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگرد نے اسی مجلس میں پوچھا کہ کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو بلا شہادت سنگسار کرتا تو اسے کرتا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک دوسری عورت تھی جو زمانہ اسلام میں اعلانیہ بدکاری کا ارتکاب کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5316]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ إِذَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ الْعِدَّةِ زَوْجًا غَيْرَهُ فَلَمْ يَمَسَّهَا:
باب: جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور بیوی نے عدت گزار کر دوسرے شوہر سے شادی کی لیکن دوسرے شوہر نے اس سے صحبت نہیں کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5317
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، ثُمَّ طَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَتْ آخَرَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهُ لَا يَأْتِيهَا وَأَنَّهُ لَيْسَ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةٍ، فَقَالَ: لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، پھر انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد ایک دوسرے صاحب نے ان خاتون سے نکاح کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے دوسرے شوہر کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تو ان کے پاس آتے ہی نہیں اور یہ کہ ان کے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے (انہوں نے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم اس (دوسرے شوہر) کا مزا نہ چکھ لو اور یہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5317]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، پھر اسے طلاق دے دی تو اس نے دوسرے خاوند سے شادی کر لی، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے دوسرے خاوند کا ذکر کیا کہ وہ ان کے پاس آتا ہی نہیں، اور اس کے پاس تو کپڑے کے پلو جیسا ہے (اس نے پہلے شوہر سے نکاح کی خواہش کی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، حتیٰ کہ تو اس کا مزہ چکھ لے اور وہ تجھ سے لطف اندوز ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: {وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ}:
باب: اور آیت «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم» الخ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5318
قَالَ مُجَاهِدٌ: إِنْ لَمْ تَعْلَمُوا يَحِضْنَ أَوْ لَا يَحِضْنَ، وَاللَّائِي قَعَدْنَ عَنِ الْمَحِيضِ، وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ سورة الطلاق آية 4 فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ سورة الطلاق آية 4.
‏‏‏‏ یعنی تمہاری مطلقہ بیویوں میں سے جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو کی تفسیر مجاہد نے کہا یعنی جن عورتوں کا حال تم کو معلوم نہ ہو کہ ان کو حیض آتا ہے یا نہیں آتا۔ اسی طرح وہ عورتیں جو بڑھاپے کی وجہ سے حیض سے مایوس ہو گئی ہیں۔ اسی طرح وہ عورتیں جو نابالغی کی وجہ سے ابھی حیض والی ہی نہیں ہوئی ہیں۔ ان سب قسم کی عورتوں کی عدت تین مہینے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5318]

39. بَابُ: {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}:
باب: حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5318
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا: سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِيهِ حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَمَكُثَتْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ لَيَالٍ، ثُمَّ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْكِحِي".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، کہا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ زینب ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک خاتون جو اسلام لائی تھیں اور جن کا نام سبیعہ تھا، اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھیں، شوہر کا جب انتقال ہوا تو وہ حاملہ تھیں۔ ابوسنان بن بعکک رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کیا۔ ابوالسنابل نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک عدت کی دو مدتوں میں سے لمبی نہ گزار لوں گی، تمہارے لیے اس سے (جس سے نکاح وہ کرنا چاہتی تھیں) نکاح کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ پھر وہ (وضع حمل کے بعد) تقریباً دس دن تک رکی رہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نکاح کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5318]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کی ایک عورت جسے سبیعہ کہا جاتا تھا، ان کا شوہر فوت ہو گیا جبکہ وہ حمل سے تھیں۔ انہیں حضرت ابو السنابل رضی اللہ عنہ نے پیغامِ نکاح بھیجا تو انہوں نے نکاح سے انکار کر دیا، اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ نکاح کے قابل نہیں ہوگی جب تک دو عدتوں میں سے لمبی عدت پوری نہ کر لے، چنانچہ وہ چند راتیں ٹھہریں کہ وضعِ حمل ہو گیا۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نکاح کر سکتی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5318]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5319
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الْأَرْقَمِ أَنْ يَسْأَلَ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ،" كَيْفَ أَفْتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید نے کہ ابن شہاب نے انہیں لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ بن مسعود) سے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن الارقم کو لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ سے پوچھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کیا فتویٰ دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہو گیا تو نبی کریم نے مجھے فتویٰ دیا کہ اب میں نکاح کر لوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5319]
حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابو بن ارقم کو خط لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا فتویٰ دیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ: جب میں نے بچہ دے لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کر لینے کا فتوی دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5319]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5320
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ،" أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ، فَأَذِنَ لَهَا، فَنَكَحَتْ".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسور بن مخرمہ نے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5320]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے چند روز بعد بچہ جنم دیا۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نکاح کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کی اجازت دے دی، پھر انہوں نے نکاح کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5320]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ}:
باب: اللہ کا یہ فرمانا کہ ”مطلقہ عورتیں اپنے کو تین طہر یا تین حیض تک روکے رکھیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5321-2
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ فِيمَنْ تَزَوَّجَ فِي الْعِدَّةِ فَحَاضَتْ عِنْدَهُ ثَلَاثَ حِيَضٍ بَانَتْ مِنَ الْأَوَّلِ وَلَا تَحْتَسِبُ بِهِ لِمَنْ بَعْدَهُ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: تَحْتَسِبُ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ يَعْنِي قَوْلَ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ مَعْمَرٌ: يُقَالُ: أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا دَنَا حَيْضُهَا وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُهْرُهَا، وَيُقَالُ: مَا قَرَأَتْ بِسَلًى قَطُّ إِذَا لَمْ تَجْمَعْ وَلَدًا فِي بَطْنِهَا".
‏‏‏‏ اور ابراہیم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے کسی عورت سے عدت ہی میں نکاح کر لیا اور پھر وہ اس کے پاس تین حیض کی مدت گزرنے تک رہی کہ اس کے بعد وہ پہلے ہی شوہر سے جدا ہو گی۔ (اور یہ صرف اس کی عدت سمجھی جائے گی) دوسرے نکاح کی عدت کا شمار اس میں نہیں ہو گا لیکن زہری نے کہا کہ اسی میں دوسرے نکاح کی عدت کا شمار بھی ہو گا، یہی یعنی زہری کا قول سفیان کو زیادہ پسند تھا۔ معمر نے کہا کہ «أقرأت المرأة» اس وقت بولتے ہیں جب عورت کا حیض قریب ہو۔ اسی طرح «أقرأت» اس وقت بھی بولتے ہیں جب عورت کا طہر قریب ہو، جب کسی عورت کے پیٹ میں کبھی کوئی حمل نہ ہوا ہو تو اس کے لیے عرب کہتے ہیں «ما قرأت بسلى قط» یعنی اس کو کبھی پیٹ نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5321-2]

41. بَابُ قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ:
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5321
وَقَوْلِ اللَّهِ: وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1 أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِنْ كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ إِلَى قَوْلِهِ: بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا سورة الطلاق آية 1 - 7.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اپنے پروردگار اللہ سے ڈرتے رہو، انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، بجز اس صورت کے کہ وہ کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدود سے بڑھے گا، اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ تجھے خبر نہیں شاید کہ اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ ان مطلقات کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے انہیں تکلیف مت پہنچاؤ اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو انہیں خرچ بھی دیتے رہو۔ ان کے حمل کے پیدا ہونے تک۔ آخر آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد «بعد عسر يسرا‏» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5321]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5321
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ،" أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ: اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا"، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ: إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی (عمرہ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے (شوہر کے) گھر سے لے آئے (عدت کے ایام گزرنے سے پہلے)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر (جہاں اسے طلاق ہوئی ہے) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ (مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ (انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا (کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا)۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک (فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں (میاں بیوی) کے درمیان کشیدگی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5321]
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق دے دی تو عبدالرحمن اپنی بیٹی کو وہاں سے لے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کو، جو مدینہ طیبہ کا گورنر تھا، پیغام بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو واپس اس کے گھر بھیج دو۔ مروان نے جواب دیا کہ اس کا باپ عبدالرحمن مجھ پر غالب آ گیا ہے (میری بات نہیں مانتا)۔ نیز کہا کہ کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خبر نہیں پہنچی؟ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اگر تو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر نہ کرے تو تجھے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ مروان بن حکم نے کہا: اگر آپ کے نزدیک یہ باہمی کشیدگی کی وجہ سے ایسا ہوا تو یہاں بھی یہی وجہ کار فرما ہے کہ دونوں میاں بیوی کے درمیان کشیدگی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5321]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5322
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ،" أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ: اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا"، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ: إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی (عمرہ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے (شوہر کے) گھر سے لے آئے (عدت کے ایام گزرنے سے پہلے)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر (جہاں اسے طلاق ہوئی ہے) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ (مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ (انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا (کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا)۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک (فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں (میاں بیوی) کے درمیان کشیدگی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5322]
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق دے دی تو عبدالرحمن اپنی بیٹی کو وہاں سے لے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کو، جو مدینہ طیبہ کا گورنر تھا، پیغام بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو واپس اس کے گھر بھیج دو۔ مروان نے جواب دیا کہ اس کا باپ عبدالرحمن مجھ پر غالب آ گیا ہے (میری بات نہیں مانتا)، نیز کہا کہ آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خبر نہیں پہنچی؟ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اگر تو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر نہ کرے تو تجھے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ مروان بن حکم نے کہا: اگر آپ کے نزدیک یہ باہمی کشیدگی کی وجہ سے ایسا ہوا تو یہاں بھی یہی وجہ کار فرما ہے کہ دونوں میاں بیوی کے درمیان کشیدگی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5322]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں