🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ:
باب: اگر کسی نے تین طلاق دے دی تو جس نے کہا کہ تینوں طلاق پڑ جائیں گی اس کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عویمر العجانی رضی اللہ عنہ عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے، اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو دیکھے تو کیا اسے وہ قتل کر سکتا ہے؟ لیکن پھر تم قصاص میں اسے (شوہر کو) بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے گا؟ عاصم میرے لیے یہ مسئلہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ دیجئیے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات عاصم رضی اللہ عنہ پر گراں گزرے اور جب وہ واپس اپنے گھر آ گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے پوچھا کہ بتائیے آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ عاصم نے اس پر کہا تم نے مجھ کو آفت میں ڈالا۔ جو سوال تم نے پوچھا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا۔ عویمر نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر میں باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو پا لیتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن اس صورت میں آپ اسے قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر دونوں (میاں بیوی) نے لعان کیا۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھا۔ لعان سے جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاق دی۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والے کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5259]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر سکتا ہے، اس صورت میں تم اس (شوہر) کو بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ (شوہر) کیا کرے؟ اے عاصم! میرے لیے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر بتاؤ۔ چنانچہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جب یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا جو کہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے سنے تھے۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے پوچھا: اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا ہے؟ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے تو مجھے آفت میں ڈال دیا ہے کیونکہ جو سوال تم نے پوچھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ناگوار گزرا۔ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھے بغیر نہیں رہوں گا، چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے۔ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو پائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسے قتل کر دے؟ اس صورت میں لوگ اسے بھی قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں وحی نازل فرمائی ہے۔ اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا، میں اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر (اب بھی) میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب یہ ہے کہ) میں نے اس پر جھوٹ بولا تھا، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قبل ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں۔ ابن شہاب نے کہا: پھر لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5259]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5260
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي نَكَحْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيَّ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! رفاعہ نے مجھے طلاق دے دی تھی اور طلاق بھی بائن، پھر میں نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا لیکن ان کے پاس تو کپڑے کے پلو جیسا ہے (یعنی وہ نامرد ہیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اپنے موجودہ شوہر کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5260]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! رفاعہ رضی اللہ عنہ نے مجھے طلاق دی ہے وہ بھی ایسی جس سے ہمارے تعلقات ختم ہو گئے ہیں، میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا ہے۔ اس کے پاس کپڑے کے پھندے کی طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو؟ لیکن اب تو اس کے پاس نہیں جا سکتی تا آنکہ وہ تیرا مزا نہ چکھ لے اور تو اس سے لطف اندوز نہ ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5260]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5261
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ، فَطَلَّقَ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر عمری نے، کہا کہ مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی۔ ان کی بیوی نے دوسری شادی کر لی، پھر دوسرے شوہر نے بھی (ہمبستری سے پہلے) انہیں طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا پہلا شوہر اب ان کے لیے حلال ہے (کہ ان سے دوبارہ شادی کر لیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، یہاں تک کہ وہ یعنی شوہر ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5261]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اس کی بیوی نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا، دوسرے خاوند نے بھی اسے طلاق دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا پہلے شوہر کے لیے اب یہ عورت حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر اس سے لطف اندوز ہو جیسا کہ پہلا شوہر ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5261]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَنْ خَيَّرَ نِسَاءَهُ:
باب: جس نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5262
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا سورة الأحزاب آية 28.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الاحزاب میں) فرمان «قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعكن وأسرحكن سراحا جميلا‏» کہ آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کا مزہ چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ متاع (دنیوی) دے دلا کر اچھی طرح سے رخصت کر دوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5262]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5262
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن صبیح نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا اور ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو ہی پسند کیا تھا لیکن اس کا ہمارے حق میں کوئی شمار (طلاق) میں نہیں ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5262]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کا انتخاب کیا، پس اس (اختیار دینے) کو کچھ بھی شمار نہ کیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5262]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5263
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ؟ فَقَالَتْ:" خَيَّرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَكَانَ طَلَاقًا؟" قَالَ مَسْرُوقٌ: لَا أُبَالِي أَخَيَّرْتُهَا وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اختیار کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا محض یہ اختیار طلاق بن جاتا۔ مسروق نے کہا کہ اختیار دینے کے بعد اگر تم مجھے پسند کر لیتی ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، چاہے میں ایک مرتبہ اختیار دوں یا سو مرتبہ (طلاق نہیں ہو گی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5263]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تخییر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا، تو کیا محض یہ اختیار طلاق بن جاتا؟ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے کہا: اگر اختیار کے بعد عورت میرا انتخاب کرے تو مجھے کوئی پروا نہیں، چاہے میں ایک مرتبہ دوں یا سو مرتبہ۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5263]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ إِذَا قَالَ فَارَقْتُكِ أَوْ سَرَّحْتُكِ:
باب: جب کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں جدا کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5264-2
أَوِ الْخَلِيَّةُ أَوِ الْبَرِيَّةُ أَوْ مَا عُنِيَ بِهِ الطَّلاَقُ، فَهُوَ عَلَى نِيَّتِهِ، وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا سورة الأحزاب آية 49، وَقَالَ: وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا سورة الأحزاب آية 28، وَقَالَ: فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229، وَقَالَ: أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ سورة الطلاق آية 2، وَقَالَتْ عَائِشَةُ:" قَدْ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ".
‏‏‏‏ یا میں نے رخصت کیا، یا یوں کہے کہ اب تو خالی ہے یا الگ ہے کہ آؤ میں تم کو اچھی طرح سے رخصت کر دوں۔ اسی طرح سورۃ البقرہ میں فرمایا اسی طرح کا کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جس سے طلاق بھی مراد لی جا سکتی ہے تو اس کی نیت کے مطابق طلاق ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے «وسرحوهن سراحا جميلا‏» انہیں خوبی کے ساتھ رخصت کر دو اور اسی سورت میں فرمایا «فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان‏ا‏» اس کے بعد یا تو رکھ لینا ہے قاعدہ کے مطابق یا خوش اخلاقی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب معلوم تھا کہ میرے والدین (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) «فراق» کا مشورہ دے ہی نہیں سکتے (یہاں «فراق» سے طلاق مراد ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5264-2]

7. بَابُ مَنْ قَالَ لاِمْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ:
باب: جس نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5264
وَقَالَ الْحَسَنُ: نِيَّتُهُ، وَقَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ: إِذَا طَلَّقَ ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ فَسَمَّوْهُ حَرَامًا بِالطَّلَاقِ وَالْفِرَاقِ وَلَيْسَ هَذَا كَالَّذِي يُحَرِّمُ الطَّعَامَ لِأَنَّهُ لَا يُقَالُ لِطَعَامِ الْحِلِّ حَرَامٌ، وَيُقَالُ لِلْمُطَلَّقَةِ حَرَامٌ، وَقَالَ: فِي الطَّلَاقِ ثَلَاثًا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.
‏‏‏‏ امام حسن بصری نے کہا کہ اس صورت میں فتویٰ اس کی نیت پر ہو گا اور اہل علم نے یوں کہا ہے کہ جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی۔ یہاں طلاق اور «فراق» کے الفاظ کے ذریعہ حرمت ثابت کی اور عورت کو اپنے اوپر حرام کرنا کھانے کو حرام کی طرح نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حلال کھانے کو حرام نہیں کہہ سکتے اور طلاق والی عورت کو حرام کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تین طلاق والی عورت کے لیے یہ فرمایا کہ وہ اگلے خاوند کے لیے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5264]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5264
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا، قَالَ: لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا، حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ".
اور لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر ایسے شخص کا مسئلہ پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہوتی، تو وہ کہتے اگر تو ایک بار یا دو بار طلاق دیتا تو رجوع کر سکتا تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایسا ہی حکم دیا تھا لیکن جب تو نے تین طلاق دے دی تو وہ عورت اب تجھ پر حرام ہو گئی یہاں تک کہ وہ تیرے سوا اور کسی شخص سے نکاح کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5264]
حضرت نافع سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جب ایسے شخص کے متعلق مسئلہ پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوتیں تو وہ کہتے: اگر ایک بار دو بار طلاق دیتا تو رجوع کر سکتا تھا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسا ہی حکم دیا تھا۔ لیکن جب تو نے تین طلاقیں دے دیں تو وہ عورت اب تجھ پر حرام ہو گئی حتی کہ وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5264]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ، فَلَمْ تَصِلْ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ تُرِيدُهُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ طَلَّقَهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِي وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ يَقْرَبْنِي إِلَّا هَنَةً وَاحِدَةً لَمْ يَصِلْ مِنِّي إِلَى شَيْءٍ، فَأَحِلُّ لِزَوْجِي الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلِّينَ لِزَوْجِكِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک شخص رفاعی نے اپنی بیوی (تمیمہ بنت وہب) کو طلاق دے دی، پھر ایک دوسرے شخص سے ان کی بیوی نے نکاح کیا لیکن انہوں نے بھی ان کو طلاق دے دی۔ ان دوسرے شوہر کے پاس کپڑے کے پلو کی طرح تھا۔ عورت کو اس سے پورا مزہ جیسا وہ چاہتی تھی نہیں ملا۔ آخر عبدالرحمٰن نے تھوڑے ہی دنوں رکھ کر اس کو طلاق دے دی۔ اب وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تھی، پھر میں نے ایک دوسرے مرد سے نکاح کیا۔ وہ میرے پاس تنہائی میں آئے لیکن ان کے ساتھ تو کپڑے کے پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ کل ایک ہی بار اس نے مجھ سے صحبت کی وہ بھی بیکار (دخول ہی نہیں ہوا اوپر ہی اوپر چھو کر رہ گیا) کیا اب میں اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک دوسرا خاوند تیری شیرینی نہ چکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5265]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس نے کسی دوسرے آدمی سے شادی کر لی، پھر اس نے بھی اسے طلاق دے دی۔ اس دوسرے شوہر کے پاس کپڑے کے پلو کی طرح تھا۔ عورت کو اس سے پورا مزا نہ ملا جیسا کہ وہ چاہتی تھی۔ آخر اس نے تھوڑے ہی دن رک کر اسے طلاق دے دی۔ وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تھی۔ پھر میں نے ایک دوسرے شخص سے نکاح کیا۔ جب وہ میرے پاس آیا تو اس کے پاس کپڑے کے پلو کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ وہ ایک ہی مرتبہ میرے پاس آیا اور وہ بھی بے کار۔ کیا اب میں پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی حتیٰ کہ دوسرا تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے لطف اندوز ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5265]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں