صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ خِيَارِ الأَمَةِ تَحْتَ الْعَبْدِ:
باب: اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے۔
حدیث نمبر: 5281
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلَانٍ يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي عَلَيْهَا".
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے۔ آپ کا اشارہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی طرف تھا۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5281]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ یعنی حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر مغیث تھا جو فلاں قبیلے کا غلام تھا۔ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ طیبہ کے گلی کوچوں میں ان کے پیچھے روتا پھرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5281]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5282
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ عَبْدًا لِبَنِي فُلَانٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا مغیث نام تھا، وہ بنی فلاں کے غلام تھے۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5282]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام غلام تھا جسے مغیث کہا جاتا تھا وہ بنو فلاں کا غلام تھا۔ گویا میں اسے اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ طیبہ کے راستوں میں حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے گھومتا پھرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5282]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ:
باب: بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا۔
حدیث نمبر: 5283
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ: يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَاجَعْتِهِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5283]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا۔ گویا وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتے ہوئے گھوم رہے تھے اور ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی حضرت بریرہ سے محبت اور حضرت بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں؟“ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اب بھی مغیث کے متعلق فیصلہ بدل لو۔“ انہوں نے عرض کی، یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ اس پر حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”مجھے مغیث کے پاس رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5283]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 5284
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ،" أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ". حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَزَادَ: فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں حکم نے، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء (آزادی کے بعد) انہیں سے قائم ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو۔ ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے۔ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر (آزادی کے بعد) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5284]
حضرت اسود رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا تو بریرہ رضی اللہ عنہا کے آقاؤں نے انکار کر دیا۔ وہ ولاء اپنے لیے ہونے کی شرط لگاتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم بریرہ کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو اس کے لیے ہے جو اسے آزاد کرے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا: یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا، ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ شعبہ کی ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5284]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے۔
حدیث نمبر: 5285
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ، وَالْيَهُودِيَّةِ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْمُشْرِكَاتِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا أَعْلَمُ مِنَ الْإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنْ أَنْ تَقُولَ الْمَرْأَةُ: رَبُّهَا عِيسَى وَهُوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر یہودی یا انصاری عورتوں سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح مومنوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گا کہ ایک عورت یہ کہے کہ اس کے رب عیسیٰ علیہ السلام ہیں حالانکہ وہ اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5285]
حضرت نافع سے روایت ہے کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نصرانیہ اور یہودیہ عورت سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے مشرک عورت سے نکاح حرام قرار دیا ہے اور میں اس سے بڑا کوئی شرک نہیں جانتا کہ کوئی عورت کہے کہ اس کا رب عیسیٰ ہے، حالانکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5285]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ نِكَاحِ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكَاتِ وَعِدَّتِهِنَّ:
باب: اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5286
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ عَطَاءٌ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ، كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لَا يُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ"، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ: وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت (اسلام قبول کرنے کے بعد) ہجرت کر کے (مدینہ منورہ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا، پھر اگر ان کے شوہر بھی، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5286]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”مشرکین، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے نزدیک دو طرح کے تھے: ایک حربی مشرک جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرتے تھے اور مشرک آپ سے جنگ کرتے تھے اور دوسرے معاہدہ کرنے والے مشرک جن سے نہ آپ لڑتے اور نہ وہ آپ سے جنگ کرتے تھے۔ جب اہل حرب سے کوئی عورت ہجرت کر کے آتی تھی تو اسے پیغامِ نکاح نہ بھیجا جاتا یہاں تک کہ اسے حیض آتا، پھر وہ اس سے پاک ہو جاتی۔ جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو اس سے نکاح کرنا حلال ہو جاتا۔ اگر اس کے نکاح کرنے سے پہلے اس کا شوہر بھی مسلمان ہو جاتا اور ہجرت کر کے آ جاتا تو وہ اسے واپس کر دی جاتی۔ اگر ان میں سے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو دونوں آزاد ہوتے اور انہیں دوسرے مہاجر مسلمانوں کے برابر مقام ملتا۔“ عطاء رحمہ اللہ نے مشرکین اہل عہد کا حال حضرت مجاہد رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا: ”اور اگر مشرکین اہل عہد سے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو وہ مشرکین کو واپس نہ کیے جاتے بلکہ ان کی قیمت ادا کی جاتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5286]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5287
وَقَالَ عَطَاءٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ، فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمانَ الثَّقَفِيُّ.
اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے (مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی (اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آ گئیں) اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5287]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ”قریبہ بنت ابوامیہ رضی اللہ عنہا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، انہوں نے انہیں طلاق دے دی تو ان سے معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا اور ام حکم بنت سفیان رضی اللہ عنہا، عیاض بن غنم فہری رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، انہوں نے انہیں طلاق دی تو ان سے عبداللہ بن عثمان ثقفی رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ إِذَا أَسْلَمَتِ الْمُشْرِكَةُ أَوِ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الذِّمِّيِّ أَوِ الْحَرْبِيِّ:
باب: اس بیان میں کہ جب مشرک یا نصرانی عورت جو معاہد مشرک یا حربی مشرک کے نکاح میں ہو اسلام لائے۔
حدیث نمبر: Q5288
وَقَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ: عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" إِذَا أَسْلَمَتِ النَّصْرَانِيَّةُ قَبْلَ زَوْجِهَا بِسَاعَةٍ حَرُمَتْ عَلَيْهِ".
اور عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ اگر کوئی نصرانی عورت اپنے شوہر سے تھوڑی دیر پہلے اسلام لائی تو وہ اپنے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے اور داؤد نے بیان کیا کہ ان سے ابراہیم الصائغ نے کہ عطاء سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جو ذمی قوم سے تعلق رکھتی ہو اور اسلام قبول کر لے، پھر اس کے بعد اس کا شوہر بھی اس کی عدت کے زمانہ ہی میں اسلام لے آئے تو کیا وہ اسی کی بیوی سمجھی جائے گی؟ فرمایا کہ نہیں البتہ اگر وہ نیا نکاح کرنا چاہے، نئے مہر کے ساتھ (تو کر سکتا ہے) مجاہد نے فرمایا کہ (بیوی کے اسلام لانے کے بعد) اگر شوہر اس کی عدت کے زمانہ میں ہی اسلام لے آیا تو اس سے نکاح کر لینا چاہیئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن» کہ ”نہ مومن عورتیں مشرک مردوں کے لیے حلال ہیں اور نہ مشرک مرد مومن عورتوں کے لیے حلال ہیں۔“ اور حسن اور قتادہ نے دو مجوسیوں کے بارے میں (جو میاں بیوی تھے) جو اسلام لے آئے تھے، کہا کہ وہ دونوں اپنے نکاح پر باقی ہیں اور اگر ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے (اسلام میں) سبقت کر جائے اور دوسرا انکار کر دے تو عورت اپنے شوہر سے جدا ہو جاتی ہے اور شوہر اسے حاصل نہیں کر سکتا (سوا نکاح جدید کے) اور ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ مشرکین کی کوئی عورت (اسلام قبول کرنے کے بعد) اگر مسلمانوں کے پاس آئے تو کیا اس کے مشرک شوہر کو اس کا مہر واپس کر دیا جائے گا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «وأتوهم ما أنفقوا» ”اور انہیں وہ واپس کر دو جو انہوں نے خرچ کیا ہو۔“ عطاء نے فرمایا کہ نہیں، یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور معاہد مشرکین کے درمیان تھا اور مجاہد نے فرمایا کہ یہ سب کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان باہمی صلح کی وجہ سے تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5288]
حدیث نمبر: 5288
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ سورة الممتحنة آية 10 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ، قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ، لَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ بَايَعَهُنَّ بِالْكَلَامِ، وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ: يَقُولُ لَهُنَّ: إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ كَلَامًا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» کہ ”اے وہ لوگو! جو ایمان لے آئے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ“۔ آخر آیت تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ان (ہجرت کرنے والی) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی (جس کا ذکر اسی سورۃ الممتحنہ میں ہے کہ ”اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی“) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں! واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے (بیعت لیتے وقت) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے (بیعت لیتے تھے)۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5288]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اہل ایمان خواتین ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا امتحان لیتے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”اے ایمان والو! جب مومن خواتین تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو۔۔۔۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مومنات میں سے جو جو عورت اس شرط کا اقرار کر لیتی وہ امتحان میں کامیاب خیال کی جاتی، چنانچہ جب وہ اس شرط کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے: ”اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔“ اللہ کی قسم! بیعت لیتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی (کسی عورت کے ہاتھ کو) نہیں چھوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان خواتین سے زبانی کلامی بیعت لیتے تھے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف ان چیزوں پر عہد لیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے: ”میں نے تم سے بیعت لے لی ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے کہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5288]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
21. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ} إِلَى قَوْلِهِ: {سَمِيعٌ عَلِيمٌ} {فَإِنْ فَاءُوا} رَجَعُوا:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں فرمانا کہ) ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مدت مقرر ہے، آخر آیت «سميع عليم» تک، «فاءوا» کے معنی قسم توڑ دیں اپنی بیوی سے صحبت کریں۔
حدیث نمبر: 5289
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید طویل نے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5289]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم اٹھائی۔ ان دنوں آپ کے پاؤں کو موچ بھی آ گئی تھی۔ آپ بالاخانے میں انتیس دن تک ٹھہرے رہے پھر اترے تو حاضرین نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک ماہ تک بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھائی تھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5289]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة