🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ الْخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ:
باب: خلع کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5273
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: الظَّالِمُونَ سورة البقرة آية 229 وَأَجَازَ عُمَرُ الْخُلْعَ دُونَ السُّلْطَانِ، وَأَجَازَ عُثْمَانُ الْخُلْعَ دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا، وَقَالَ طَاوُسٌ: إِلا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ سورة البقرة آية 229 فِيمَا افْتَرَضَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْعِشْرَةِ وَالصُّحْبَةِ، وَلَمْ يَقُلْ قَوْلَ السُّفَهَاءِ: لَا يَحِلُّ حَتَّى تَقُولَ: لَا أَغْتَسِلُ لَكَ مِنْ جَنَابَةٍ.
‏‏‏‏ اور خلع میں طلاق کیونکر پڑے گی؟ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا «ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا‏» کہ اور تمہارے لیے (شوہروں کے لیے) جائز نہیں کہ جو (مہر) تم انہیں (اپنی بیویوں کو) دے چکے ہو، اس میں سے کچھ بھی واپس لو، سوا اس صورت کے جبکہ زوجین اس کا خوف محسوس کریں کہ وہ (ایک ساتھ رہ کر) اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خلع جائز رکھا ہے۔ اس میں بادشاہ یا قاضی کے حکم کی ضرورت نہیں ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر جورو اپنے سارے مال کے بدلہ میں خلع کرے صرف جوڑا باندھنے کا دھاگہ رہنے دے تب بھی خلع کرانا درست ہے۔ طاؤس نے کہا کہ «إلا أن يخافا أن لا يقيما حدود الله‏» کا یہ مطلب ہے کہ جب جورو اور خاوند اپنے اپنے فرائض کو جو حسن معاشرت اور صحبت سے متعلق ہیں ادا نہ کر سکیں (اس وقت خلع کرانا درست ہے)۔ طاؤس نے ان بیوقوفوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ خلع اسی وقت درست ہے جب عورت کہے کہ میں جنابت یا حیض سے غسل ہی نہیں کروں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5273]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5273
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَا يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ہم سے ازہر بن جمیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ (کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی)۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5273]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر سکتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: باغ قبول کر کے اس کو آزاد کر دو۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ: اس روایت میں «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» کا ذکر کرنے میں ازہر بن جمیل کی متابعت نہیں کی گئی (بلکہ اس طریق سے دوسروں نے مرسل روایت بیان کی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5273]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5274
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ،" أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بِهَذَا، وَقَالَ: تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْهَا، وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا". وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَطَلِّقْهَا.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی (منافق) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا (جو ابی کی بیٹی تھی) نے یہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان (ثابت رضی اللہ عنہ) کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (اس روایت میں بیان کیا کہ) ان کے شوہر (ثابت رضی اللہ عنہ) نے انہیں طلاق دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5274]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی کی بہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ پھر یہ حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کا باغ واپس کرے گی؟ عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ اس نے باغ واپس کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے آزاد کر دے۔ ابراہیم بن طہمان رحمہ اللہ نے خالد رحمہ اللہ عن عکرمہ رحمہ اللہ کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے طلاق دے دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5274]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5275
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ".
اور ابن ابی تمیمہ سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5275]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کے دین اور ان کے اخلاق کے متعلق کوئی شکایت نہیں، لیکن میں اس کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا تم اس کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5275]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5276
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ إِلَّا أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخری نے کہا، کہا ہم سے قراد ابونوح نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ثابت کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے (کہ میں ثابت رضی اللہ عنہ کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5276]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی دینداری اور ان کے اچھے خلق کا انکار نہیں کرتی، لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے ناسپاسی اور ناشکری سے ڈرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کا باغ اسے واپس کر دے گی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ اس نے ان کا باغ واپس کر دیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے جدا کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5276]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5277
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے یہی قصہ (مرسلاً) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5277]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا: اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5277]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ الشِّقَاقِ وَهَلْ يُشِيرُ بِالْخُلْعِ عِنْدَ الضَّرُورَةِ:
باب: میاں بیوی میں نااتفاقی کا بیان اور ضرورت کے وقت خلع کا حکم دینا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5277
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِلَى قَوْلِهِ: خَبِيرًا سورة النساء آية 35.
‏‏‏‏ اور اللہ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا «وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها» اگر تم میاں بیوی کی نااتفاقی سے ڈرو تو ایک پنچ مرد والوں میں سے بھیجو اور ایک پنچ عورت کی طرف سے مقرر کرو۔ (آخر آیت تک)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5277]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5278
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، فَلَا آذَنُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5278]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بنو مغیرہ نے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیں لیکن میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5278]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ لاَ يَكُونُ بَيْعُ الأَمَةِ طَلاَقًا:
باب: اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5279
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ؟ قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ: عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5279]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا تو انہیں اپنے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء کا حق دار وہی ہے جو اسے آزاد کرے۔ تیسرا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لائے تو ایک ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا لیکن جب کھانا پیش کیا گیا تو روٹی اور گھر کا سالن ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ہنڈیا نہیں دیکھ رہا جس میں گوشت تھا؟ اہل خانہ نے عرض کی: جی ہاں، لیکن وہ گوشت حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقے میں ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (بریرہ رضی اللہ عنہا) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5279]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ خِيَارِ الأَمَةِ تَحْتَ الْعَبْدِ:
باب: اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5280
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر (مغیث) سے تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5280]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اسے یعنی بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو بحالت غلام دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5280]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں