بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْآنِيَةِ
برتنوں کا بیان
حدیث نمبر: 21
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن قدح النبي صلى الله عليه وآله وسلم انكسر فاتخذ مكان الشعب سلسلة من فضة. أخرجه البخاري.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ٹوٹی جگہ پر چاندی کا تار لگوا دیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 21]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو: – «أَنَّ» کہ بیشک – «قَدَحَ» پیالہ – «النَّبِيِّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو – «انْكَسَرَ» ٹوٹ گیا – «فَاتَّخَذَ» تو آپ نے لگا لی – «مَكَانَ» جگہ پر – «الشَّعْبِ» دراڑ (ٹوٹنے کی) – «سِلْسِلَةً» ایک زنجیر (تار) – «مِنْ» سے – «فِضَّةٍ» چاندی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹوٹنے کی جگہ (دراڑ) پر چاندی کی تار لگا لی۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 21]
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹوٹنے کی جگہ (دراڑ) پر چاندی کی تار لگا لی۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، فرض الخُمُس، باب ما ذكر من درع النبي صلي الله عليه وسلم وعصاه وسيفه وقدحه وخاتمه، حديث:3109.»
الحكم على الحديث:
صحيح
3. باب إزالة النجاسة وبيانها
نجاست کی تفصیل اور اسے دور کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 22
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الخمر: تتخذ خلا؟ فقال: «لا» . أخرجه مسلم والترمذي، وقال: حسن صحيح.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب سے سرکہ بنانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم و ترمذی) اور ترمذی نے اسے حسن اور صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 22]
«عَنْ» سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سُئِلَ» پوچھا گیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو – «عَنِ» بارے میں – «الْخَمْرِ» شراب کے: – «تُتَّخَذُ» (کیا) اسے بنایا جا سکتا ہے – «خَلًّا» سرکہ؟ – «فَقَالَ» تو (آپ نے) فرمایا: – «لَا» نہیں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) – «مُسْلِمٌ» مسلم – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے، – «وَقَالَ» اور (ترمذی نے) کہا: – «حَسَنٌ» حسن ہے – «صَحِيحٌ» صحیح ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شراب کے بارے میں پوچھا گیا: کیا اسے سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اسے مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے کہا: یہ حسن صحیح ہے [بلوغ المرام/حدیث: 22]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شراب کے بارے میں پوچھا گیا: کیا اسے سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اسے مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے کہا: یہ حسن صحیح ہے [بلوغ المرام/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الأشربة، باب تحريم تخليل الخمر، حديث:1983، والترمذي، البيوع، حديث:1294.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 23
وعنه رضي الله عنه قال: لما كان يوم خيبر أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أبا طلحة فنادى: أن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية، فإنها رجس. متفق عليه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ جس روز غزوہ خیبر تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ کو حکم دیا (کہ لوگوں کو مطلع کر دیں) انہوں نے باآواز بلند اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں تمہیں گھریلو گدھوں کے گوشت کو کھانے سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ «رجس» (ناپاک) ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 23]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَمَّا» جب – «كَانَ» تھا – «يَوْمُ» دن – «خَيْبَرَ» خیبر کا – «أَمَرَ» حکم دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو – «أَبَا طَلْحَةَ» ابو طلحہ کو – «فَنَادَى» تو انہوں نے اعلان کیا: – «أَنَّ» کہ بیشک – «اللَّهَ» اللہ – «وَرَسُولَهُ» اور اس کا رسول – «يَنْهَيَانِكُمْ» تم دونوں کو منع کرتے ہیں – «عَنْ» سے – «لُحُومِ» گوشت – «الْحُمُرِ» گدھوں – «الْأَهْلِيَّةِ» پالتو، – «فَإِنَّهَا» کیونکہ بیشک وہ – «رِجْسٌ» ناپاک ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا انس بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب خیبر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طلحہ کو حکم دیا تو انہوں نے اعلان کیا: ”بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔“ متفق علیہ (بخاری و مسلم)۔ [بلوغ المرام/حدیث: 23]
اور انہی (سیدنا انس بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب خیبر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طلحہ کو حکم دیا تو انہوں نے اعلان کیا: ”بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔“ متفق علیہ (بخاری و مسلم)۔ [بلوغ المرام/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجهاد، باب التكبير عند الحرب، حديث:2991، ومسلم، الصيد والذبائح، باب تحريم أكل الحمر الإنسية، حديث:1940.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 24
وعن عمرو بن خارجة رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بمنى وهو على راحلته، ولعابها يسيل على كتفي.أخرجه أحمد والترمذي وصححه.
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر مقام منی میں ہمیں خطاب فرمایا اور اس اونٹنی کا لعاب دہن میرے کندھوں پر بہتا تھا۔ (احمد و ترمذی) اور ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 24]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ» عمرو بن خارجہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَطَبَنَا» ہمیں خطبہ دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو – «بِمِنًى» منیٰ میں – «وَهُوَ» اور وہ (اس حال میں کہ) – «عَلَى» پر (سوار) تھے – «رَاحِلَتِهِ» اپنی سواری (اونٹنی)، – «وَلُعَابُهَا» اور اس (اونٹنی) کا لعاب (رال) – «يَسِيلُ» بہہ رہا تھا – «عَلَى» پر – «كَتِفِي» میرے کندھے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا درآں حالیکہ آپ اپنی سواری (اونٹنی) پر سوار تھے، اور اس کا لعاب (رال) میرے کندھے پر بہہ رہا تھا۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 24]
اور سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا درآں حالیکہ آپ اپنی سواری (اونٹنی) پر سوار تھے، اور اس کا لعاب (رال) میرے کندھے پر بہہ رہا تھا۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الوصايا، باب ماجاء لا وصية لوارث، حديث:2121، وأحمد: 4 /187،186 و 239،238، وابن ماجه، الوصايا، حديث:2712، والنسائي، الوصايا، حديث: 3672.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 25
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يغسل المني ثم يخرج إلى الصلاة في ذلك الثوب، وأنا أنظر إلى أثر الغسل فيه. متفق عليه.ولمسلم: لقد كنت أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فركا، فيصلي فيه. وفي لفظ له: لقد كنت أحكه يابسا بظفري من ثوبه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کپڑے پر لگی ہوئی) منی کو دھویا کرتے تھے۔ پھر اسی کپڑے کو زیب تن فرما کر نماز پڑھ لیتے تھے اور میں دھونے کے نشان اور اثر کو صاف طور پر (اپنی آنکھوں سے) دیکھتی تھی۔ (بخاری و مسلم)
اور مسلم کی روایت میں ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کپڑے میں نماز ادا فرما لیتے تھے۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جب منی خشک ہو جاتی تو میں اپنے ناخن سے اسے کھرچ کر کپڑے سے اتار دیتی۔ [بلوغ المرام/حدیث: 25]
اور مسلم کی روایت میں ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کپڑے میں نماز ادا فرما لیتے تھے۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جب منی خشک ہو جاتی تو میں اپنے ناخن سے اسے کھرچ کر کپڑے سے اتار دیتی۔ [بلوغ المرام/حدیث: 25]
| 25 | «وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو – «يَغْسِلُ» دھوتے – «الْمَنِيَّ» منی کو – «ثُمَّ» پھر – «يَخْرُجُ» نکلتے – «إِلَى» کی طرف – «الصَّلَاةِ» نماز – «فِي» میں – «ذَلِكَ» اسی – «الثَّوْبِ» کپڑے، – «وَأَنَا» اور میں – «أَنْظُرُ» دیکھتی – «إِلَى» طرف – «أَثَرِ» نشان – «الْغَسْلِ» دھونے کے – «فِيهِ» اس میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی (روایت میں ہے): – «لَقَدْ» البتہ تحقیق – «كُنْتُ» تھی میں – «أَفْرُكُهُ» اسے ملتی (رگڑتی) – «مِنْ» سے – «ثَوْبِ» کپڑے – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فَرْكًا» اچھی طرح ملنا، – «فَيُصَلِّي» تو آپ نماز پڑھتے – «فِيهِ» اس میں۔ – «وَفِي» اور میں – «لَفْظٍ» ایک لفظ – «لَهُ» ان کے (مسلم کے): – «لَقَدْ كُنْتُ» البتہ تحقیق تھی میں – «أَحُكُّهُ» اسے کھرچتی – «يَابِسًا» خشک ہونے پر – «بِظُفُرِي» اپنے ناخن سے – «مِنْ» سے – «ثَوْبِهِ» آپ کے کپڑے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی کو دھوتے پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس (کپڑے) میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی تھی۔ متفق علیہ (بخاری و مسلم)۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے اسے اچھی طرح مل (رگڑ) دیتی تھی، تو آپ اس میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ اور انہی (مسلم) کے ایک اور لفظ میں ہے: میں خشک ہونے پر اسے اپنے ناخن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے کھرچ دیا کرتی تھی۔ | [بلوغ المرام/حدیث: 25]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی کو دھوتے پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس (کپڑے) میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی تھی۔ متفق علیہ (بخاری و مسلم)۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے اسے اچھی طرح مل (رگڑ) دیتی تھی، تو آپ اس میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ اور انہی (مسلم) کے ایک اور لفظ میں ہے: میں خشک ہونے پر اسے اپنے ناخن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے کھرچ دیا کرتی تھی۔ | [بلوغ المرام/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب غسل المني وفركه، وغسل ما يصيب من المرأة، حديث:229، ومسلم، الطهارة، باب حكم المني، حديث:289، وانظر حديث: 288 للرواية الثانية، وحديث: 290 للرواية الأخيرة.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 26
وعن أبي السمح رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «يغسل من بول الجارية، ويرش من بول الغلام» . أخرجه أبو داود والنسائي، وصححه الحاكم.
سیدنا ابوالسمح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”لڑکی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب سے کپڑے پر پانی کے چھینٹے مارے جائیں گے۔“ اسے ابوداؤد و نسائی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 26]
«وعن» اور سے - «أبي السمح» ابو السمح - «رضي الله عنه» اللہ ان سے راضی ہو - «قال» انہوں نے کہا - «قال» فرمایا - «رسول الله» اللہ کے رسول - «صلى الله عليه وآله وسلم» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو - «يغسل» دھویا جائے گا - «من» سے - «بول» پیشاب - «الجارية» بچی (لڑکی) - «ويرش» اور چھینٹے مارے جائیں گے - «من» سے - «بول» پیشاب - «الغلام» بچہ (لڑکا) - «أخرجه» اس کو روایت کیا - «أبو داود» ابو داود نے - «والنسائي» اور نسائی نے - «وصححه» اور اس کو صحیح قرار دیا - «الحاكم» حاکم نے
اور سیدنا ابو السمح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا اور بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارے جائیں گے۔ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 26]
اور سیدنا ابو السمح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا اور بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارے جائیں گے۔ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب بول الصبي يصيب الثوب، حديث:376، والنسائي، الطهارة، حديث:305، والحاكم:1 / 166، وابن ماجه، الطهارة، حديث:526، وابن خزيمة:1 / 143، حديث:283.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 27
وعن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في دم الحيض يصيب الثوب: «تحته، ثم تقرصه بالماء، ثم تنضحه، ثم تصلي فيه» . متفق عليه.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کا خون جو کپڑے کو لگ جائے کے متعلق فرمایا ”پہلے اسے کھرچ ڈالو پھر پانی سے مل کر دھو لو پھر اس پر کھلا پانی بہاؤ پھر اس میں نماز پڑھ لو“۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 27]
«وعن» اور سے - «أسماء بنت أبي بكر» اسماء بنت ابی بکر - «رضي الله عنهما» اللہ ان دونوں سے راضی ہو - «أن» کہ - «النبي» نبی - «صلى الله عليه وآله وسلم» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو - «قال» فرمایا - «في» میں / کے بارے میں - «دم» خون - «الحيض» حیض - «يصيب» جو لگ جائے - «الثوب» کپڑے کو - «تحته» وہ اسے کھرچ دے - «ثم» پھر - «تقرصه» وہ اسے رگڑے - «بالماء» پانی کے ساتھ - «ثم» پھر - «تنضحه» وہ اسے دھو دے - «ثم» پھر - «تصلي» وہ نماز پڑھے - «فيه» اس میں - «متفق عليه» اس پر اتفاق کیا گیا ہے (بخاری و مسلم)
اور سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے کو لگ جائے، فرمایا: اسے کھرچ دیا جائے، پھر اسے پانی سے رگڑا جائے، پھر اسے دھو لیا جائے، پھر اس میں نماز پڑھی جائے۔ متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 27]
اور سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے کو لگ جائے، فرمایا: اسے کھرچ دیا جائے، پھر اسے پانی سے رگڑا جائے، پھر اسے دھو لیا جائے، پھر اس میں نماز پڑھی جائے۔ متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب غسل الدم، حديث:227، ومسلم، الإيمان، باب نجاسة الدم وكيفية غسله، حديث:291.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 28
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قالت خولة: يا رسول الله!. فإن لم يذهب الدم؟ قال: «يكفيك الماء ولا يضرك أثره» . أخرجه الترمذي، وسنده ضعيف.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ خولہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول! خون کا نشان ختم نہ (اگر خون آلود کپڑے کو اچھی طرح مل کر دھونے کے باوجود نشان) ہو تو پھر کیا، کیا جائے؟ ارشاد فرمایا ”بس تیرا اس پر اچھی طرح پانی بہانا کافی ہے، اس کا نشان تیرے لئے ضرر رساں نہیں۔“
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 28]
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 28]
«وعن» اور سے - «أبي هريرة» ابو ہریرہ - «رضي الله عنه» اللہ ان سے راضی ہو - «قال» انہوں نے کہا - «قالت» کہا - «خولة» خولہ نے - «يا رسول الله» اے اللہ کے رسول! - «فإن» پس اگر - «لم» نہ - «يذهب» جائے - «الدم» خون - «قال» فرمایا - «يكفيك» تجھے کافی ہے - «الماء» پانی - «ولا» اور نہیں - «يضرك» تجھے نقصان دے گا - «أثره» اس کا نشان - «أخرجه» اس کو روایت کیا - «الترمذي» ترمذی نے - «وسنده» اور اس کی سند - «ضعيف» ضعیف (کمزور) ہے
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خولہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر خون (کا داغ) نہ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے پانی (سے دھونا) کافی ہے اور اس کا نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 28]
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خولہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر خون (کا داغ) نہ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے پانی (سے دھونا) کافی ہے اور اس کا نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 28]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي: لم أجده، وانظر الصحيحة للمحدث الألباني رحمه الله:1 / 593، حديث:298، وأخرجه أبوداود، الطهارة، باب المرأة تغسل ثوبها الذي تلبسه في حيضها، حديث: 365*ابن لهيعة صرح بالسماع عند البيهقي:2 /408، وحدث به قبل اختلاطه فالسند حسن، وله طريق آخرعند أحمد:2 /364.»
الحكم على الحديث:
حسن
4. باب الوضوء
وضو کا بیان
حدیث نمبر: 29
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أنه قال:«لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك مع كل وضوء» . أخرجه مالك وأحمد والنسائي، وصححه ابن خزيمة، وذكره البخاري تعليقا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”اگر مجھے اپنی امت کو مشقت و تکلیف میں مبتلا کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“
اسے مالک، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اس کو تعلیقاً نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 29]
اسے مالک، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اس کو تعلیقاً نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 29]
«عَنْ» سے - «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «عَنْ» سے - «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی ہو - «أَنَّهُ» کہ بیشک انہوں نے - «قَالَ» فرمایا - «لَوْلَا» اگر نہ ہوتا - «أَنْ» یہ کہ - «أَشُقَّ» میں مشقت میں ڈالتا - «عَلَى» پر - «أُمَّتِي» میری امت - «لَأَمَرْتُهُمْ» تو البتہ میں انہیں حکم دیتا - «بِالسِّوَاكِ» مسواک کا - «مَعَ» ساتھ - «كُلِّ» ہر - «وُضُوءٍ» وضو - «أَخْرَجَهُ» اس کو روایت کیا - «مَالِكٌ» مالک نے - «وَأَحْمَدُ» اور احمد نے - «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے - «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا - «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے - «وَذَكَرَهُ» اور اسے ذکر کیا - «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے - «تَعْلِيقًا» تعلیقاً (بغیر سند کے)
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ اسے مالک، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے، اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور بخاری نے اسے تعلیقاً ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 29]
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ اسے مالک، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے، اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور بخاری نے اسے تعلیقاً ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ، الطهارة، باب ما جاء في السواك:1 / 66، موقوفًا، وأحمد:2 /517،460، والنسائي في الكبرٰي:2 / 198، حديث:3043، وابن خزيمة: 1 / 73، حديث:140، مرفوعًا، والبخاري، تعليقًا، الصوم، باب سواك الرطب واليابس للصائم، قبل حديث:1934، وللحديث شاهد صحيح عند أحمد:2 /250، حديث:7406.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 30
وعن حمران مولي عثمان رضي الله عنه: أن عثمان دعا بوضوء فغسل كفيه ثلاث مرات، ثم تمضمض واستنشق واستنثر، ثم غسل وجهه ثلاث مرات ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاث مرات، ثم اليسرى مثل ذلك، ثم مسح برأسه، ثم غسل رجله اليمنى إلى الكعبين ثلاث مرات، ثم اليسرى مثل ذلك، ثم قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم توضأ نحو وضوئي هذا. متفق عليه.
سیدنا حمران مولی عثمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی طلب فرمایا پہلے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں تین مرتبہ دھوئیں۔ پھر منہ میں پانی ڈال کر کلی کی پھر ناک میں پانی چڑھایا اور اسے جھاڑ کر صاف کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر دایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر اسی طرح بایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنا دایاں اور بایاں پاؤں ٹخنوں تک تین، تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح ابھی میں نے وضو کیا ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 30]
«وَعَنْ» اور سے - «حُمْرَانَ» حمران - «مَوْلَى» آزاد کردہ غلام - «عُثْمَانَ» عثمان - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «أَنَّ» کہ - «عُثْمَانَ» عثمان نے - «دَعَا» منگوایا - «بِوَضُوءٍ» وضو کا پانی - «فَغَسَلَ» تو دھوئے - «كَفَّيْهِ» اپنی دونوں ہتھیلیوں کو - «ثَلَاثَ» تین - «مَرَّاتٍ» مرتبہ - «ثُمَّ» پھر - «تَمَضْمَضَ» انہوں نے کلی کی - «وَاسْتَنْشَقَ» اور ناک میں پانی ڈالا - «وَاسْتَنْثَرَ» اور ناک صاف کی - «ثُمَّ» پھر - «غَسَلَ» دھویا - «وَجْهَهُ» اپنے چہرے کو - «ثَلَاثَ» تین - «مَرَّاتٍ» مرتبہ - «ثُمَّ» پھر - «غَسَلَ» دھویا - «يَدَهُ» اپنے ہاتھ کو - «الْيُمْنَى» دائیں - «إِلَى» تک - «الْمِرْفَقِ» کہنی - «ثَلَاثَ» تین - «مَرَّاتٍ» مرتبہ - «ثُمَّ» پھر - «الْيُسْرَى» بائیں کو - «مِثْلَ» مانند - «ذَلِكَ» اس کے - «ثُمَّ» پھر - «مَسَحَ» مسح کیا - «بِرَأْسِهِ» اپنے سر کا - «ثُمَّ» پھر - «غَسَلَ» دھویا - «رِجْلَهُ» اپنے پاؤں کو - «الْيُمْنَى» دائیں - «إِلَى» تک - «الْكَعْبَيْنِ» دونوں ٹخنوں - «ثَلَاثَ» تین - «مَرَّاتٍ» مرتبہ - «ثُمَّ» پھر - «الْيُسْرَى» بائیں کو - «مِثْلَ» مانند - «ذَلِكَ» اس کے - «ثُمَّ» پھر - «قَالَ» فرمایا - «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا - «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «تَوَضَّأَ» انہوں نے وضو کیا - «نَحْوَ» طرح / مانند - «وُضُوئِي» میرے وضو - «هَذَا» اس - «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق کیا گیا ہے (بخاری و مسلم)
اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان نے وضو کا پانی منگوایا، پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور ناک صاف کی، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں کو اسی طرح (دھویا)، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں کو اسی طرح (دھویا)، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 30]
اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان نے وضو کا پانی منگوایا، پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور ناک صاف کی، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں کو اسی طرح (دھویا)، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں کو اسی طرح (دھویا)، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 30]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب الوضوء ثلاثًا ثلاثًا، حديث:159، ومسلم، الطهارة، باب صفة الوضوء وكماله، حديث:226.»
الحكم على الحديث:
صحيح