🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الوضوء
وضو کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يعجبه التيمن في تنعله وترجله وطهوره،‏‏‏‏ وفي شأنه كله. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے، بالوں میں کنگھی کرنے اور وضو کرنے بلکہ ہر کام کیلئے دائیں جانب کو پسند فرماتے تھے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 41]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «كَانَ» تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يُعْجِبُهُ» انہیں پسند تھا – «التَّيَمُّنُ» دائیں طرف سے شروع کرنا – «فِي» میں – «تَنَعُّلِهِ» اپنے جوتے پہننے – «وَتَرَجُّلِهِ» اور اپنے بال سنوارنے/کنگھی کرنے – «وَطُهُورِهِ» اور اپنی پاکی (وضو/غسل) حاصل کرنے – «وَفِي» اور میں – «شَأْنِهِ» اپنے کام – «كُلِّهِ» تمام کے تمام۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا جوتا پہننے، اپنے بال سنوارنے، اپنی پاکی حاصل کرنے اور اپنے تمام کاموں میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا۔ یہ متفق علیہ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب التيمن في الوضوء والغسل، حديث:168، ومسلم، الطهارة، باب التيمن في الطهور وغيره، حديث:268.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 42
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏إذا توضأتم فابدأوا بميامنكم» . أخرجه الأربعة وصححه ابن خزيمة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم وضو کرنے لگو تو اپنے دائیں جانب سے ابتداء کیا کرو۔“
اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 42]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «إِذَا» جب – «تَوَضَّأْتُمْ» تم وضو کرو – «فَابْدَأُوا» تو تم شروع کرو – «بِمَيَامِنِكُمْ» اپنی دائیں طرف سے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو اپنی دائیں طرف سے شروع کیا کرو۔“ اسے چاروں (محدثین) نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، اللباس، باب في الانتعال، حديث:4141، وابن ماجه، الطهارة، حديث:402، وأحمد:2 /354، وابن خزيمة:1 /91، حديث:178، وابن حبان(الموارد)، حديث:147، 1452* رواه شعبة عن الأ عمش به بلفظ: كان إذا لبس قميصًا(و في رواية ثوبًا) بدأ بميامنه، رواه الترمذي، اللباس، حديث: 1766 وسنده صحيح، والنسائي في الكبرٰي، حديث:9669.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
وعن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم توضأ فمسح بناصيته وعلى العمامة والخفين. أخرجه مسلم.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی پیشانی کے بالوں، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 43]
«وَعَنِ» اور سے – «الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ» مغیرہ بن شعبہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» بیشک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی نے – «تَوَضَّأَ» وضو کیا – «فَمَسَحَ» تو آپ نے مسح کیا – «بِنَاصِيَتِهِ» اپنی پیشانی (کے بالوں) پر – «وَعَلَى» اور پر – «الْعِمَامَةِ» پگڑی – «وَالْخُفَّيْنِ» اور دونوں موزوں پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنی پیشانی کے بالوں، پگڑی اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة، باب المسح علي الناصية والعمامة، حديث:274.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما- في صفة حج النبي صلى الله عليه وآله وسلم- قال صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏ابدءوا بما بدأ الله به» . أخرجه النسائي هكذا بلفظ الأمر،‏‏‏‏ وهو عند مسلم بلفظ الخبر.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آغاز اسی طرح کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے آغاز کیا ہے۔“ نسائی نے امر کے صیغہ کے ساتھ روایت کیا ہے یعنی حکماً فرمایا کہ ”ابتداء کرو“ جبکہ امام مسلم نے جملہ خبریہ میں اسے بیان کیا ہے یعنی ہم شروع کرتے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 44]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «فِي» میں/کے بارے میں – «صِفَةِ» طریقے – «حَجِّ» حج کے – «النَّبِيِّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «قَالَ» فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «ابْدَءُوا» تم شروع کرو – «بِمَا» اس سے جس سے – «بَدَأَ» شروع کیا – «اللَّهُ» اللہ نے – «بِهِ» اس سے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے – «هَكَذَا» اسی طرح – «بِلَفْظِ» لفظ کے ساتھ – «الْأَمْرِ» حکم کے، – «وَهُوَ» اور یہ – «عِنْدَ» پاس ہے – «مُسْلِمٍ» مسلم کے – «بِلَفْظِ» لفظ کے ساتھ – «الْخَبَرِ» خبر کے۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کے طریقے کے بارے میں روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس چیز سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔“ اسے نسائی نے اسی طرح حکم کے صیغے کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہ صحیح مسلم میں خبر کے صیغے کے ساتھ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، مناسك الحج، باب القول بعد ركعتي الطواف، حديث:2965، ومسلم، الحج، باب حجة النبي صلي الله عليه وسلم، حديث:1218.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
وعنه رضى الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا توضأ أدار الماء على مرفقيه. أخرجه الدارقطني بإسناد ضعيف.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو اپنی کہنیوں پر اچھی طرح پانی ڈالتے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 45]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «إِذَا» جب – «تَوَضَّأَ» آپ وضو کرتے – «أَدَارَ» تو آپ گھماتے/بہاتے – «الْمَاءَ» پانی کو – «عَلَى» پر – «مِرْفَقَيْهِ» اپنی دونوں کہنیوں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «بِإِسْنَادٍ» ساتھ سند کے – «ضَعِيفٍ» ضعیف۔
اور انہی (سیدنا جابر) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو پانی کو اپنی دونوں کہنیوں پر گھماتے (بہاتے) تھے۔ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني، الطهارة، باب وضوء رسول الله صلي الله عليه وسلم:1 / 83 وقال: [القاسم بن محمد بن عبدالله] ابن عقيل ليس بقوي" قلت: بل هو متروك كما قال آبو حاتم الرازي وغيره، وفيه علة أخري.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 46
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه» .أخرجه أحمد وأبو داود وابن ماجه بإسناد ضعيف. والترمذي عن سعيد بن زيد و أبي سعيد نحوه. و قال أحمد: لا يثبت فيه شئ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”وضو کا آغاز کرتے وقت جس نے پہلے «بسم الله» نہ پڑھی اس کا کوئی وضو نہیں۔“ اس حدیث کو احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے مگر ان کی بیان کردہ سند ضعیف ہے، اور ترمذی نے یہ حدیث سعید بن زید سے روایت کی ہے اور اسی طرح اسے ابوسعید سے بھی روایت کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس بارے میں کوئی چیز ثابت نہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 46]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «لَا» نہیں ہے – «وُضُوءَ» وضو – «لِمَنْ» اس شخص کے لیے جس نے – «لَمْ يَذْكُرِ» ذکر نہیں کیا – «اسْمَ اللَّهِ» اللہ کا نام – «عَلَيْهِ» اس پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «بِإِسْنَادٍ» ساتھ سند کے – «ضَعِيفٍ» ضعیف۔ – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «عَنْ» سے – «سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ» سعید بن زید – «وَأَبِي سَعِيدٍ» اور ابو سعید – «نَحْوَهُ» اس جیسی (حدیث)۔ – «وَقَالَ» اور کہا – «أَحْمَدُ» احمد نے: – «لَا يَثْبُتُ» نہیں ثابت ہے – «فِيهِ» اس (باب) میں – «شَيْءٌ» کوئی چیز۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا وضو نہیں جس نے اس پر (یعنی وضو کے شروع میں) اللہ کا نام نہ لیا ہو۔“ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ترمذی نے سیدنا سعید بن زید اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ اور (امام) احمد نے کہا: اس (باب) میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في التسمية علي الوضوء، حديث:101، وأحمد:2 / 418، وابن ماجه، الطهارة، حديث: 399، وسند ابن ماجه، حديث: 397 حسن وبه حسنت الحديث، والترمذي، الطهارة، حديث:25، 26 وهو حديث ثابت والحمد لله.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 47
وعن طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يفصل بين المضمضة والاستنشاق. أخرجه أبو داود بإسناد ضعيف.
سیدنا طلحہ بن مصرف رحمہ اللہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچشم خود دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلی اور ناک کے لئے الگ الگ پانی لیتے تھے۔ اس روایت کو ابوداؤد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 47]
«وَعَنْ» اور سے – «طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ» طلحہ بن مصرف – «عَنْ» سے – «أَبِيهِ» اپنے والد – «عَنْ» سے – «جَدِّهِ» اپنے دادا – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يَفْصِلُ» وہ فصل (علیحدگی) کرتے ہیں – «بَيْنَ» درمیان – «الْمَضْمَضَةِ» کلی کرنے – «وَالِاسْتِنْشَاقِ» اور ناک میں پانی چڑھانے کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «بِإِسْنَادٍ» ساتھ سند کے – «ضَعِيفٍ» ضعیف۔
اور طلحہ بن مصرف سے، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کے درمیان فصل (علیحدگی) کرتے تھے۔ اسے ابو داود نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الفرق بين المضمضة والاستنشاق، حديث:139، فيه ليث بن أبي سليم ضعيف مدلس، والحديث ضعفه النووي في المجموع:1 / 464.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 48
وعن علي رضي الله عنه- في صفة الوضوء-: ثم تمضمض صلى الله عليه وآله وسلم واستنثر ثلاثا،‏‏‏‏ يمضمض وينثر من الكف الذي يأخذ منه الماء. أخرجه أبو داود والنسائي.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وضو کے بیان کے بارے میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلی اور ناک میں پانی اسی ہاتھ سے داخل کرتے جس سے پانی لیتے تھے (ابوداؤد، نسائی) [بلوغ المرام/حدیث: 48]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي» میں/کے بارے میں – «صِفَةِ» طریقے – «الْوُضُوءِ» وضو کے: – «ثُمَّ» پھر – «تَمَضْمَضَ» کلی کی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «وَاسْتَنْثَرَ» اور ناک جھاڑی – «ثَلَاثًا» تین مرتبہ، – «يُمَضْمِضُ» آپ کلی کرتے – «وَيَنْثُرُ» اور ناک جھاڑتے – «مِنَ» سے – «الْكَفِّ» اس چلو – «الَّذِي» جس سے – «يَأْخُذُ» آپ لیتے – «مِنْهُ» اس سے – «الْمَاءَ» پانی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وضو کے طریقے کے بارے میں روایت ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی، آپ اسی چلو سے کلی کرتے اور ناک جھاڑتے جس سے پانی لیتے تھے۔ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب صفة وضوء النبي صلي الله عليه وسلم، حديث:111، والنسائي، الطهارة، حديث:92.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 49
وعن عبد الله بن زيد رضي الله عنه- في صفة الوضوء أو وضوئه صلى الله عليه وآله وسلم-: ثم أدخل صلى الله عليه وآله وسلم يده فمضمض واستنشق من كف واحد،‏‏‏‏ يفعل ذلك ثلاثا. متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما سے وضو کے سلسلہ بیان میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، ایک ہی چلو سے، ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 49]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ» عبداللہ بن زید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي» میں/کے بارے میں – «صِفَةِ» طریقے – «الْوُضُوءِ» وضو کے – «أَوْ» یا – «وُضُوئِهِ» آپ کے وضو کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «ثُمَّ» پھر – «أَدْخَلَ» داخل کیا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يَدَهُ» اپنا ہاتھ – «فَمَضْمَضَ» تو کلی کی – «وَاسْتَنْشَقَ» اور ناک میں پانی چڑھایا – «مِنْ» سے – «كَفٍّ» چلو – «وَاحِدٍ» ایک، – «يَفْعَلُ» آپ نے کیا – «ذَلِكَ» یہ (عمل) – «ثَلَاثًا» تین مرتبہ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اور سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے وضو کے طریقے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کے بارے میں روایت ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ (برتن میں) ڈالا تو ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، آپ نے ایسا تین مرتبہ کیا۔ یہ متفق علیہ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب من مضمض واستنشق من غرفة واحدة، حديث:191، ومسلم، الطهارة، باب آخرفي صفة (الوضوء)، حديث: 235.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 50
وعن أنس رضي الله عنه قال: رأى النبي صلى الله عليه وآله وسلم رجلا وفي قدمه مثل الظفر لم يصبه الماء،‏‏‏‏ فقال:«‏‏‏‏ارجع فأحسن وضوءك» . أخرجه أبو داود والنسائي.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے آدمی پر پڑی جس کے پاؤں کی ناخن برابر جگہ پر پانی نہ پہنچا (یعنی خشک رہ گئی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”واپس جاؤ اور اچھی طرح عمدہ طریق سے وضو کرو۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 50]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «رَأَى» دیکھا – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی نے – «رَجُلًا» ایک آدمی کو – «وَفِي» اور میں (پر) – «قَدَمِهِ» اس کے قدم – «مِثْلُ» برابر – «الظُّفُرِ» ناخن کے (جگہ تھی) – «لَمْ يُصِبْهُ» نہیں پہنچا تھا اسے – «الْمَاءُ» پانی، – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «ارْجِعْ» لوٹ جاؤ – «فَأَحْسِنْ» اور اچھے طریقے سے کرو – «وُضُوءَكَ» اپنا وضو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے قدم پر ناخن کے برابر جگہ (خشک) تھی جس پر پانی نہیں پہنچا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”لوٹ جاؤ اور اپنا وضو اچھی طرح کرو۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب تفريق الوضوء، حديث: 173، والنسائي: لم أجده، وابن ماجه، الطهارة، حديث: 665، وأحمد:3 / 146، ومسلم من حديث عمر، الطهارة، حديث:243.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں