🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب صلاة الجماعة والإمامة
نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 319
وعن يزيد بن الأسود رضي الله عنه أنه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم صلاة الصبح فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا هو برجلين لم يصليا فدعا بهما فجيء بهما ترعد فرئصهما فقال لهما: «‏‏‏‏ما منعكما أن تصليا معنا؟» ‏‏‏‏ قالا: قد صلينا في رحالنا قال: «‏‏‏‏فلا تفعلا إذا صليتما في رحالكما ثم أدركتما الإمام ولم يصل فصليا معه فإنها لكما نافلة» ‏‏‏‏ رواه أحمد واللفظ له والثلاثة وصححه الترمذي وابن حبان.
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو ایسے دو آدمیوں پر نظر پڑی جنہوں نے نماز (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو اپنے پاس بلوایا۔ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو (خوف کے مارے) ان کے شانے کانپ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ “ دونوں نے عرض کیا ہم اپنے گھروں پر نماز پڑھ چکے ہیں۔ فرمایا ” ایسا مت کیا کرو۔ اگر تم اپنے گھروں پر نماز پڑھ چکے ہو پھر تم امام کو پا لو اور امام نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ تم نماز پڑھو، یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔ “
اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ بھی اسی کے ہیں۔ اس کے علاوہ تینوں یعنی ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 319]
«وَعَنْ» اور سے – «يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ» یزید بن اسود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ انہوں نے – «صَلَّى» نماز پڑھی – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةَ الصُّبْحِ» صبح کی نماز – «فَلَمَّا» پھر جب – «صَلَّى» نماز پڑھ لی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا هُوَ» اچانک آپ نے پایا – «بِرَجُلَيْنِ» دو آدمیوں کو – «لَمْ يُصَلِّيَا» جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی – «فَدَعَا بِهِمَا» تو آپ نے ان دونوں کو بلوایا – «فَجِيءَ بِهِمَا» پس ان دونوں کو لایا گیا – «تُرْعَدُ» کانپ رہے تھے – «فَرَائِصُهُمَا» ان دونوں کے کندھوں کے گوشت – «فَقَالَ» تو فرمایا – «لَهُمَا» ان دونوں سے: – «مَا مَنَعَكُمَا» تمہیں کس چیز نے روکا – «أَنْ تُصَلِّيَا» کہ تم نماز پڑھو – «مَعَنَا» ہمارے ساتھ؟ – «قَالَا» ان دونوں نے کہا: – «قَدْ صَلَّيْنَا» یقیناً ہم نماز پڑھ چکے ہیں – «فِي رِحَالِنَا» اپنے ٹھکانوں میں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَلَا تَفْعَلَا» پس ایسا نہ کرو – «إِذَا صَلَّيْتُمَا» جب تم دونوں نماز پڑھ لو – «فِي رِحَالِكُمَا» اپنے ٹھکانوں میں – «ثُمَّ» پھر – «أَدْرَكْتُمَا» تم دونوں پا لو – «الْإِمَامَ» امام کو – «وَلَمْ يُصَلِّ» اور اس نے نماز نہ پڑھی ہو – «فَصَلِّيَا» تو نماز پڑھو – «مَعَهُ» اس کے ساتھ – «فَإِنَّهَا» کیونکہ بے شک وہ – «لَكُمَا» تمہارے لیے – «نَافِلَةٌ» نفل ہوگی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَاللَّفْظُ لَهُ» اور الفاظ انہی کے ہیں – «وَالثَّلَاثَةُ» اور تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی) نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمیوں نے نماز نہیں پڑھی، آپ نے ان دونوں کو بلوایا، انہیں اس حال میں لایا گیا کہ (خوف سے) ان کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا۔ آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو پھر امام کو اس حال میں پاؤ کہ اس نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور الفاظ انہی کے ہیں، اور تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی) نے بھی، اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب فيمن صلي في منزله ثم أدرك...، حديث:575، والترمذي، الصلاة، حديث:219، والنسائي، الإمامة، حديث:859، وابن حبان (الإحسان):3 /50، حديث:1563.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 320
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا ولا تكبروا حتى يكبر وإذا ركع فاركعوا ولا تركعوا حتى يركع وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد وإذا سجد فاسجدوا ولا تسجدوا حتى يسجد وإذا صلى قائما فصلوا قياما وإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا أجمعين» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وهذا لفظه وأصله في الصحيحين.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”امام کو اسی لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہذا جب وہ «الله اكبر» کہے تو تم بھی «الله اكبر» کہو اور تم (امام سے پہلے) «الله اكبر» نہ کہا کرو یہاں تک کہ وہ تکبیر کہے اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کیا کرو اور تم (امام سے پہلے) رکوع نہ کیا کرو اور جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اس سے پہلے سجدہ نہ کرو یہاں تک کہ وہ سجدہ کرے۔ جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ متن حدیث کے الفاظ ابوداؤد کے ہیں اور اس کی اصل صحیحین بخاری و مسلم میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 320]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّمَا» صرف – «جُعِلَ» بنایا گیا ہے – «الْإِمَامُ» امام – «لِيُؤْتَمَّ بِهِ» تاکہ اس کی اقتدا کی جائے – «فَإِذَا» پس جب – «كَبَّرَ» وہ تکبیر کہے – «فَكَبِّرُوا» تو تم تکبیر کہو – «وَلَا تُكَبِّرُوا» اور تکبیر نہ کہو – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يُكَبِّرَ» وہ تکبیر کہہ لے – «وَإِذَا» اور جب – «رَكَعَ» وہ رکوع کرے – «فَارْكَعُوا» تو تم رکوع کرو – «وَلَا تَرْكَعُوا» اور رکوع نہ کرو – «حَتَّى يَرْكَعَ» یہاں تک کہ وہ رکوع کر لے – «وَإِذَا» اور جب – «قَالَ» وہ کہے: – «سَمِعَ اللَّهُ» اللہ نے سن لی – «لِمَنْ حَمِدَهُ» اس کی جس نے اس کی تعریف کی – «فَقُولُوا» تو تم کہو: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «رَبَّنَا» اے ہمارے رب! – «لَكَ الْحَمْدُ» تیرے ہی لیے سب تعریف ہے – «وَإِذَا» اور جب – «سَجَدَ» وہ سجدہ کرے – «فَاسْجُدُوا» تو تم سجدہ کرو – «وَلَا تَسْجُدُوا» اور سجدہ نہ کرو – «حَتَّى يَسْجُدَ» یہاں تک کہ وہ سجدہ کر لے – «وَإِذَا» اور جب – «صَلَّى» وہ نماز پڑھے – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «فَصَلُّوا» تو تم نماز پڑھو – «قِيَامًا» کھڑے ہو کر – «وَإِذَا» اور جب – «صَلَّى» وہ نماز پڑھے – «قَاعِدًا» بیٹھ کر – «فَصَلُّوا» تو تم نماز پڑھو – «قُعُودًا» بیٹھ کر – «أَجْمَعِينَ» سب کے سب۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَهَذَا لَفْظُهُ» اور یہ الفاظ انہی کے ہیں – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”امام صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے تم تکبیر نہ کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب تک وہ رکوع نہ کر لے تم رکوع نہ کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب تک وہ سجدہ نہ کر لے تم سجدہ نہ کرو، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور یہ انہی کے الفاظ ہیں، اور اس کی اصل صحیحین میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الإمام يصلي من قعود، حديث:603، 604، وأصله في الصحيحين: البخاري، الأذان، حديث:722، ومسلم، الصلاة، حديث:414.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 321
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رأى في أصحابه تأخرا فقال لهم: «‏‏‏‏تقدموا فائتموا بي وليأتم بكم من بعدكم» . رواه مسلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو پیچھے ہٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا ”آگے آ جاؤ اور میری پیروی کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری پیروی کریں۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 321]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَأَى» نے دیکھا – «فِي أَصْحَابِهِ» اپنے صحابہ میں – «تَأَخُّرًا» پیچھے رہنا – «فَقَالَ» تو فرمایا – «لَهُمْ» ان سے: – «تَقَدَّمُوا» آگے آؤ – «فَأْتَمُّوا بِي» اور میری اقتدا کرو – «وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ» اور تمہاری اقتدا کریں – «مَنْ بَعْدَكُمْ» جو تمہارے بعد (پیچھے) ہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں (صفوں میں) پیچھے رہنے کا رجحان دیکھا تو ان سے فرمایا: ”آگے آؤ اور میری اقتدا کرو، اور جو تمہارے بعد (پیچھے) ہیں وہ تمہاری اقتدا کریں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها...، حديث:438.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 322
وعن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال: احتجر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حجرة بخصفة فصلى فيها فتتبع إليه رجال وجاءوا يصلون بصلاته. الحديث. وفيه: «‏‏‏‏أفضل صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة» . متفق عليه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاس پھوس سے بنی ہوئی چٹائی سے ایک چھوٹا (خیمہ نما) حجرہ بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔ لوگوں کو جب معلوم ہوا تو وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ مرد کی اپنے گھر میں نماز افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 322]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ» زید بن ثابت – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «احْتَجَرَ» (آڑ کر کے) حجرہ بنایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حُجْرَةً» ایک حجرہ – «بِخَصَفَةٍ» کھجور کے پتوں کی چٹائی سے – «فَصَلَّى» پس آپ نے نماز پڑھی – «فِيهَا» اس میں – «فَتَتَبَّعَ» تو تلاش کرتے ہوئے آئے – «إِلَيْهِ» آپ کی طرف – «رِجَالٌ» کچھ لوگ – «وَجَاءُوا» اور وہ آئے – «يُصَلُّونَ» نماز پڑھتے ہوئے – «بِصَلَاتِهِ» آپ کی نماز کے ساتھ (اقتدا میں)۔ – «الْحَدِيثَ» (آگے پوری) حدیث ہے۔ – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «أَفْضَلُ» سب سے افضل – «صَلَاةِ الْمَرْءِ» آدمی کی نماز – «فِي بَيْتِهِ» اس کے گھر میں ہے – «إِلَّا» سوائے – «الْمَكْتُوبَةَ» فرض نماز کے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے پتوں کی چٹائی سے ایک حجرہ (آڑ) بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے، تو کچھ لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے آئے اور آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے۔ پھر (پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: ”آدمی کی سب سے افضل نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو، سوائے فرض نماز کے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب صلاة الليل، حديث:731، ومسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة النافلة في بيته، حديث:781.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: صلى معاذ بأصحابه العشاء فطول عليهم فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أتريد يا معاذ أن تكون فتانا؟ إذا أممت الناس فاقرأ بالشمس وضحاها و: سبح اسم ربك الأعلى و: اقرأ باسم ربك, والليل إذا يغشى. متفق عليه واللفظ لمسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے مقتدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی۔ انہوں نے قرآت لمبی کر دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تو نمازیوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ جب تو لوگوں کو امامت کرائے تو «والشمس وضحاها» اور «سبح اسم ربك الأعلى» (سورۃ «الشمس» و سورۃ «الأعلى») اور «اقرأ باسم ربك» (سورۃ «العلق») «والليل إذا يغشى» (سورۃ «الليل») پڑھا کرو“ بخاری و مسلم دونوں نے اسے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 323]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» نماز پڑھائی – «مُعَاذٌ» معاذ نے – «بِأَصْحَابِهِ» اپنے ساتھیوں کو – «الْعِشَاءَ» عشاء کی – «فَطَوَّلَ» تو لمبی کر دی – «عَلَيْهِمْ» ان پر – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَتُرِيدُ» کیا تم چاہتے ہو – «يَا مُعَاذُ» اے معاذ! – «أَنْ تَكُونَ» کہ تم ہو جاؤ – «فَتَّانًا» فتنے میں ڈالنے والے؟ – «إِذَا» جب – «أَمَمْتَ» تم امامت کراؤ – «النَّاسَ» لوگوں کی – «فَاقْرَأْ» تو پڑھو – «بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا» والشمس وضحاها – «وَ» اور – «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» سبح اسم ربك الأعلى – «وَ» اور – «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» اقرأ باسم ربك – «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» اور والليل إذا يغشى۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور ان پر نماز لمبی کر دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم فتنے میں ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «اقرأ باسم ربك» اور «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا طول الإمام وكان للرجل حاجة فخرج فصلي، حديث:701، ومسلم، الصلاة، باب القراءة في العشاء، حديث:465.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 324
وعن عائشة رضي الله عنها في قصة صلاة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالناس وهو مريض قالت: فجاء حتى جلس عن يسار أبي بكر فكان يصلي بالناس جالسا وأبو بكر قائما يقتدي أبو بكر بصلاة النبي صلى الله عليه وآله وسلم ويقتدي الناس بصلاة أبي بكر. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے ضمن میں فرماتی ہیں جو انہوں نے لوگوں کو اس حالت میں پڑھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھے بیٹھے نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 324]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي قِصَّةِ» واقعے کے بارے میں – «صَلَاةِ» نماز پڑھانے کے – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِالنَّاسِ» لوگوں کو – «وَهُوَ مَرِيضٌ» جبکہ آپ بیمار تھے – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «فَجَاءَ» پس آپ آئے – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «جَلَسَ» بیٹھ گئے – «عَنْ يَسَارِ» بائیں جانب – «أَبِي بَكْرٍ» ابو بکر کے – «فَكَانَ» پس آپ تھے – «يُصَلِّي» نماز پڑھاتے – «بِالنَّاسِ» لوگوں کو – «جَالِسًا» بیٹھ کر – «وَأَبُو بَكْرٍ» اور ابو بکر – «قَائِمًا» کھڑے ہو کر – «يَقْتَدِي» اقتدا کرتے تھے – «أَبُو بَكْرٍ» ابو بکر – «بِصَلَاةِ النَّبِيِّ» نبی کی نماز کی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَيَقْتَدِي» اور اقتدا کرتے تھے – «النَّاسُ» لوگ – «بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ» ابو بکر کی نماز کی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیماری کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھانے کے واقعے کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: آپ تشریف لائے یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے، پس آپ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا ابو بکر کھڑے تھے، ابو بکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب الرجل يأتم با لإمام، حديث:713، ومسلم، الصلاة، باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذرٌ....، حديث:418.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 325
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا أم أحدكم الناس فليخفف فإن فيهم الصغير والكبير والضعيف وذا الحاجة فإذا صلى وحده فليصل كيف شاء» . متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کے فرائض انجام دے تو اسے قرآت میں تخفیف کرنی چاہیئے۔ اس لئے کہ مقتدیوں میں بچے، بوڑھے، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں جب تنہا نماز پڑھے تو پھر جس طرح چاہے پڑھے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 325]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا» جب – «أَمَّ» امامت کرائے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «النَّاسَ» لوگوں کی – «فَلْيُخَفِّفْ» تو ہلکی (نماز) پڑھائے – «فَإِنَّ فِيهِمُ» کیونکہ ان میں ہوتے ہیں – «الصَّغِيرَ» چھوٹے – «وَالْكَبِيرَ» اور بوڑھے – «وَالضَّعِيفَ» اور کمزور – «وَذَا الْحَاجَةِ» اور ضرورت مند – «فَإِذَا» پھر جب – «صَلَّى» نماز پڑھے – «وَحْدَهُ» اکیلا – «فَلْيُصَلِّ» تو پڑھے – «كَيْفَ شَاءَ» جیسے چاہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرائے تو ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بوڑھے، کمزور اور ضرورت مند (سب) ہوتے ہیں، اور جب اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے (لمبی) پڑھے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا صلي لنفسه فليطول ما شاء، حديث:703، واللفظ مركب، ومسلم، الصلاة، باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام، حديث:467.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326
وعن عمرو بن سلمة رضي الله عنه قال: قال أبي: جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وآله وسلم حقا فقال: «‏‏‏‏فإذا حضرت الصلاة فليؤذن أحدكم وليؤمكم أكثركم قرآنا» . قال: فنظروا فلم يكن أحد أكثر قرآنا مني،‏‏‏‏ فقدموني بين أيديهم،‏‏‏‏ وأنا ابن ست أو سبع سنين. رواه البخاري وأبو داود والنسائي.
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے والد نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے حق لے کر آ رہا ہوں ان کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے اور امامت ایسا شخص کرائے جو قرآن حمید کا زیادہ عالم ہو۔“ عمرو نے کہا میری قوم نے دیکھا میرے سوا کوئی دوسرا قرآن کا عالم نہیں ہے تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا۔ اس وقت میری عمر چھ سات برس کی تھی۔ (بخاری، ابوداؤد، نسائی) [بلوغ المرام/حدیث: 326]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ» عمرو بن سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» کہا – «أَبِي» میرے والد نے: – «جِئْتُكُمْ» میں تمہارے پاس آیا ہوں – «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم – «مِنْ عِنْدِ» پاس سے – «النَّبِيِّ» نبی کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَقًّا» سچ مچ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «فَإِذَا» پس جب – «حَضَرَتِ» آ جائے – «الصَّلَاةُ» نماز (کا وقت) – «فَلْيُؤَذِّنْ» تو اذان دے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی ایک – «وَلْيَؤُمَّكُمْ» اور تمہاری امامت کرائے – «أَكْثَرُكُمْ» تم میں سے سب سے زیادہ – «قُرْآنًا» قرآن (یاد رکھنے) والا۔ – «قَالَ» (عمرو نے) کہا: – «فَنَظَرُوا» پس انہوں نے دیکھا – «فَلَمْ يَكُنْ» تو نہیں تھا – «أَحَدٌ» کوئی – «أَكْثَرَ قُرْآنًا» زیادہ قرآن والا – «مِنِّي» مجھ سے – «فَقَدَّمُونِي» تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا – «بَيْنَ أَيْدِيهِمْ» اپنے سامنے – «وَأَنَا» درحالیکہ میں – «ابْنُ» عمر کا تھا – «سِتٍّ» چھ – «أَوْ» یا – «سَبْعِ سِنِينَ» سات سال کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے۔
اور سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے والد نے (اپنی قوم سے) کہا: اللہ کی قسم! میں واقعی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں، آپ نے فرمایا ہے: ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے، اور تم میں سے جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔“ (عمرو نے) کہا: انہوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا کوئی نہ تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے اپنے آگے (امام) کر دیا، حالانکہ میں چھ یا سات سال کا تھا۔ اسے بخاری، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المغازي، باب (54)، حديث:4302، وأخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:585-587، والنسائي، الأذان، حديث:637.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 327
وعن أبن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله تعالى فإن كانوا في القراءة سواء فأعلمهم بالسنة فإن كانوا في السنة سواء فأقدمهم هجرة فإن كانوا في الهجرة سواء فأقدمهم سلما- وفي رواية: «‏‏‏‏سنا» ‏‏‏‏- ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه ولا يقعد في بيته على تكرمته إلا بإذنه» . رواه مسلم.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کا امام ایسا آدمی ہو جسے قرآن حمید کا علم زیادہ ہو۔ اگر اس وصف میں لوگ مساوی ہوں پھر وہ امام بنے جسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا علم زیادہ ہو اور اگر سنت کے علم میں بھی لوگ مساوی ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے ہجرت پہلے کی۔ اگر اس وصف میں سب برابر ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے پہلے اسلام قبول کیا ہو اور ایک روایت میں «سلما» (اسلام) کی بجائے «سنا» (عمر) کا لفظ بھی ہے (یعنی اگر مذکورہ بالا اوصاف میں سبھی برابر ہوں تو پھر ان میں جس کی عمر زیادہ ہو اسے امام بنایا جائے) کوئی آدمی کسی آدمی کے دائرہ اقتدار میں امامت نہ کرائے اور نہ گھر میں اس کی مخصوص نشست (بستر) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 327]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَؤُمُّ» امامت کرائے – «الْقَوْمَ» قوم کی – «أَقْرَؤُهُمْ» ان میں سب سے زیادہ قاری (قرآن جاننے والا) – «لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى» اللہ تعالیٰ کی کتاب کا – «فَإِنْ كَانُوا» پھر اگر وہ ہوں – «فِي الْقِرَاءَةِ» قراءت میں – «سَوَاءً» برابر – «فَأَعْلَمُهُمْ» تو ان میں سب سے زیادہ جاننے والا – «بِالسُّنَّةِ» سنت کو – «فَإِنْ كَانُوا» پھر اگر وہ ہوں – «فِي السُّنَّةِ» سنت میں – «سَوَاءً» برابر – «فَأَقْدَمُهُمْ» تو ان میں سب سے پہلے – «هِجْرَةً» ہجرت کرنے والا – «فَإِنْ كَانُوا» پھر اگر وہ ہوں – «فِي الْهِجْرَةِ» ہجرت میں – «سَوَاءً» برابر – «فَأَقْدَمُهُمْ» تو ان میں سب سے پہلے – «سِلْمًا» اسلام لانے والا – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «سِنًّا» عمر میں (بڑا) – «وَلَا يَؤُمَّنَّ» اور ہرگز امامت نہ کرائے – «الرَّجُلُ» کوئی آدمی – «الرَّجُلَ» کسی آدمی کی – «فِي سُلْطَانِهِ» اس کے دائرۂ اختیار میں – «وَلَا يَقْعُدْ» اور نہ بیٹھے – «فِي بَيْتِهِ» اس کے گھر میں – «عَلَى تَكْرِمَتِهِ» اس کی خاص (عزت کی) نشست پر – «إِلَّا» مگر – «بِإِذْنِهِ» اس کی اجازت سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی امامت وہ کرائے جو ان میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کو سب سے زیادہ پڑھنے (جاننے) والا ہو، پھر اگر وہ قراءت میں برابر ہوں تو جو ان میں سنت کو سب سے زیادہ جانتا ہو، پھر اگر وہ سنت میں برابر ہوں تو جس نے ان میں سب سے پہلے ہجرت کی ہو، پھر اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو جو ان میں سب سے پہلے اسلام لایا ہو“ — اور ایک روایت میں ہے: ”جو عمر میں سب سے بڑا ہو“ — ”اور کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کے دائرۂ اختیار میں اس کی امامت نہ کرائے، اور نہ اس کے گھر میں اس کی خاص نشست پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب من أحق بالإمامة، حديث:673.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 328
ولابن ماجه من حديث جابر رضي الله عنه: «‏‏‏‏ولا تؤمن امرأة رجلا ولا أعرابي مهاجرا ولا فاجر مؤمنا» . وإسناده واه.
ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”کوئی عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی بدوی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت کرائے اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کا امام بنے۔“ اس روایت کی سند «واه» ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 328]
«وَلِابْنِ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «جَابِرٍ» جابر کی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «وَلَا تَؤُمَّنَّ» اور ہرگز امامت نہ کرائے – «امْرَأَةٌ» کوئی عورت – «رَجُلًا» کسی مرد کی – «وَلَا أَعْرَابِيٌّ» اور نہ کوئی دیہاتی – «مُهَاجِرًا» کسی مہاجر کی – «وَلَا فَاجِرٌ» اور نہ کوئی فاجر (گناہگار) – «مُؤْمِنًا» کسی مومن کی۔ – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «وَاهٍ» بہت کمزور ہے۔
اور ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: ”اور کوئی عورت کسی مرد کی امامت نہ کرائے، نہ کوئی دیہاتی کسی مہاجر کی، اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کی۔“ اور اس کی سند بہت کمزور ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، باب في فرض الجمعة، حديث:1081.* العدوي متروك، رماه وكيع بالوضع، والواليد لين الحديث، وعلي بن زيد ضعيف.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں