🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب صلاة الجماعة والإمامة
نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 329
وعن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالأعناق» ‏‏‏‏ رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”اپنی صفوں کو مضبوطی سے ملاؤ اور ان کے درمیان فاصلہ کم رکھو اور اپنی گردنوں کو ایک محاذ پر رکھو (برابر برابر رکھو)۔“
اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 329]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «رُصُّوا» خوب مل کر (جڑ کر) کھڑے ہو – «صُفُوفَكُمْ» اپنی صفوں میں – «وَقَارِبُوا» اور قریب رکھو – «بَيْنَهَا» ان کے درمیان (فاصلہ) – «وَحَاذُوا» اور برابر رکھو – «بِالْأَعْنَاقِ» گردنوں کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اپنی صفوں کو خوب ملا کر رکھو، صفوں کے درمیان فاصلہ کم رکھو اور گردنوں کو برابر رکھو۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب تسوية الصفوف، حديث:667، والنسائي، الإمامة، حديث:815، وابن حبان (الإحسان): 3 /298، حديث:2163، وابن خزيمة، حديث:1545.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 330
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏خير صفوف الرجال أولها وشرها آخرها وخير صفوف النساء آخرها وشرها أولها» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں کی بہترین اور سب سے زیادہ خیر و بھلائی والی صف، ان کی پہلی صف ہے اور بدترین اور بری صف ان کی آخری صف ہے اور خواتین کی بہترین اور خیر و بھلائی ان کی آخری صف ہے اور بدترین اور بری صف ان کی پہلی صف ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 330]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَيْرُ» سب سے بہتر – «صُفُوفِ الرِّجَالِ» مردوں کی صفوں میں – «أَوَّلُهَا» ان کی پہلی (صف) ہے – «وَشَرُّهَا» اور ان میں سب سے بری – «آخِرُهَا» ان کی آخری ہے – «وَخَيْرُ» اور سب سے بہتر – «صُفُوفِ النِّسَاءِ» عورتوں کی صفوں میں – «آخِرُهَا» ان کی آخری ہے – «وَشَرُّهَا» اور ان میں سب سے بری – «أَوَّلُهَا» ان کی پہلی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی اور سب سے کم تر آخری ہے، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری اور سب سے کم تر پہلی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب بسوية الصفوف، حديث:440.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: صليت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ذات ليلة فقمت عن يساره فأخذ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم برأسي من ورائي فجعلني عن يمينه. متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 331]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّيْتُ» میں نے نماز پڑھی – «مَعَ» ساتھ – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «ذَاتَ لَيْلَةٍ» ایک رات – «فَقُمْتُ» تو میں کھڑا ہو گیا – «عَنْ يَسَارِهِ» آپ کی بائیں جانب – «فَأَخَذَ» تو پکڑا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِرَأْسِي» میرے سر کو – «مِنْ وَرَائِي» میرے پیچھے سے – «فَجَعَلَنِي» اور مجھے کر دیا – «عَنْ يَمِينِهِ» اپنی دائیں جانب۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کر دیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا قام الرجل عن يسار الإمام، حديث:698، ومسلم، صلاة المسافرين، باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه، حديث:763.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 332
وعن أنس رضي الله عنه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقمت ويتيم خلفه وأم سليم خلفنا. متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ میں اور یتیم دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے (تنہا) نماز ادا کی۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 332]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» نماز پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقُمْتُ» تو میں کھڑا ہوا – «وَيَتِيمٌ» اور ایک یتیم (بچہ) – «خَلْفَهُ» آپ کے پیچھے – «وَأُمُّ سُلَيْمٍ» اور ام سلیم – «خَلْفَنَا» ہمارے پیچھے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی تو میں اور ایک یتیم بچہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب المرأة وحدها تكون صفًّا، حديث:727، ومسلم، المساجد، باب جواز الجماعة في النافلة، حديث:658.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
وعن أبي بكرة رضي الله عنه انتهى إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم وهو راكع فركع قبل أن يصل إلى الصف فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏زادك الله حرصا ولا تعد» .‏‏‏‏ رواه البخاري زاد أبو داود فيه: فركع دون الصف ثم مشى إلى الصف.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عین اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرما رہے تھے۔ پس انھوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ تیری حرص و طمع میں اضافہ فرمائے! آئندہ ایسا مت کرنا۔“ (بخاری)
ابوداؤد نے اتنا اضافہ کیا نقل کیا ہے کہ انھوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کیا اور رکوع کی حالت میں ہی چل کر صف میں شامل ہو گئے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 333]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ وہ – «انْتَهَى» پہنچے – «إِلَى النَّبِيِّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَهُوَ رَاكِعٌ» جبکہ آپ رکوع میں تھے – «فَرَكَعَ» تو انہوں نے رکوع کر لیا – «قَبْلَ» پہلے – «أَنْ يَصِلَ» اس سے کہ وہ پہنچیں – «إِلَى الصَّفِّ» صف تک – «فَذَكَرَ ذَلِكَ» پس اس کا ذکر کیا – «لِلنَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «زَادَكَ اللَّهُ» اللہ تمہیں زیادہ کرے – «حِرْصًا» (نیکی کی) رغبت میں – «وَلَا تَعُدْ» اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «زَادَ» اور اضافہ کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «فِيهِ» اس میں: – «فَرَكَعَ» پس انہوں نے رکوع کیا – «دُونَ الصَّفِّ» صف سے پیچھے ہی – «ثُمَّ» پھر – «مَشَى» چل کر گئے – «إِلَى الصَّفِّ» صف کی طرف۔
اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے جبکہ آپ رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا۔ پھر اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص میں اضافہ کرے، اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور ابو داود نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے: انہوں نے صف سے پیچھے ہی رکوع کیا پھر (رکوع کی حالت میں) چل کر صف میں مل گئے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا ركع دون الصف، حديث:783، وأبوداود، الصلاة، حديث:683، 684 والحديث لا يدل علي إدراك الركعة بإ دراك الركوع كما حققه الإمام البخاري في جزء القراءة خلف الإمام.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 334
وعن وابصة بن معبد الجهني رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رأى رجلا يصلي خلف الصف وحده فأمره أن يعيد الصلاة. رواه أحمد وأبو داود والترمذي وحسنه وصححه ابن حبان. وله عن طلق بن علي رضي الله عنه: «‏‏‏‏لا صلاة لمنفرد خلف الصف» ‏‏‏‏ وزاد الطبراني في حديث وابصة رضي الله عنه:«‏‏‏‏ألا دخلت معهم أو اجتررت رجلا؟» .
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایسے آدمی پر پڑی جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ پڑھنے حکم دیا۔
احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی اور طبرانی نے وابصہ کی حدیث میں اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ ”تو ان کے ساتھ ہی داخل کیوں نہ ہو گیا یا تو پہلی صف میں سے کسی نمازی کو پیچھے کھینچ لیتا۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 334]
«وَعَنْ» اور سے – «وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ» وابصہ بن معبد جہنی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَأَى» نے دیکھا – «رَجُلًا» ایک آدمی کو – «يُصَلِّي» نماز پڑھتے ہوئے – «خَلْفَ الصَّفِّ» صف کے پیچھے – «وَحْدَهُ» اکیلا – «فَأَمَرَهُ» تو آپ نے اسے حکم دیا – «أَنْ يُعِيدَ» کہ وہ دوبارہ پڑھے – «الصَّلَاةَ» نماز۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور (ترمذی نے) اسے حسن کہا – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔ – «وَلَهُ» اور انہی (ابن حبان) کی روایت میں ہے – «عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ» طلق بن علی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «لَا صَلَاةَ» کوئی نماز نہیں – «لِمُنْفَرِدٍ» اکیلے کی – «خَلْفَ الصَّفِّ» صف کے پیچھے۔ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «الطَّبَرَانِيُّ» طبرانی نے – «فِي حَدِيثِ» حدیث میں – «وَابِصَةَ» وابصہ کی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَلَا دَخَلْتَ» تم کیوں نہ داخل ہو گئے – «مَعَهُمْ» ان کے ساتھ (صف میں) – «أَوِ اجْتَرَرْتَ» یا (کیوں نہ) کھینچ لیا – «رَجُلًا» کسی آدمی کو؟
اور سیدنا وابصہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا۔ اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے حسن کہا اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ اور ابن حبان ہی کی سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت میں ہے: ”صف کے پیچھے اکیلے (نماز پڑھنے) والے کی کوئی نماز نہیں۔“ اور طبرانی نے سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے: ”تم ان کے ساتھ (صف میں) کیوں نہ داخل ہو گئے یا کسی آدمی کو (اپنے ساتھ) کیوں نہ کھینچ لیا؟“ [بلوغ المرام/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الرجل يصلي وحده خلف الصف، حديث:682، والترمذي، الصلاة، حديث: 230، وأحمد: 4 /228، وابن حبان (الموارد): 2 /104، 105، حديث: 405 وحديث طلق أخرجه ابن حبان (الموارد): 2 /98، حديث:401، والزيادة في حديث وابصة أخرجها الطبراني في الكبير:22 /145، 146، حديث:394 وسنده ضعيف جدًا، فيه السري بن إسماعيل وهو متروك.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 335
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا سمعتم الإقامة فامشوا إلى الصلاة وعليكم السكينة والوقار ولا تسرعوا فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا» ‏‏‏‏. متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم نماز کی اقامت سنو تو نماز کی طرف اطمینان و سکون اور وقار کے ساتھ چل کر آؤ۔ جلدی اور عجلت مت کرو۔ جتنی نماز جماعت کے ساتھ پا لو اتنی پڑھ لو اور جو باقی رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔“ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 335]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «إِذَا» جب – «سَمِعْتُمُ» تم سنو – «الْإِقَامَةَ» اقامت – «فَامْشُوا» تو چل کر آؤ – «إِلَى الصَّلَاةِ» نماز کی طرف – «وَعَلَيْكُمُ» اور تم پر (لازم) ہو – «السَّكِينَةُ» سکون – «وَالْوَقَارُ» اور وقار – «وَلَا تُسْرِعُوا» اور جلدی نہ کرو – «فَمَا» پس جو – «أَدْرَكْتُمْ» تم پا لو – «فَصَلُّوا» تو پڑھ لو – «وَمَا» اور جو – «فَاتَكُمْ» تم سے رہ جائے – «فَأَتِمُّوا» تو پورا کر لو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم اقامت سنو تو نماز کی طرف اس حال میں چل کر آؤ کہ تم پر سکون اور وقار ہو، اور جلدی نہ کرو، پھر (نماز کا) جو حصہ پا لو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب لا يسعي إلي الصلاة....، حديث:636، ومسلم، المساجد، باب استحباب إتيان الصلاة بوقار سكينة، حديث:602.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 336
وعن أبي بن كعب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏صلاة الرجل مع الرجل أزكى من صلاته وحده وصلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الرجل وما كان أكثر فهو أحب إلى الله عز وجل» .‏‏‏‏ رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے کہیں زیادہ پاکیزہ ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور جو نماز زیادہ لوگوں کے ساتھ ہو، وہ اللہ عزوجل کو زیادہ پسند ہے۔“
اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 336]
«وَعَنْ» اور سے – «أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ» ابی بن کعب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةُ الرَّجُلِ» آدمی کی نماز – «مَعَ الرَّجُلِ» (ایک) آدمی کے ساتھ – «أَزْكَى» زیادہ پاکیزہ (باعثِ اجر) ہے – «مِنْ صَلَاتِهِ» اس کی نماز سے – «وَحْدَهُ» اکیلے – «وَصَلَاتُهُ» اور اس کی نماز – «مَعَ الرَّجُلَيْنِ» دو آدمیوں کے ساتھ – «أَزْكَى» زیادہ پاکیزہ ہے – «مِنْ صَلَاتِهِ» اس کی نماز سے – «مَعَ الرَّجُلِ» ایک آدمی کے ساتھ – «وَمَا كَانَ» اور جو ہو – «أَكْثَرَ» زیادہ – «فَهُوَ» تو وہ – «أَحَبُّ» زیادہ محبوب ہے – «إِلَى اللَّهِ» اللہ کو – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگ و برتر ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی ایک آدمی کے ساتھ نماز اس کی اکیلے نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اس کی دو آدمیوں کے ساتھ نماز ایک آدمی کے ساتھ نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور (جماعت) جتنی زیادہ ہو وہ اللہ عزوجل کو اتنی ہی زیادہ محبوب ہے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في فضل صلاة الجماعة، حديث:554، والنسائي، الإمامة، حديث:844، وابن حبان (الموارد)، حديث:429، وابن خزيمة، حديث:1477.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 337
وعن أم ورقة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمرها أن تؤم أهل دارها. رواه أبو داود وصححه ابن خزيمة.
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے گھر والوں کی امامت کرنے کا حکم فرمایا تھا۔
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 337]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ وَرَقَةَ» ام ورقہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَمَرَهَا» نے انہیں حکم دیا – «أَنْ تَؤُمَّ» کہ وہ امامت کرائیں – «أَهْلَ دَارِهَا» اپنے گھر والوں کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے گھر والوں کی امامت کرانے کا حکم دیا۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب إمامة النساء، حديث:592، وابن خزيمة: 3 /89، حديث:1676، والبيهقي في الخلافيات ق4ب.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 338
وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استخلف ابن أم مكتوم يؤم الناس وهو أعمى. رواه أحمد وأبو داود. ونحوه لابن حبان عن عائشة رضي الله عنها.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا۔ وہ لوگوں کی امامت کراتے تھے جب کہ وہ نابینا تھے۔
اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے بھی اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 338]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اسْتَخْلَفَ» نے جانشین (نائب) بنایا – «ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ» ابن ام مکتوم کو – «يَؤُمُّ» کہ وہ امامت کراتے تھے – «النَّاسَ» لوگوں کی – «وَهُوَ أَعْمَى» حالانکہ وہ نابینا تھے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے۔ – «وَنَحْوُهُ» اور اسی طرح کی (روایت) – «لِابْنِ حِبَّانَ» ابن حبان کی ہے – «عَنْ عَائِشَةَ» عائشہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو (مدینہ میں) اپنا نائب بنایا، وہ لوگوں کی امامت کراتے تھے حالانکہ وہ نابینا تھے۔ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح کی روایت ابن حبان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب أمامة الأعمي، حديث:595، وأحمد:3 /132، وحديث عائشة أخرجه ابن حبان(الإحسان):3 /287.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں