🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب صلاة التطوع
نفل نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا طلع الفجر فقد ذهب وقت كل صلاة الليل والوتر فأوتروا قبل طلوع الفجر» ‏‏‏‏. رواه الترمذي.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب فجر طلوع ہو جائے تو پھر رات کو پڑھی جانے والی ہر نماز کا وتروں سمیت وقت چلا جاتا ہے (ختم ہو جاتا ہے) لہٰذا تم طلوع فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ “ (ترمذی) [بلوغ المرام/حدیث: 309]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «إِذَا» جب – «طَلَعَ» طلوع ہو جائے – «الْفَجْرُ» فجر – «فَقَدْ ذَهَبَ» تو یقیناً چلا گیا – «وَقْتُ» وقت – «كُلِّ» تمام – «صَلَاةِ اللَّيْلِ» رات کی نماز کا – «وَالْوِتْرِ» اور وتر کا – «فَأَوْتِرُوا» پس وتر پڑھ لو – «قَبْلَ» پہلے – «طُلُوعِ الْفَجْرِ» فجر طلوع ہونے سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب فجر طلوع ہو جائے تو رات کی تمام نماز اور وتر کا وقت ختم ہو گیا، لہٰذا فجر طلوع ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في مبادرة الصبح بالوتر، حديث:469.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي الضحى أربعا ويزيد ما شاء الله. رواه مسلم. وله عنها: أنها سئلت: هل كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي الضحى؟ قالت: لا. إلا أن يجيء من مغيبه وله عنها: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي قط سبحة الضحى وإني لأسبحها.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ضحٰی (چاشت کی نماز) چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور جتنی اللہ چاہتا زیادہ بھی کرتے تھے۔ (مسلم) اور مسلم ہی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحٰی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں الایہ کہ جب اپنے سفر سے واپس تشریف لاتے اور مسلم ہی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ضحٰی پڑھتے کبھی نہیں دیکھا اس کے باوجود میں یہ نوافل پڑھتی ہوں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 310]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» پڑھا کرتے – «الضُّحَى» چاشت (کی نماز) – «أَرْبَعًا» چار (رکعتیں) – «وَيَزِيدُ» اور زیادہ کر لیتے – «مَا شَاءَ اللَّهُ» جتنا اللہ چاہتا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلَهُ» اور انہی (مسلم) کی روایت میں ہے – «عَنْهَا» ان (عائشہ) سے – «أَنَّهَا» کہ ان سے – «سُئِلَتْ» پوچھا گیا: – «هَلْ كَانَ» کیا تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» پڑھتے – «الضُّحَى» چاشت؟ – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «لَا» نہیں – «إِلَّا» مگر – «أَنْ يَجِيءَ» یہ کہ آپ آتے – «مِنْ مَغِيبِهِ» اپنے سفر (غیر حاضری) سے۔ – «وَلَهُ» اور انہی کی روایت میں ہے – «عَنْهَا» ان سے: – «مَا رَأَيْتُ» میں نے نہیں دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» پڑھتے ہوئے – «قَطُّ» کبھی بھی – «سُبْحَةَ الضُّحَى» چاشت کی نفل نماز – «وَإِنِّي» اور بے شک میں – «لَأُسَبِّحُهَا» ضرور اسے پڑھتی ہوں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور جتنی اللہ چاہتا زیادہ بھی پڑھ لیتے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی کی ان سے ایک روایت میں ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، مگر جب آپ اپنے سفر سے واپس تشریف لاتے۔ اور مسلم ہی کی ان سے ایک اور روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی چاشت کی نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، اور میں خود اسے پڑھتی ہوں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة الضحي، حديث:719، وحديث: ((لا إلا أن يجيء من مغيبه)) أخرجه مسلم، حديث:717، وحديث: "ما رأيت رسول الله صلي الله عليه وسلم)) يصلي سبحة الضحي قط" أخرجه مسلم، حديث:718.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
وعن زيد بن أرقم رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال:«‏‏‏‏صلاة الأوابين حين ترمض الفصال» . رواه الترمذي.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹنی کے بچے تپش و حرارت اور گرمی محسوس کریں۔“ (ترمذی) [بلوغ المرام/حدیث: 311]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ» زید بن ارقم – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «صَلَاةُ» نماز – «الْأَوَّابِينَ» (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والوں کی – «حِينَ» جس وقت – «تَرْمَضُ» (گرم ریت سے) پاؤں جلنے لگیں – «الْفِصَالُ» اونٹنی کے بچوں کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اوابین (اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والوں) کی نماز اس وقت ہے جب (دھوپ سے ریت گرم ہو کر) اونٹنی کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الأوابين حين تومض الفصال، حديث:748، ولم أجده في جامع الترمذي، وَ الله أعلم.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من صلى الضحى اثنتي عشرة ركعة بنى الله له قصرا في الجنة» ‏‏‏‏. رواه الترمذي واستغربه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے نماز ضحٰی (چاشت کی نماز) کی بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں محل تعمیر فرمائے گا۔“
اسے ترمذی نے روایت بھی کیا ہے اور اسے غریب قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 312]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ» جس نے – «صَلَّى» پڑھیں – «الضُّحَى» چاشت کی – «اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» بارہ رکعتیں – «بَنَى» بنا دیتا ہے – «اللَّهُ» اللہ – «لَهُ» اس کے لیے – «قَصْرًا» ایک محل – «فِي الْجَنَّةِ» جنت میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَاسْتَغْرَبَهُ» اور اسے غریب قرار دیا۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیتا ہے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: « [إسناده ضعيف] أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في صلاة الضحي، حديث: 473 وقال: حديث غريب، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1380.* موسي بن فلان، مجهول (تقريب التهذيب).»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بيتي. فصلى الضحى ثماني ركعات. رواه ابن حبان في صحيحه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور نماز ضحٰی کی آٹھ رکعتیں ادا فرمائیں۔
ابن حبان نے اسے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 313]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «دَخَلَ» داخل ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَيْتِي» میرے گھر میں – «فَصَلَّى» پس پڑھیں – «الضُّحَى» چاشت کی – «ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ» آٹھ رکعتیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «فِي صَحِيحِهِ» اپنی صحیح میں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:630، وللحديث شاهد عنده (631) وسنده حسن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب صلاة الجماعة والإمامة
نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة» .‏‏‏‏ متفق عليه. ولهما: عن أبي هريرة رضي الله عنه:«‏‏‏‏بخمس وعشرين جزءا» . وكذا للبخاري عن أبي سعيد رضي الله عنه وقال: «‏‏‏‏درجة» .‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”باجماعت نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس گناہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”پچیس گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔“ اور بخاری میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اس میں «جزء» ‏‏‏‏ کی جگہ «درجة» کا لفظ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 314]
«عَنْ» سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ» عبداللہ بن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ» جماعت کی نماز – «أَفْضَلُ» زیادہ فضیلت والی ہے – «مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ» اکیلے کی نماز سے – «بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ» ستائیس – «دَرَجَةً» درجے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلَهُمَا» اور ان دونوں (بخاری و مسلم) کی روایت میں ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ» پچیس – «جُزْءًا» حصے۔ – «وَكَذَا» اور اسی طرح ہے – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کی روایت میں – «عَنْ أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «وَقَالَ» اور (اس میں) کہا: – «دَرَجَةً» درجے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری و مسلم ہی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”پچیس حصے (زیادہ)۔“ اور اسی طرح بخاری میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ہے، اور انہوں نے (حصے کی بجائے) ”درجے“ کہا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:645، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:650 و حديث أبي هريرة أخرجه البخاري، الأذان، حديث:647، ومسلم، المساجد، حديث:651، وحديث أبي سعيد الخدري أخرجه البخاري، الأذان، حديث:646.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحتطب ثم آمر بالصلاة فيؤدن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم أنه يجد عرقا سمينا أو مرمامتين حسنتين لشهد العشاء» . متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات گرامی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں پھر نماز کے لئے اذان کا حکم دوں پھر کسی کو نماز پڑھانے کے لئے کہوں پھر میں خود ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے ان کے گھروں میں موجود ہونے کی صورت میں ان کے گھروں کو ان پر آگ لگا کر جلا دوں۔ قسم اس ذات گرامی کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ان میں سے کسی کو اگر یہ علم ہو جائے کہ اس کو گوشت سے پر موٹی ہڈی مل جائے گی یا دو پائے مل جائیں گے تو نماز عشاء میں لپک کر شامل ہو جائے گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 315]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «وَالَّذِي» اور قسم ہے اس ذات کی – «نَفْسِي» میری جان – «بِيَدِهِ» جس کے ہاتھ میں ہے – «لَقَدْ هَمَمْتُ» یقیناً میں نے ارادہ کیا – «أَنْ آمُرَ» کہ میں حکم دوں – «بِحَطَبٍ» لکڑیوں کا – «فَيُحْتَطَبَ» پس لکڑیاں اکٹھی کی جائیں – «ثُمَّ» پھر – «آمُرَ» میں حکم دوں – «بِالصَّلَاةِ» نماز کا – «فَيُؤَذَّنَ» پس اذان دی جائے – «لَهَا» اس کے لیے – «ثُمَّ» پھر – «آمُرَ» میں حکم دوں – «رَجُلًا» کسی آدمی کو – «فَيَؤُمَّ» پس وہ امامت کرائے – «النَّاسَ» لوگوں کی – «ثُمَّ» پھر – «أُخَالِفَ» میں (پیچھے سے) جاؤں – «إِلَى رِجَالٍ» ایسے لوگوں کی طرف – «لَا يَشْهَدُونَ» جو حاضر نہیں ہوتے – «الصَّلَاةَ» نماز میں – «فَأُحَرِّقَ» پس میں جلا دوں – «عَلَيْهِمْ» ان پر – «بُيُوتَهُمْ» ان کے گھر – «وَالَّذِي» اور قسم ہے اس ذات کی – «نَفْسِي» میری جان – «بِيَدِهِ» جس کے ہاتھ میں ہے – «لَوْ يَعْلَمُ» اگر جان لے – «أَحَدُهُمْ» ان میں سے کوئی – «أَنَّهُ يَجِدُ» کہ وہ پائے گا – «عَرْقًا» گوشت والی ہڈی – «سَمِينًا» موٹی تازی – «أَوْ» یا – «مِرْمَاتَيْنِ» دو کھر (پائے) – «حَسَنَتَيْنِ» عمدہ – «لَشَهِدَ» تو ضرور حاضر ہوتا – «الْعِشَاءَ» عشاء میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو لکڑیاں جمع کی جائیں، پھر نماز کا حکم دوں تو اس کے لیے اذان کہی جائے، پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرائے، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان پر ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو کہ اسے (مسجد میں) گوشت والی موٹی ہڈی یا دو عمدہ پائے ملیں گے تو وہ ضرور عشاء کی نماز میں حاضر ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 315]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب وجوب صلاة الجماعة، حديث:644، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافقین پر سب سے ثقیل و بوجھل نمازیں، نماز عشاء اور نماز فجر ہیں اگر ان کو علم ہو جائے کہ ان دونوں میں حاضر ہونے کا کتنا (عظیم) اجر و ثواب ہے تو یہ لازما ان میں شامل ہوتے خواہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 316]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَثْقَلُ» سب سے بھاری – «الصَّلَاةِ» نماز – «عَلَى الْمُنَافِقِينَ» منافقوں پر – «صَلَاةُ الْعِشَاءِ» عشاء کی نماز – «وَصَلَاةُ الْفَجْرِ» اور فجر کی نماز ہے – «وَلَوْ يَعْلَمُونَ» اور اگر وہ جان لیں – «مَا فِيهِمَا» جو ان دونوں میں (ثواب) ہے – «لَأَتَوْهُمَا» تو ضرور ان میں آئیں – «وَلَوْ» اگرچہ – «حَبْوًا» گھٹنوں کے بل گھسٹ کر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اور اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (اجر) ہے تو ضرور ان میں آئیں، اگرچہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل العشاء في الجماعة، حديث:657، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
وعنه رضي الله عنه قال: أتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم رجل أعمى فقال: يا رسول الله إنه ليس لي قائد يقودني إلى المسجد فرخص له فلما ولى دعاه فقال: «‏‏‏‏هل تسمع النداء بالصلاة؟» قال: نعم قال: «‏‏‏‏فأجب» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس ایسا کوئی آدمی نہیں جو مجھے پکڑ کر مسجد میں لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رخصت عنایت فرما دی (کہ وہ گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کرے) مگر جب وہ واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بلا کر فرمایا کہ ”تم اذان سنتے ہو؟“ اس نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو پھر اذان کا جواب دے۔“ (یعنی مسجد میں جماعت سے نماز پڑھ) (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 317]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَتَى» آیا – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَجُلٌ» ایک آدمی – «أَعْمَى» نابینا – «فَقَالَ» پس اس نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنَّهُ لَيْسَ لِي» بے شک میرے لیے نہیں ہے – «قَائِدٌ» کوئی رہنمائی کرنے والا – «يَقُودُنِي» جو مجھے لے جائے – «إِلَى الْمَسْجِدِ» مسجد کی طرف – «فَرَخَّصَ» تو آپ نے رخصت دے دی – «لَهُ» اسے – «فَلَمَّا» پھر جب – «وَلَّى» وہ پلٹا – «دَعَاهُ» آپ نے اسے بلایا – «فَقَالَ» اور فرمایا: – «هَلْ تَسْمَعُ» کیا تم سنتے ہو – «النِّدَاءَ» پکار (اذان) – «بِالصَّلَاةِ» نماز کی؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «نَعَمْ» جی ہاں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَأَجِبْ» تو (اس کا) جواب دو (حاضر ہو)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نابینا آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی رہنما نہیں جو مجھے مسجد تک لے آئے، تو آپ نے اسے (گھر میں نماز پڑھنے کی) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ واپس پلٹا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تو (اس پکار کا) جواب دو (یعنی مسجد میں حاضر ہو)۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب يجب إتيان المسجد علي من سمع النداء، حديث:653.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 318
وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من سمع النداء فلم يأت فلا صلاة له إلا من عذر» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه والدارقطني وابن حبان والحاكم وإسناده على شرط مسلم،‏‏‏‏ لكن رجح بعضهم وقفه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اذان سنے اور پھر نماز باجماعت میں شامل نہ ہو اس کی کوئی نماز نہیں الایہ کہ کوئی عذر مانع نہ ہو۔“
اسے ابن ماجہ، دارقطنی، ابن حبان، حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند مسلم کی شرط کے مطابق ہے لیکن بعض نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 318]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «مَنْ» جس نے – «سَمِعَ» سنی – «النِّدَاءَ» اذان – «فَلَمْ يَأْتِ» پھر نہ آیا – «فَلَا صَلَاةَ» تو کوئی نماز نہیں – «لَهُ» اس کی – «إِلَّا» سوائے – «مِنْ عُذْرٍ» کسی عذر کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ – «وَالدَّارَقُطْنِيُّ» اور دارقطنی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» مسلم کی شرط پر ہے – «لَكِنْ» لیکن – «رَجَّحَ» راجح قرار دیا – «بَعْضُهُمْ» ان میں سے بعض نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے اذان سنی پھر (مسجد میں) نہ آیا تو اس کی کوئی نماز نہیں، سوائے کسی عذر کے۔“ اسے ابن ماجہ، دارقطنی، ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے، لیکن بعض (محدثین) نے اس کے موقوف ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، المساجد، باب التغليظ في التخلف عن الجماعة، حديث:793، والدار قطني:1 /420، وابن حبان (الإحسان): 3 /253، حديث:2061، والحاكم:1 /245، وتاريخ واسط لبحشل ص:202، وهيشم صرح بالسماع عنده.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں