مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حج اور عمرہ میں تلبیہ کہنا سنت ہے
حدیث نمبر: 309
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ الضَّبِّيُّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً غَيْرَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: ( (لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ) ) . قَالَ مُجَاهِدٌ وَقَالَ فِيهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ کے موقع پر صرف یہی کلمات فرماتے ہوئے سنا: ”حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، ساری تعریفیں اور نعمتیں تیری ہی ہیں۔“ مجاہد رحمہ اللہ نے بیان کیا، اس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الحج، باب التلبيه، رقم: 1549 . مسلم، كتاب الحج، باب التلبيه وصفتها ووقتها، رقم: 1184 . سنن ابوداود، رقم: 1812 . سنن ترمذي، رقم: 825 . سنن نسائي، رقم: 2750 . سنن ابن ماجه، رقم: 2918 . مسند احمد: 3/2»
احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 310
أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، نا عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ، تَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ بِالْمِسْكِ الْمُطَيَّبِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ثُمَّ يَعْرَقْنَ فَيُرَى ذَلِكَ فِي جِبَاهِهِنَّ فَيَرَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْهَاهُنَّ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ (حج کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا کرتی تھیں، ان پر احرام باندھنے سے پہلے خوشبودار کستوری کی لیپ ہوتی تھی، پھر انہیں پسینہ آتا، اس کا اثر ان کے چہروں پر نظر آیا کرتا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے اور آپ انہیں منع نہیں کیا کرتے تھے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب المناسك، باب يا يلبس المحرم، رقم: 1830 . قال الشيخ الالباني: صحيح . مسند احمد: 79/6»
قربانی کے دن جمرہ عقبہ پر رمی کا بیان
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَا الْحَذَفِ) ) ، ثُمَّ رَمَى الْجَمْرَةَ وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا فَانْطَلَقَ زَادَ فِيهِ غَيْرُ جَرِيرٍ عَنْ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: وَرَجُلٌ يَسْتُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ لِي: هُوَ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَيَقُولُ: ( (لَا تَزْدَحِمُوا أَيُّهَا النَّاسُ) ) ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ اسْتَبْطَنَ الْوَادِي ثُمَّ رَمَى.
سلیمان بن عمرو بن الاحوص نے اپنی والدہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے قربانی کے دن (دس ذوالحجہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، انگلی پر رکھ کر پھینکی جانے والی کنکری کے مثل کنکری سے جمرہ کی رمی کرو۔“ پھر آپ نے جمرہ کی رمی کی اور اس کے پاس وقوف نہ کیا اور تشریف لے گئے۔ جریر کے علاوہ دیگر نے یزید سے اس اسناد سے روایت کیا، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے چھپا رہا تھا، میں نے اس کے متعلق پوچھا:، تو مجھے بتایا گیا، وہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، اور وہ کہہ رہے تھے: لوگو! اژدہام نہ کرو، اور اس میں بیان کیا: پھر آپ وادی میں تشریف لائے اور پھر رمی کی۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبى صلى الله عليه وسلم، رقم: 1218 . سنن ابوداود، رقم: 1968، 1966، 1905 . سنن ابن ماجه، رقم: 3074، 3028 . سنن ترمذي، رقم: 897، 886 . مسند احمد: 503/3»
حدیث نمبر: 312
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
یزید بن ابی زیاد نے اسی اسناد سے حدیث جریر کے مثل روایت کیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله»
حدیث نمبر: 313
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پس انہوں نے اسی مثل ذکر کیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «تقدم تخريجه: 712»
حج اور عمرہ میں سر منڈوانے کی فضیلت
حدیث نمبر: 314
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يُقَالُ لَهُ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ: ( (وَالْمُقَصِّرِينَ) ) .
سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج و عمرہ کے موقع پر) سر منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، ہر بار آپ سے عرض کیا گیا: اور بال کترانے والے، (ان کے لیے بھی دعا فرمائیں) تو تیسری بار فرمایا: ”بال کترانے والوں کے لیے بھی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الحج، باب الحلق والتقصير عند الاحلال، رقم: 1727 . مسلم، كتاب الحج، باب تفضيل الحلق الخ، رقم: 1301 . سنن ابودواد، رقم: 1979 . سنن ترمذي، رقم: 913 . سنن ابن ماجه، رقم: 3044 . مسند احمد: 402/6 . سنن كبري بيهقي: 134/5»
حدیث نمبر: 315
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اسی مثل فرماتے ہوئے سنا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 315]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله»
رمضان میں عمرہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 316
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ: أَرَدْتُ الْعُمْرَةَ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ زَوْجُهَا قَدْ جَعَلَ نَاقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعْطِهَا، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً) ) .
سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: میں نے رمضان میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا، جبکہ ان کے شوہر نے اونٹنی کو اللہ کی راہ میں دے دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دے دو، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا (اجر و ثواب کے لحاظ سے) حج کے برابر ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب المناسك، رقم: 1990، 1988 . قال الالباني حسن صحيح، سنن ترمذي، رقم: 939 . سنن ابن ماجه، رقم: 2995، 2991 . مسند احمد: 210/4 . 375/6 . مستدرك حاكم: 482/1»
حدیث نمبر: 317
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَشْجَعَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتَمِرَ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ زَوْجُهَا جَعَلَ بَعِيرًا لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعْطِهَا، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجَّةً) ) .
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے اشجع قبیلے کی ایک خاتون (ام معقل رضی اللہ عنہا) سے روایت کیا کہ اس نے رمضان میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا، جبکہ ان کے شوہر کا ایک اونٹ تھا، انہوں نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ اونٹ) اسے دے دو، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کرنے کے برابر ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «السابق»
فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 318
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهٗ قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ۔ فَتْحِ مَکَّةَ: لَا هِجْرَةَ، وَلٰکِنْ جِهَادٌ وَّنِیَّةٌ، وَاِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْفَتْحِ۔ فَتْحِ مَکَّةَ: اِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهٗ اللّٰهُ، یَوْمَ خَلَقَ السَّمَوٰاتِ وَالْاَرْضِ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ، وَلَمْ یَحِلَّ الْقِتَالُ فِیْهِ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ، وَلَمْ یَحْلِلْ لِیْ اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ، لَا یُخْتَلَی خَلَاهَا، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکُهَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُهَا، وَلَا یُلْتَقِطُ اِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: اِلَّا الْاِذْخِرْ، اِنَّهٗ لِقَیْنِهِمْ وَبُیْوِتِهْم، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: اِلَّا الْاِذْخِرَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”(آج کے دن کے بعد مکہ سے) ہجرت نہیں، لیکن جہاد (کے لیے ہجرت) اور نیت باقی ہے اور جب تم سے (جہاد کے لیے) نکلنے کے لیے کہا: جائے تو نکلو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ جو شہر ہے اللہ نے اسے اس روز ہی سے حرام قرار دے دیا جس روز اس نے آسمان اور زمین کو تخلیق فرمایا تھا، تو وہ اللہ کی حرمت سے قیامت کے دن تک حرام ہے، اس میں قتال کرنا مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا اور وہ میرے لیے بھی دن کا کچھ حصہ حلال کیا گیا، پس وہ اللہ کی حرمت سے قیامت کے دن تک حرام ہے، اس کا گھاس کاٹا جائے، نہ اس کا کانٹا کاٹا جائے اور اس کا شکار بھگایا جائے گا، نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: سوائے اذخر (گھاس کی ایک قسم) کے، کیونکہ وہ ان کے لوہاروں اور ان کے گھروں (کی چھتوں) کے (استعمال کے) لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے (اسے کاٹنا جائز ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الجهاد، باب لا هجرة بعد الفتح، رقم: 3077 . 1834 . مسلم، كتاب الحج، باب تحريم مكة وصيدها الخ، رقم: 1353 . سنن ابوداود، رقم: 2480 . سنن ترمذي، رقم: 1590 . سنن نسائي، رقم: 4170 . مسند احمد: 226/1»