سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب اتِّقَاءِ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّثَبُّتِ فِيهِ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرنے میں احتیاط اور خوب چھان بین کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 241
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَتَّابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ أُخْطِئَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِأَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ أَنِّي سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
عتاب نے کہا، میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اگر مجھے غلطی کر جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں ایسی چیزیں بیان کرتا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں یا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں، اور یہ اس لئے (یعنی بیان نہ کرنے سے احتراز) کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ”جو کوئی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 241] »
اس روایت کی سند صحیح مرفوع ومتفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 107] ، [مسلم فى المقدمة 3] ، [مسند الطيالسي 97] ، [مسند أبى يعلی 2909] ، [مجمع الزوائد 635]
اس روایت کی سند صحیح مرفوع ومتفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 107] ، [مسلم فى المقدمة 3] ، [مسند الطيالسي 97] ، [مسند أبى يعلی 2909] ، [مجمع الزوائد 635]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 242
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَعَنْ التَّيْمِيِّ، وَعَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ، سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ابن ہرمز کے آزاد کردہ غلام عتاب سے مروی ہے، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 242] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6290] ، [مسند أحمد 113/3] و [مشكل الآثار 166/1-168]
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6290] ، [مسند أحمد 113/3] و [مشكل الآثار 166/1-168]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 243
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ، فَلَا يَقُلْ إِلَّا حَقًّا أَوْ إِلَّا صِدْقًا، وَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کہتے سنا: ”لوگو! مجھ سے حدیث زیادہ روایت کرنے سے بچو، اگر کسی کو جرات ہی ہے تو سچی بات بیان کرے، جس نے بھی میرے حوالے سے ایسی بات بیان کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم کو اپنا ٹھکانا بنا لے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند أحمد وغيره فانتفت شبهة التدليس، [مكتبه الشامله نمبر: 243] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6295] ، [مسند أحمد 297/5] ، [ابن ماجه 35] ، [المحدث الفاصل 754] ، [مشكل الآثار 172/1] و [المستدرك 111/1]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6295] ، [مسند أحمد 297/5] ، [ابن ماجه 35] ، [المحدث الفاصل 754] ، [مشكل الآثار 172/1] و [المستدرك 111/1]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند أحمد وغيره فانتفت شبهة التدليس
حدیث نمبر: 244
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 244] »
یہ صحیح حدیث ہے، تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
یہ صحیح حدیث ہے، تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 236 سے 244)
یہ حدیث متفق علیہ اور بہت سارے طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے تواتر کے درجہ کو پہنچتی ہے۔
مطلب اس کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو آپ نے نہیں کہی ہو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنانا ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه وإياكم منه)»
ان احادیث میں ایک طرف حدیث بیان کرنے میں شدید احتیاط کا حکم ہے تو دوسری طرف صحیح احادیث بیان کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب بھی ہے۔
یہ حدیث متفق علیہ اور بہت سارے طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے تواتر کے درجہ کو پہنچتی ہے۔
مطلب اس کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو آپ نے نہیں کہی ہو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنانا ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه وإياكم منه)»
ان احادیث میں ایک طرف حدیث بیان کرنے میں شدید احتیاط کا حکم ہے تو دوسری طرف صحیح احادیث بیان کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
26. باب في ذَهَابِ الْعِلْمِ:
علم کے اٹھ جانے (ختم ہو جانے) کا بیان
حدیث نمبر: 245
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْ النَّاسِ، وَلَكِنْ: قَبْضُ الْعِلْمِ قَبْضُ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءً جُهَّالًا، فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اس کو لوگوں سے چھین لے، بلکہ علم کا اٹھانا علماء کا اٹھا لیا جانا ہے، پس جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، ان سے سوالات کئے جائیں گے اور وہ بنا علم کے فتویٰ دیں گے، اس لئے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 245] »
اس حدیث کی سند صحیح اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 100] ، [مسلم 2673] ، [صحيح ابن حبان 4571] ، [مسند الحميدي 593] ، [مصنف ابن أبى شيبه 19436] وغيرهم۔
اس حدیث کی سند صحیح اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 100] ، [مسلم 2673] ، [صحيح ابن حبان 4571] ، [مسند الحميدي 593] ، [مصنف ابن أبى شيبه 19436] وغيرهم۔
وضاحت: (تشریح حدیث 244)
اس حدیث میں علم اور علماء کے اٹھ جانے کی پیشین گوئی ہے جو پوری ہوتی جارہی ہے، اس لئے جاہلوں کو سردار بنانے اور بے علم علماء کے فتوؤں سے ہوشیار رہنے اور بچنے کی ضرورت ہے۔
اس حدیث کی شرح میں مولانا راز صاحب تحریر فرماتے ہیں: پختہ عالم جو دین کی پوری سمجھ رکھتے ہوں اور احکامِ اسلام کے دقائق و رموز کو بھی جانتے ہوں، ایسے علماء ختم ہو جائیں گے، اور سطحی مدعیانِ علم باقی رہ جائیں گے، جو نا سمجھی کی وجہ سے محض تقلیدِ جامد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور اپنے فتوؤں سے خود گمراہ ہوں گے اور دیگر لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے، یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔
اس حدیث میں علم اور علماء کے اٹھ جانے کی پیشین گوئی ہے جو پوری ہوتی جارہی ہے، اس لئے جاہلوں کو سردار بنانے اور بے علم علماء کے فتوؤں سے ہوشیار رہنے اور بچنے کی ضرورت ہے۔
اس حدیث کی شرح میں مولانا راز صاحب تحریر فرماتے ہیں: پختہ عالم جو دین کی پوری سمجھ رکھتے ہوں اور احکامِ اسلام کے دقائق و رموز کو بھی جانتے ہوں، ایسے علماء ختم ہو جائیں گے، اور سطحی مدعیانِ علم باقی رہ جائیں گے، جو نا سمجھی کی وجہ سے محض تقلیدِ جامد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور اپنے فتوؤں سے خود گمراہ ہوں گے اور دیگر لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے، یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 246
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "خُذُوا الْعِلْمَ قَبْلَ أَنْ يَذْهَبَ"، قَالُوا: وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ؟، قَالَ: فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ:"ثَكِلَتْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ، أَوَلَمْ تَكُنِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمْ شَيْئًا؟ إِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ، إِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم حاصل کر لو اس کے ختم ہونے سے پہلے“، صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا حالانکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے؟ راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، پھر فرمایا: ”تمہاری مائیں تم کو گم کر دیں، کیا بنی اسرائیل میں توریت و انجیل نہیں تھیں جو انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکیں؟ علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ اہل علم اٹھ جائیں، بیشک علم کا اٹھ جانا اہل علم کا اٹھ جانا ہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة ولكنه حديث حسن بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 246] »
اس روایت کی سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف ہیں، لیکن اس حدیث کے شواہد صحیحہ موجود ہیں۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 990] ، [جامع بيان العلم 136] ، [تاريخ بغداد 212/2]
اس روایت کی سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف ہیں، لیکن اس حدیث کے شواہد صحیحہ موجود ہیں۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 990] ، [جامع بيان العلم 136] ، [تاريخ بغداد 212/2]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة ولكنه حديث حسن بشواهده
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ هُوَ ابْنُ خَبَّابٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا عَلَامَةُ هَلَاكِ النَّاسِ؟، قَالَ: "إِذَا هَلَكَ عُلَمَاؤُهُمْ".
ہلال بن خباب نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کہا: اے ابوعبداللہ! لوگوں کے ہلاک ہونے کی علامت کیا ہے؟ کہا: جب ان کے علماء ہلاک ہو جائیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 247] »
اسی روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 40/15] ، [جامع بيان العلم 1023] ، [البدع 213] ، [شعب الايمان 1662] ، [حلية الأولياء 276/4]
اسی روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 40/15] ، [جامع بيان العلم 1023] ، [البدع 213] ، [شعب الايمان 1662] ، [حلية الأولياء 276/4]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 248
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا بَقِيَ الْأَوَّلُ حَتَّى يَتَعَلَّمَ أَوْ يُعَلِّمَ الْآخِرَ، فَإِنْ هَلَكَ الْأَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يُعَلِّمَ أَوْ يَتَعَلَّمَ الْآخِرُ، هَلَكَ النَّاسُ".
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تک پہلے لوگ دوسرے لوگوں کو سکھاتے اور دوسرے ان سے تعلیم حاصل کرتے رہیں گے خیر باقی رہے گا، جب بنا تعلیم دیئے اور دوسرے کے سیکھے بنا پہلا ہلاک ہوا تو لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف مسعود بن سعد متأخر السماع من عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 248] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور امام دارمی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، نیز دوسری سند آگے دیکھئے: رقم (255)۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور امام دارمی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، نیز دوسری سند آگے دیکھئے: رقم (255)۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف مسعود بن سعد متأخر السماع من عطاء
حدیث نمبر: 249
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ؟، قُلْنَا: لَا، قَالَ: ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم جانتے ہو «ذهاب العلم» (یعنی علم کا اٹھ جانا) سے مراد کیا ہے؟ ہم نے کہا نہیں، فرمایا: اس سے مراد علماء کا اٹھ جانا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 249] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 1007] ، [مسند أبى يعلی 7074] ، [العلم لأبي خيثمه 53]
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 1007] ، [مسند أبى يعلی 7074] ، [العلم لأبي خيثمه 53]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَتَدْرِي كَيْفَ يُنْقَصُ الْعِلْمُ؟، قَالَ: قُلْتُ: كَمَا يُنْفَضُ الثَّوْبُ، وَكَمَا يَقْسُو الدِّرْهَمُ، قَالَ: "لَا، وَإِنَّ ذَلِكَ لَمِنْهُ، قَبْضُ الْعِلْمِ: قَبْضُ الْعُلَمَاءِ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو علم کیسے کم ہو گا؟ راوی نے کہا: جیسے کپڑا سکڑتا ہے اور درہم کھوٹا ہو جاتا ہے۔ فرمایا: نہیں، یہ بھی ایسا ہی ہے لیکن علم کا قبض ہونا علماء کا قبض ہونا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده محمد بن أسعد منكر الحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 250] »
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے اور اس کو صرف امام دارمی نے روایت کیا ہے لیکن معنی صحیح ہے۔ «(كما مر)»
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے اور اس کو صرف امام دارمی نے روایت کیا ہے لیکن معنی صحیح ہے۔ «(كما مر)»
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: في إسناده محمد بن أسعد منكر الحديث