سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب مُذَاكَرَةِ الْعِلْمِ:
علمی گفتگو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 641
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، رَوَى عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ حَيَاتَهُ مُذَاكَرَتُهُ".
ابوالأحوص سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث یاد کرو، کیونکہ اس کی زندگی اس کا یاد کرنا یا مذاکرہ کرنا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل وهو: إسماعيل بن خليفة لكن الأثر صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 643] »
اس اثر کی سند ابواسرائیل اسماعیل بن خلیفہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 726] لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے اثر رقم (617، 626، 627)۔
اس اثر کی سند ابواسرائیل اسماعیل بن خلیفہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 726] لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے اثر رقم (617، 626، 627)۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل وهو: إسماعيل بن خليفة لكن الأثر صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 642
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ: هَلْ تَجَالَسُونَ؟، قَالُوا: لَيْسَ نُتْرَكُ ذَاكَ، قَالَ: فَهَلْ تَزَاوَرُونَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ، فَيَمْشِي فِي طَلَبِهِ إِلَى أَقْصَى الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ، قَالَ: "فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ".
عون بن عبداللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے کہا: کیا تم مجلس جماتے ہو؟ جواب دیا: اسے تو ہم چھوڑتے ہی نہیں، فرمایا: کیا تم ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہو؟ جواب دیا: جی ہاں اے ابوعبدالرحمٰن! ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنے ساتھی کو نہ دیکھے تو کوفے کے آخری کنارے تک اس کو دیکھنے جاتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جب تک ایسا کرتے رہو گے خیر سے رہو گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والإنقطاع، [مكتبه الشامله نمبر: 644] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 8979]
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 8979]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: في إسناده علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والإنقطاع
حدیث نمبر: 643
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَتَرْكُ الْمُذَاكَرَةِ".
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی آفت نسیان اور ترک مذاکرہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف الوليد هو: ابن مسلم مدلس وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 645] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تاريخ دمشق 235]
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تاريخ دمشق 235]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف الوليد هو: ابن مسلم مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 644
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "آفَةُ الْحَدِيثِ النِّسْيَانُ".
قاسم بن عبدالرحمٰن مسعودی سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث کی آفت نسیان ہے (یعنی بھلا دینا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم بن عبد الرحمن المسعودي لم يسمع عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 646] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ ابوعمیس کا نام عتبہ بن عبداللہ بن عتبہ ہے۔ تخریج دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6191] ، [جامع بيان العلم 691] اس کے دیگر اسانید سے شواہد موجود ہیں «كما سيأتي» ۔
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ ابوعمیس کا نام عتبہ بن عبداللہ بن عتبہ ہے۔ تخریج دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6191] ، [جامع بيان العلم 691] اس کے دیگر اسانید سے شواہد موجود ہیں «كما سيأتي» ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم بن عبد الرحمن المسعودي لم يسمع عبد الله بن مسعود
حدیث نمبر: 645
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ آفَةً، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
حکیم بن جابر سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر چیز کی ایک آفت ہوتی ہے، علم کی آفت نسیان ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 647] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 646
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَإِضَاعَتُهُ أَنْ تُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَ أَهْلِهِ".
اعمش سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم کی آفت نسیان ہے، اور اس کا ضیاع یہ ہے کہ تم نااہل کو اس کی تعلیم دو۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 648] »
اس حدیث کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل، ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6190] ، [جامع بيان العلم 690] ، [المحدث الفاصل 793]
اس حدیث کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل، ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6190] ، [جامع بيان العلم 690] ، [المحدث الفاصل 793]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده معضل
حدیث نمبر: 647
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "غَائِلَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
ابوحمزه التمار سے مروی ہے، حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی برائی نسیان ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأثر صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 649] »
اس روایت میں ابوحمزہ کو شیخ کہا گیا ہے، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 689] اس کے شواہد صحیحہ موجود ہیں لہٰذا صحیح ہے۔
اس روایت میں ابوحمزہ کو شیخ کہا گیا ہے، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 689] اس کے شواہد صحیحہ موجود ہیں لہٰذا صحیح ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: الأثر صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 648
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، وَتَزَاوَرُوا، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا يَدْرُسْ".
ابن بريدة سے مروی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس (علم) حدیث کو یاد کرو (دہراؤ)، ایک دوسرے کی زیارت کرو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو یہ (علم) مٹ جائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 650] »
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6185] ، [جامع بيان العلم وفضله 624] ، [المحدث الفاصل 721] و [الجامع لأخلاق الراوي 468،467]
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6185] ، [جامع بيان العلم وفضله 624] ، [المحدث الفاصل 721] و [الجامع لأخلاق الراوي 468،467]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: "كُنْتُ أَحْسَبُ بِأَنِّي أَصَبْتُ مِنْ الْعِلْمِ، فَجَالَسْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، فَكَأَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ".
سفیان رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں سمجھتا تھا کہ میں نے علم کی تکمیل کر لی، لیکن جب عبیداللہ (بن عبدالله بن مسعود) کی مجالست اختیار کی تو لگا کہ میں تو علم کی بہت ساری گھاٹی یا وادیوں میں سے صرف ایک وادی میں تھا (یعنی ان کے مقابلہ میں میرا علم بہت تھوڑا تھا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 651] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعة 1395]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعة 1395]
وضاحت: (تشریح احادیث 626 سے 649)
ان تمام آثار سے علماء کی قدر و منزلت، ان کی زیارت کی اہمیت و فضیلت، اور علمی مذاکرۂ احادیث و اصول یاد کرنے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ احادیث کا یاد کرنا دہرانا سمر میں داخل نہیں جس سے احادیث میں روکا گیا ہے اور علمی مذاکره رات بھر تہجد پڑھنے سے بہتر ہے۔
ان تمام آثار سے علماء کی قدر و منزلت، ان کی زیارت کی اہمیت و فضیلت، اور علمی مذاکرۂ احادیث و اصول یاد کرنے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ احادیث کا یاد کرنا دہرانا سمر میں داخل نہیں جس سے احادیث میں روکا گیا ہے اور علمی مذاکره رات بھر تہجد پڑھنے سے بہتر ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
52. باب اخْتِلاَفِ الْفُقَهَاءِ:
فقہاء (کرام) کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 650
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ الله تَعَالَي: لَوْ جَمَعْتَ النَّاسَ عَلَى شَيْءٍ؟، فَقَالَ: "مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ لَمْ يَخْتَلِفُوا، قَالَ: ثُمَّ كَتَبَ إِلَى الْآفَاقِ وَإِلَى الْأَمْصَارِ، لِيَقْضِ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ فُقَهَاؤُهُمْ".
حمید نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا: کاش آپ سارے لوگوں کو ایک چیز پر جمع کر دیتے، انہوں نے جواب دیا: اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو مجھے مسرت نہ ہوتی، حمید نے کہا: پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے تمام شہروں اور صوبوں میں لکھ بھیجا کہ ہر جماعت اس کے مطابق فیصلہ کرے جس پر اس کے فقہاء کا اجماع ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 652] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ان الفاظ میں یہ روایت نہیں مل سکی، لیکن اس کے ہم معنی روایات موجود ہیں۔ دیکھئے: [الفقيه والمتفقه 743، 744، 745]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ان الفاظ میں یہ روایت نہیں مل سکی، لیکن اس کے ہم معنی روایات موجود ہیں۔ دیکھئے: [الفقيه والمتفقه 743، 744، 745]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح