🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب تَأْوِيلِ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تاویل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 611
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا حُدِّثْتُمْ شَيْئًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى، وَالَّذِي هُوَ أَهْيَأُ".
ابوعبدالرحمٰن السلمی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی جائے تو یقین رکھو کہ وہ سب سے زیادہ ہدایت والی، تقویٰ والی، اور موافقت والی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 612] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أبى يعلی 591] ، [ابن ماجه 20]
وضاحت: (تشریح احادیث 609 سے 611)
علامہ نواب وحید الزماں خان نے لکھا ہے: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو انتہائی درجہ کا تقویٰ و ہدایت سمجھو، حدیثوں کو محامل صحیحہ پر اتارو اور ان میں تعارض و تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو منطوق حدیث ہو اسی کو تقویٰ اور ہدایت جانو، اس کے خلاف کو مطلق بہتر نہ سمجھو۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 612
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ"..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب حدیث رسول بیان کرتے تو کہتے: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 613] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أبى يعلی 6123] ، [صحيح ابن حبان 28] ، [مسند الحميدي 1200] ، نیز یہ حدیث (559) پرگذر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 613
فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا حَدَّثَ قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُونِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تَجِدُوهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، أَوْ حَسَنًا عِنْدَ النَّاسِ، فَاعْلَمُوا أَنِّي قَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهِ..
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب حدیث بیان کرتے فرماتے: جب تم مجھ کو حدیث رسول بیان کرتے سنو اور اسے کتاب اللہ میں نہ پاؤ، اور لوگوں کے پاس بھی بہتر نہ ملے تو جان لو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إلى قوله في الحديث الشريف " فليتبوأ مقعده من النار " إسناده صحيح. وإلى نهاية الحديث الشريف " فاعلموا أني قد كذبت عليه " اسناده منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 614] »
یہ روایت منقطع ہے۔ دیکھئے: [مفتاح الجنة للسيوطي]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إلى قوله في الحديث الشريف " فليتبوأ مقعده من النار " إسناده صحيح. وإلى نهاية الحديث الشريف " فاعلموا أني قد كذبت عليه " اسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 614
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:"إِنَّ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي عَالِمٍ أَهْلُهُ".
سلیمان الأحول سے مروی ہے، عکرمہ (مولی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: عالم کے بارے میں سب سے زیادہ بے خوف اس کے گھر والے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 615، 616] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 487] ، [الجامع لأخلاق الراوي 1993] ، [حلية الأولياء 245/4]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب مُذَاكَرَةِ الْعِلْمِ:
علمی گفتگو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 615
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، وَأَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث کا مذاکره کرو، اس لئے کہ حدیث سے حدیث یاد آتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 617] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اس میں ابونضرة کا نام: منذر بن مالک ہے۔ تخریج آگے آرہی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 611 سے 615)
مذاکرہ: گفتگو کرنے، یاد کرنے اور دہرانے کو کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 616
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ".
دوسری سند سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 616]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 618] »

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْريَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ"..
ابونضرة بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: حدیث میں گفتگو کرو، کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کو یاد دلاتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أن هشيما قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 619] »

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده رجاله ثقات غير أن هشيما قد عنعن وهو مدلس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
ابونضرة، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں اور اس میں اس سے زیادہ کلام ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 618]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 620] »

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 621] »
دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6184] ، [المحدث الفاصل 723] ، [الجامع لأخلاق الراوي 470، 1882] و [جامع بيان العلم 626، 706] ، اور سب کی سند صحیح ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 615 سے 619)
یہ تمام روایات سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔
معنی اوپر ذکر کیا جا چکا ہے، اور اس میں حدیث یاد کرنے اور دہراتے رہنے کی ترغیب ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ يُعْنِي، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَن أَبي سَعيدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا..
ابوسلمۃ ابونضرة کے طریق سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے یہی قول روایت کرتے ہیں، اس میں اُس سے زیادہ کلام ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 622] »
وضاحت: (تشریح حدیث 619)
یہ روایت بھی بالکل مذکور بالا الفاظ میں مروی ہے اور اس میں کچھ زیادہ کلام ہے۔
اور اس کی بھی سند صحیح ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں