🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ» .
جس کا حج کرنے کا ارادہ ہو وہ جلدی کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1822
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ، عَنْ مِهْرَانَ أَبِي صَفْوَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ جلدی کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1822]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1825] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1732] ، [ابن ماجه 2883] ، [أحمد 225/1] ، [بيهقي 340/4] ، [الحاكم 448/1]
وضاحت: (تشریح حدیث 1822)
ایک روایت ہے مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی: حج میں جلدی کرو، تم میں سے کوئی نہیں جانتا اس کو کیا پیش آجائے، اور ابن ماجہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا حدیث میں یہ اضافہ موجود ہے: آدمی کبھی بیمار ہو جاتا ہے، کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے اور کبھی کوئی حاجت پیش آجاتی ہے، انسان مشغول ہو جاتا ہے اس لئے استطاعت ہونے پر حج کرنے میں جلدی کرنی چاہیے کیونکہ حج اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور بڑا خوش نصیب ہے جو اسلام کے تمام ارکان پورے کر لے، فرمان الٰہی ہے: «﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97] » ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو استطاعت رکھتے ہیں، حج فرض کیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور کا بدلہ جنّت کے سوا کچھ نہیں۔
ایک اور حدیثِ صحیح میں ہے: جس شخص نے صحیح طریقے سے حج کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسے حال کا پیدا شدہ بچہ جو معصوم ہوتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ:
جو شخص استطاعت کے باوجود بنا حج کئے مر جائے اس کی سزا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1823
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ عَنْ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ، أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ، أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا، وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو حج کرنے سے ظاہری ضرورت یا ظالم حاکم، یا روک دینے والی بیماری نہ روکے اور وہ بغیر حج کئے ہوئے مر جائے، تو چاہے تو وہ یہودی کی موت مرے اور چاہے نصرانی کی موت مرے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1823]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 1826] »
مذکور بالا حدیث کی سند لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 251/9] ، [اللآلي المصنوعة 118/2] ، [الموضوعات لابن الجوزي 210/2] ، [ابن أبى شيبه 247، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1823)
ترمذی میں ہے کہ جو شخص زاد و راحلہ کا مالک ہو جو بیت الله تک اس کو پہنچا دے پھر بھی وہ حج نہ کرے تو الله تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرے، اس حدیث کی سند میں کلام ہے۔
یعنی جو شخص بنا حج کئے فوت ہو جائے تو گویا وہ یہودی یا نصرانی ہوکر مرا۔
حجۃ اللہ البالغہ میں ہے کہ تارک حج کو یہود اور نصاریٰ سے تشبیہ دی کیونکہ عرب کے مشرک حج کرتے تھے اور یہود و نصاریٰ نہیں کرتے تھے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب في حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج اور عمرے کئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1824
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: "حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هِجْرَتِهِ حَجَّةً". قَالَ: وَقَالَ أَبُو إِسْحَاق: "حَجَّ قَبْلَ هِجْرَتِهِ حَجَّةً"..
ابواسحاق نے کہا: میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد صرف ایک مرتبہ حج کیا، راوی نے کہا: اور ابواسحاق نے کہا: ہجرت سے پہلے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1824]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1827] »
پہلے جزء کی سند صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4404] ، [مسلم 1254] ، [أبويعلی 1693] ، [ابن حبان 7174] ، اور دوسرا جز ء ابواسحاق کا قول بھی موصولاً مروی ہے۔ دیکھئے: [بخاري و مسلم نفس الرقم] و [فتح الباري 107/8] ، [دلائل النبوة 453/5]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1825
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "حَجَّةً وَاحِدَةً، وَاعْتَمَرَ أَرْبَعًا: عُمْرَتُهُ الْأُولَى الَّتِي صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ عَنْ الْبَيْتِ، وَعُمْرَتُهُ الثَّانِيَةُ حِينَ صَالَحُوهُ فَرَجَعَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَعُمْرَتُهُ مِنْ الْجِعْرَانَةِ حِينَ قَسَّمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتُهُ مَعَ حَجَّتِهِ".
قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے؟ کہا: صرف ایک مرتبہ حج کیا، اور چار عمرے کئے، پہلا عمره جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین نے عمرہ کرنے سے روک دیا (یعنی عمرة الحدیبيۃ)، دوسرا عمره اس وقت کیا جب آئندہ سال کے لئے صلح ہوئی (یعنی صلح الحدیبیہ کے اگلے سال ذی القعدہ میں)، اور تیسرا عمرہ اس وقت کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے مال غنیمت کی تقسیم ذی القعدہ میں کی، اور چوتھا عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1825]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1828] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1778] ، [مسلم 1253] ، [أبوداؤد 1994] ، [ترمذي 815] ، [الموصلي 2872]
وضاحت: (تشریح احادیث 1823 سے 1825)
ان احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عمرے کی تعداد معلوم ہوئی، حج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد صرف ایک مرتبہ کیا، کسی بھی مسئلہ کے ثبوت اور حجیت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بار ہی عمل کرنا کافی ہے۔
اور حج عمر میں صرف ایک بار ہی فرض ہے باقی جتنی بار حج کرنا چاہے وہ نفل ہوگا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے چار بار کئے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، بعض روایات میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے کئے، انہوں نے پہلا عمرہ شمار نہیں کیا کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لئے مدینہ سے نکلے تھے لیکن مشرکینِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا اور پھر اگلے سال صلح حدیبیہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب كَيْفَ وُجُوبُ الْحَجِّ:
حج کے ایک بار واجب (فرض) ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كُلِّ عَامٍ؟ قَالَ:"لَا، وَلَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ، الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَا زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال میں فرض ہے؟ فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال میں واجب ہو جاتا ہے، (حج عمر میں) صرف ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زیادہ نفل ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1829] »
اس روایت کی سند میں کچھ کلام ہے، لیکن متعدد طرق سے مروی ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1721] ، [نسائي 2619] ، [ابن ماجه 2886] ، [أحمد 256/1] ، [الحاكم 293/2] ، [بيهقي 326/4] ، [أبويعلی 517، 542]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1827
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ.
اس طریق سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حسب سابق روایت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1827]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1830] »
تخریج اور تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1825 سے 1827)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سوال نہیں کرنا چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہا کہ تم پر حج فرض ہے۔
ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر فرمایا کہ اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال حج فرض ہے تو واجب ہو جاتا اور پھر تم ہر سال حج ادا نہ کر سکتے، اور ہر سال حج ادا نہ کرتے تو (ترکِ حج کے) عذاب دیئے جاتے، فرض اور واجب کرنا الله تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہہ دیتے تو الله کی طرف سے ویسا ہی حکم صادر ہو جاتا، یہ بھی رحمۃ للعالمین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امّت پر رحمت و مہربانی کی اعلیٰ مثال ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الْمَوَاقِيتِ في الْحَجِّ:
حج کی مواقیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1828
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا". قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا هَذِهِ الثَّلَاثُ فَإِنِّي سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا اور اہل شام کے لئے جحفہ کو، نجد والوں کے لئے قرن کو، راوی نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان تینوں مواقیت کا ذکر میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور مجھ کو خبر لگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1828]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1831] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1525] ، [مسلم 1182] ، [أبوداؤد 1737] ، [ترمذي 831] ، [نسائي 2653] ، [ابن ماجه 2914] ، [أبويعلی 5423] ، [ابن حبان 3759] ، [الحميدي 635]
وضاحت: (تشریح حدیث 1827)
مواقیت میقات کی جمع ہے اور یہ دو طرح کی ہیں، زمانیہ اور مکانیہ، یعنی حج کرنے کا زمانہ اور جگہ۔
مواقيتِ زمانیہ سے مراد حج کے مہینے ہیں (شوال، ذوالقعده، ۱۰ ذوالحجہ تک)، اور مواقیت مکانیہ وہ اماکن و مقامات ہیں جہاں سے احرام باندھا جاتا ہے، اور یہ مقامات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چہار جانب سے آنے والوں کے لئے مقرر کر دی ہے، جہاں سے حاجی اور معتمر بنا احرام باندھے اگر گذر جائے تو یا تو اسے واپس آ کر اپنی میقات سے احرام باندھنا ہوگا یا پھر اس پر دم واجب ہوگا، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
اس حدیث میں روایتِ حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی شدتِ احتیاط کا ثبوت اور ان کی سچائی اور فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ بتایا چوتھی میقات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نہیں بلکہ کسی صحابی سے سنا (رضی اللہ عنہ و ارضاه)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1829
اس سند سے بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مثل سابق مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1829]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1832] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لِأَهْلِهِنَّ، وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے (احرام کے) لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے جحفہ، نجد والوں کے لئے قرن المنازل، یمن والوں کے لئے یلملم متعین کیا، یہاں سے ان مقامات پر بسنے والے بھی احرام باندھیں اور وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے گزریں اور وہ حج یا عمرے کا ارادہ رکھتے ہوں، لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہیں سفر شروع کرنا ہے، یہاں تک کہ مکہ کے لوگ مکہ سے ہی احرام باندھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1833] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ [بخاري 1524، 1526] ، [مسلم 1181] ، [أبوداؤد 1738] ، [نسائي 2653] ، [أحمد 252/1] ، [الطيالسي 994] ، [ابن الجارود 413] ، [دارقطني 237/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 1828 سے 1830)
ان احادیث سے مواقیت کا علم ہوا، یعنی وہ مقامات جہاں سے حاجی یا معتمر کے لئے احرام باندھنا ضروری ہوتا ہے، مدینہ والوں کی میقات ذوالحلیفہ و آبار علی کے نام سے مشہور ہے، ریاض اور نجد سے جانے والوں کے لئے قرن المنازل ہے جو السیل الکبیر کے نام سے مشہور ہے، جحفہ اور یلملم بھی مشہور ومعروف ہیں اور سعودی حکومت نے وہاں پر خوبصورت اور عالیشان مساجد بنادی ہیں، نہانے کے لئے غسل خانے اور پاک صاف جگہیں تعمیر کرا دی ہیں جن کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ہر جگہ ہر میقات پر بیسیوں ملازم کام کرتے ہیں اور چوبیس گھنٹے وہاں چہل پہل رہتی ہے «وفق اللّٰه ولاة امور المسلمين ورزقهم مزيدا من التوفيق وحرسها اللّٰه هذه المملكة من كيد الكائدين وأيدي العابثين، آمين يارب العالمين.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب في الاِغْتِسَالِ في الإِحْرَامِ:
احرام کی حالت میں غسل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1831
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي غَسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيّ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَأَتَيْتُ أَبَا أَيُّوبَ وَهُوَ بَيْنَ قَرْنَيْ الْبِئْرِ وَقَدْ سُتِرَ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَضَمَّ الثَّوْبَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ "فَأَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا".
عبدالله بن حنین نے کہا: سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہم کے درمیان محرم کا اپنے سر کو دھونے کے بارے میں اختلاف ہو گیا، چنانچہ انہوں نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ ان سے پوچھوں کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں کس طرح اپنا سر دھوتے ہوئے دیکھا ہے؟ لہٰذا میں سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جو کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان بیٹھے ایک کپڑے کی آڑ میں غسل کر رہے تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے پردہ نیچے کیا، میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کے چچا زاد بھائی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے (یہ پوچھنے کے لئے) کہ آپ نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کیسے دھوتے تھے؟ سو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سر پر پھیرا، آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1831]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1834] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1840] ، [مسلم 1205] ، [ابوداؤد 1840] ، [نسائي 2664] ، [ابن ماجه 2934] ، [أحمد 416/5] ، [ابن ابي شيبه 12846] ، [ابن حبان 3948] ، [الحميدي 383]
وضاحت: (تشریح حدیث 1830)
دوسری روایات میں ہے کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے پانی ڈالنے کو کہا، اس نے پانی ڈالا اور پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے سر پر پھیرا۔
اس سے معلوم ہوا کہ احرام کی حالت میں سر دھونا جائز ہے لیکن بالوں کو رگڑنا نہیں چاہیے، مولانا داؤد راز رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں: اس حدیث کے فوائد میں سے صحابہ کرام کا باہمی طور پر مسائلِ احکام سے متعلق مناظرہ کرنا، پھر نص کی طرف رجوع کرنا اور پھر ان کا خبرِ واحد کو قبول کر لینا بھی ہے ..... انتہیٰ شرح بخاری شریف (1840)۔
ایک روایت میں ہے: مسئلہ معلوم ہوجانے پر سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اب میں کسی مسئلہ میں آپ سے جھگڑا (فی روایۃ مخالفۃ) نہیں کروں گا۔
کما فی مسلم (1205)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں