🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ مِيرَاثِ الْعَبْدِ النَّصْرَانِيِّ وَمُكَاتَبِ النَّصْرَانِيِّ، وَإِثْمِ مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ:
باب: عیسائی غلام یا مکاتب عیسائی کی وراثت کا بیان اور جو اپنے بیٹے کی نفی کر دے اس کے گناہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6765
n
‏‏‏‏ اس باب میں حدیث نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: Q6765]

28. بَابُ مَنِ ادَّعَى أَخًا أَوِ ابْنَ أَخٍ:
باب: جو کسی شخص کے بارے میں اپنا بھائی یا بھتیجا ہونے کا دعویٰ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6765
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَام، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ، قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہا کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ! (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6765]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک لڑکے کے متعلق جھگڑا ہوا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ لڑکا میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ اس کا بیٹا ہے، آپ اس کی شکل و صورت پر نظر فرمائیں۔ حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرا بھائی ہے، میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی شکل و صورت دیکھی تو اس کی عتبہ سے واضح طور پر مشابہت تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبد بن زمعہ! یہ لڑکا آپ کے لیے ہے کیونکہ «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ اور اے سودہ بنت زمعہ! تم اس لڑکے سے پردہ کرو۔ چنانچہ پھر اس لڑکے نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6765]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ:
باب: جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے گناہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6766
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا یہ ابن عبداللہ ہیں، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6766]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف کی، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں، تو اس پر جنت حرام ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6766]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6767
فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
پھر میں نے اس کا تذکرہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے دونوں کانوں نے بھی سنا ہے اور میرے دل نے اس کو محفوظ رکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6767]
میں نے اس حدیث کا ذکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے دونوں کانوں نے بھی سنا ہے اور میرے دل نے اس کو محفوظ (یاد) رکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6767]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6768
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ".
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں جعفر بن ربیعہ نے، انہیں عراک نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے (اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو) یہ کفر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6768]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے دادا سے اعراض نہ کرو۔ جس نے اپنے باپ سے روگردانی کی، اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6768]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ ابْنًا:
باب: کسی عورت کا دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ میرا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6769
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَتْ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کر لے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے، یہ بڑی ہی کا لڑکا ہے لیکن آپ علیہ السلام نے فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں نے «سكين» چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے (اپنے قبیلہ میں) «مدية‏.‏» کا لفظ بولتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6769]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک بیٹا اٹھا کر لے گیا۔ اس نے اپنی سہیلی سے کہا کہ بھیڑیا تیرا بیٹا لے گیا ہے۔ دوسری عورت نے کہا: وہ تو تیرا بیٹا لے گیا ہے۔ دونوں حضرت داود علیہ السلام کے پاس فیصلہ لے گئیں تو انہوں نے فیصلہ بڑی کے حق میں دے دیا۔ پھر وہ دونوں حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس فیصلہ لے گئیں اور واقعہ سے انہیں آگاہ کیا تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس چھری لاؤ، میں اس بچے کو تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہوں۔ چھوٹی عورت نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے! آپ ایسا نہ کریں، یہ اس (بڑی) کا ہی بیٹا ہے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس دن سے پہلے کبھی لفظ «السِّكِّينُ» نہیں سنا تھا۔ ہم تو چھری کے لیے «الْمُدْيَةُ» کا لفظ بولتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6769]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ الْقَائِفِ:
باب: قیافہ شناش کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6770
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں ایک مرتبہ بہت خوش خوش تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں دیکھا، مجزز (ایک قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے (صرف پاؤں دیکھے) اور کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6770]
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں ایک دفعہ بہت خوش خوش تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے خطوط چمک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز (قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6771
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش تھے اور فرمایا عائشہ! تم نے دیکھا نہیں، مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ اور زید (رضی اللہ عنہما) کو دیکھا، دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو ڈھک لیا تھا اور ان کے صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6771]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں بہت خوش خوش تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا جبکہ ان دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو چھپا رکھا تھا، ان کے صرف پاؤں کھلے تھے تو اس نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں