🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مِيرَاثِ الزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ:
باب: اولاد کے ساتھ خاوند کو کیا ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6739
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11، وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ، وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پہلے مال کی اولاد مستحق تھی اور والدین کو وصیت کا حق تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کر دیا اور لڑکوں کو لڑکیوں کے دگنا حق دیا اور والدین کو اور ان میں سے ہر ایک کو چھٹے حصہ کا مستحق قرار دیا اور بیوی کو آٹھویں اور چوتھے حصہ کا حق دار قرار دیا اور شوہر کو آدھے یا چوتھائی کا حقدار قرار دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6739]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”پہلے سارا مال اولاد کے لیے ہوتا تھا اور والدین کے لیے وصیت تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کر دیا اور لڑکوں کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا، نیز والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ دیا۔ اس کے علاوہ بیوی کے لیے آٹھواں اور چوتھا حصہ مقرر فرمایا اور شوہر کو نصف یا چوتھائی حصے کا حق دار قرار دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6739]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ:
باب: بیوی اور خاوند کو اولاد وغیرہ کے ساتھ کیا ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6740
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا، بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى لَهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا، وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت ملیا بنت عویمر کے بچے کے بارے میں جو ایک عورت کی مار سے مردہ پیدا ہوا تھا کہ مارنے والی عورت کو خون بہا کے طور پر ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ پھر وہ عورت بچہ گرانے والی جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا مر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر کو دے دی جائے اور یہ دیت ادا کرنے کا حکم اس کے کنبہ والوں کو دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6740]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے جنین کے متعلق فیصلہ فرمایا جو مردہ پیدا ہوا تھا کہ ”مارنے والی عورت ایک غلام یا لونڈی خون بہا کے طور پر ادا کرے“، پھر وہ عورت جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا مر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس کی وراثت اس کے بیٹوں اور شوہر کے لیے ہے جبکہ دیت اس کے کنبے والوں کو ادا کرنا ہوگی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6740]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً:
باب: بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہو جاتی ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6741
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قَالَ:" قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النِّصْفُ لِلْابْنَةِ وَالنِّصْفُ لِلْأُخْتِ". ثُمَّ قَالَ سُلَيْمَانُ: قَضَى فِينَا وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمارے درمیان یہ فیصلہ کیا تھا کہ آدھا بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔ پھر سلیمان نے جو اس حدیث کو روایت کیا تو اتنا ہی کہا کہ معاذ نے ہم کنبہ والوں کو یہ حکم دیا تھا یہ نہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6741]
حضرت اسود بن یزید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے درمیان یہ فیصلہ کیا تھا کہ آدھا بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔“ پھر سلیمان نے یہ حدیث بیان کی تو اتنا ہی کہا کہ ”(حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے) ہمارے درمیان فیصلہ کیا تھا“، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6741]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6742
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: للْابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ".
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوقیس (عبدالرحمٰن بن عزوان) نے، ان سے ہزیل بن شرحبیل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا، لڑکی کو آدھا، پوتی کو چھٹا اور جو باقی بچے بہن کا حصہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6742]
حضرت ہذیل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو اس معاملے میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، آپ نے بیٹی کو نصف، پوتی کو چھٹا حصہ اور جو باقی بچا وہ بہن کو دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6742]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ وَالإِخْوَةِ:
باب: بہنوں اور بھائیوں کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6743
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ نَضَحَ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا لِي أَخَوَاتٌ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ".
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر اپنے وضو کے پانی سے مجھ پر چھینٹا ڈالا تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہنیں ہیں؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6743]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میں بیمار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو فرمایا، پھر اپنے وضو کے پانی سے مجھ پر چھینٹے مارے تو مجھے ہوش آگیا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری بہنیں ہیں، اس پر فرائض سے متعلقہ آیت نازل ہوئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6743]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ}:
باب: سورۃ نساء میں اللہ کا یہ فرمان کہ لوگ وراثت کے بارے میں آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے متعلق یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی بہنیں ہوں تو بہن کو ترکہ کا آدھا ملے گا۔ اسی طرح یہ شخص اپنی بہن کا وارث ہو گا اگر اس کا کوئی بیٹا نہ ہو۔ پھر اگر بہنیں دو ہوں تو وہ دو تہائی ترکہ سے پائیں گی اور اگر بھائی بہن سب ملے جلے ہوں تو مرد کو دہرا حصہ اور عورت کو اکہرا حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بیان کرتا ہے کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6744
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آخری آیت (میراث کی) سورۃ نساء کے آخر کی آیتیں نازل ہوئیں «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة‏» کہ ”آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6744]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سب سے آخری آیت جو نازل ہوئی وہ سورہ نساء کا خاتمہ ہے اور وہ یہ ہے ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6744]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلأُمِّ وَالآخَرُ زَوْجٌ:
باب: اگر کوئی عورت مر جائے اور اپنے دو چچا زاد بھائی چھوڑ جائے ایک تو ان میں سے اس کا اخیائی بھائی ہو، دوسرا اس کا خاوند ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6745
وَقَالَ عَلِيٌّ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا خاوند کو آدھا حصہ ملے گا اور اخیائی بھائی کو چھٹا حصہ (بموجب فرض کے) پھر جو مال بچ رہے گا یعنی ایک ثلث وہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا (کیونکہ دونوں عصبہ ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: Q6745]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6745
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا، فَمَالُهُ لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعًا، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلِأُدْعَى لَهُ". الْكَلُّ: الْعِيَالُ.
ہم سے محمود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا ولی ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6745]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اہل ایمان کا خود ان کی ذاتوں سے بھی زیادہ قریبی ہوں، لہٰذا جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے رشتہ داروں کا ہے جو عصبہ ہیں اور جس نے عاجز عیال یا بچے چھوڑے ہوں (اور مال نہ ہو) ان کا میں ضامن ہوں، ان کے لیے مجھے بلایا جائے۔“ «الْكَلُّ» کے معنی اہل عیال ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6745]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6746
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ".
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے روح نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میراث اس کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو کچھ اس میں سے بچ رہے وہ قریبی عزیز مرد کا حق ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6746]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقررہ حصے ان کے حق داروں کو پہنچا دو اور جو کچھ ان سے باقی رہے وہ قریبی عزیز مرد کا حصہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6746]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ ذَوِي الأَرْحَامِ:
باب: ذوی الارحام (جیسے ماموں، خالہ، نانا، نواسہ، بھانجا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6747
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ، قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ، حَدَّثَكُمْ إِدْرِيسُ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 قَالَ:" كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، يَرِثُ الْأَنْصَارِيُّ، الْمُهَاجِرِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ"، فَلَمَّا نَزَلَتْ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 قَالَ: نَسَخَتْهَا: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سے ادریس نے بیان کیا تھا، ان سے طلحہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «ولكل جعلنا موالي‏» اور «والذين عقدت أيمانكم‏» کے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کرائی تھی، پھر جب آیت «جعلنا موالي‏» نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے «والذين عقدت أيمانكم‏» کو منسوخ کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6747]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”(جو کچھ ترکہ والدین یا قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں) ہم نے ان کے وارث مقرر کر دیے ہیں، اور وہ لوگ بھی جن سے تم نے عقد باندھ رکھا ہے“ کے متعلق فرمایا: ”جب مہاجرینِ اسلام مدینہ طیبہ آئے تو مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا تھا اور انصاری کے رشتے داروں کو ترکے سے حصہ نہیں ملتا تھا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان مؤاخات کرا دی تھی، پھر جب یہ آیت اتری: ”ہم نے ہر ایک کے وارث بنا رکھے ہیں۔“ تو اس نے عقدِ موالات کا سلسلہ منسوخ کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6747]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں