صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ:
باب: جب کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے (تو وہ اس کا وارث ہوتا ہے یا نہیں)۔
حدیث نمبر: Q6757
وَكَانَ الْحَسَنُ لَا يَرَى لَهُ وِلَايَةً، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَيُذْكَرُ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَفَعَهُ قَالَ هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ وَاخْتَلَفُوا فِي صِحَّةِ هَذَا الْخَبَرِ
اور امام حسن بصری اس کے ساتھ ولاء کے تعلق کو درست نہیں سمجھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو آزاد کرے اور تمیم بن اوس داری سے منقول ہے، انہوں نے مرفوعاً روایت کی کہ وہ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں سب لوگوں سے زیادہ اس پر حق رکھتا ہے لیکن اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: Q6757]
حدیث نمبر: 6757
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کنیز کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو کنیز کے مالکوں نے کہا کہ ہم بیچ سکتے ہیں لیکن ولاء ہمارے ساتھ ہو گی۔ ام المؤمنین نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شرط کو مانع نہ بننے دو، ولاء ہمیشہ اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6757]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی (بریرہ) خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو لونڈی کے آقاؤں نے کہا: ”ہم آپ کو لونڈی اس شرط پر فروخت کرتے ہیں کہ اس کی ولا ہمارے لیے ہوگی۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی شرط تمہیں خریدنے سے منع نہ کرے کیونکہ ولا کا حق دار تو وہی ہوتا ہے جو اسے آزاد کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6758
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا".
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہو گی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6758]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا تو اس کے آقاؤں نے ولا اپنے لیے رکھنے کی شرط عائد کی۔ میں نے اس امر کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر آزاد کر دو۔ ولا تو اس کے لیے ہوتی ہے جو روپے خرچ کرے“، چنانچہ میں نے اسے خرید کر آزاد کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اپنے خاوند کی زوجیت میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اگر وہ مجھے اتنا مال بھی دے تو میں پھر بھی اس کے پاس نہ رہوں گی“، چنانچہ انہوں نے شوہر سے آزادی کو پسند کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6758]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
23. بَابُ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلاَءِ:
باب: ولاء کا تعلق عورت کے ساتھ قائم ہو سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 6759
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَقَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُمْ يَشْتَرِطُونَ الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے (آزاد کرائے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6759]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بریرہ کو خرید لو، «الْوَلَاءُ» ”ولا“ اسی کے لیے ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6759]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6760
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ".
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو قیمت دے اور احسان کرے (آزاد کر کے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6760]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْوَلَاءُ» تو اس کا حق ہے جو قیمت دے اور (اسے آزاد کر کے) احسان کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6760]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
24. بَابُ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَابْنُ الأُخْتِ مِنْهُمْ:
باب: جو شخص کسی قوم کا غلام ہو آزاد کیا گیا وہ اسی قوم میں شمار ہو گا، اسی طرح کسی قوم کا بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 6761
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" أَوْ كَمَا قَالَ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ اور قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا غلام اسی کا ایک فرد ہوتا ہے“ «أو كما قال.» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6761]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی گھرانے کا آزاد کردہ غلام اسی کا ایک فرد ہوتا ہے۔“ «أَوْ كَمَا قَالَ» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6761]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6762
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے۔“ ( «منهم".» یا «من أنفسهم» کے الفاظ فرمائے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6762]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی گھرانے کا بھانجا انہی میں سے ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6762]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
25. بَابُ مِيرَاثِ الأَسِيرِ:
باب: قیدی کی وراثت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6763
قَالَ وَكَانَ شُرَيْحٌ يُوَرِّثُ الْأَسِيرَ فِي أَيْدِي الْعَدُوِّ وَيَقُولُ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَجِزْ وَصِيَّةَ الْأَسِيرِ وَعَتَاقَهُ وَمَا صَنَعَ فِي مَالِهِ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ فَإِنَّمَا هُوَ مَالُهُ يَصْنَعُ فِيهِ مَا يَشَاءُ
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ شریح قاضی قیدی کو ترکہ دلاتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ تو اور زیادہ محتاج ہے۔ اور عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ قیدی کی وصیت اور اس کی آزادی اور جو کچھ وہ اپنے مال میں تصرف کرتا ہے وہ نافذ ہو گی جب تک وہ اپنے دین سے نہیں پھرتا کیونکہ وہ مال اسی کا مال رہتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: Q6763]
حدیث نمبر: 6763
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مال چھوڑا (اپنی موت کے بعد) وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا ہے وہ ہمارے ذمہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6763]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وراثوں کے لیے ہے اور جس نے قرض یا محتاج اہل عیال چھوڑا وہ ہمارے ذمے ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6763]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلاَ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَإِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ فَلاَ مِيرَاثَ لَهُ:
باب: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مسلمان کا اور اگر میراث کی تقسیم سے پہلے اسلام لایا تب بھی میراث میں اس کا حق نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6764
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے علی بن حسین نے بیان کیا، ان سے عمر بن عثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان باپ کافر بیٹے کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر بیٹا مسلمان باپ کا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6764]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر کسی مسلمان کا وارث ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6764]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة