🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ مِيرَاثِ الْمُلاَعَنَةِ:
باب: لعان کرنے والی عورت کی وراثت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6748
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ".
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لعان کیا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور بچہ عورت کو دے دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6748]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی اور بچے کو ماں کے ساتھ لاحق (منسوب) کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6748]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً:
باب: بچہ خواہ آزاد ہو یا غلام اسی کا کہلائے گا جس کا بستر ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6749
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ عُتْبَةُ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی کنیز کا لڑکا میرا ہے اور اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینا چاہا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ اس پر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ!، یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اس نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا لڑکا اور باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! یہ تمہارے پاس رہے گا، لڑکا بستر کا حق ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ عتبہ کے ساتھ اس کی شباہت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لی تھی۔ چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو اپنی وفات تک نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6749]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عتبہ اپنے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے، اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چنانچہ فتحِ مکہ کے سال حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینا چاہا اور کہا: یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے متعلق وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے، نیز اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں اپنا معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے جبکہ اس نے مجھے اس کے متعلق وصیت بھی کی تھی۔ حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیانات سن کر) فرمایا: اے عبدالرحمن بن زمعہ! یہ تمہارے پاس رہے گا۔ «اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اس سے پردہ کیا کرو۔ اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت عتبہ سے دیکھی، چنانچہ اس لڑکے نے پھر حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو نہ دیکھا حتیٰ کہ فوت ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6749]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6750
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکا بستر والے کا حق ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6750]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحبِ فراش کا ہوگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6750]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَمِيرَاثُ اللَّقِيطِ:
باب: غلام لونڈی کا ترکہ وہی لے گا جو اسے آزاد کرے اور جو لڑکا راستہ میں پڑا ہوا ملے اس کی وراثت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6751
وَقَالَ عُمَرُ اللَّقِيطُ حُرٌّ
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو لڑکا پڑا ہوا ملے اور اس کے ماں باپ نہ معلوم ہوں تو وہ آزاد ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: Q6751]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6751
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُهْدِيَ لَهَا شَاةٌ , فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ"، قَالَ الْحَكَمُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا وَقَوْلُ الْحَكَمِ: مُرْسَلٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6751]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خرید لو، ولا تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو ایک بکری بطور صدقہ ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے کہا: بریرہ کا شوہر آزاد تھا لیکن حکم کا قول مرسل طور پر منقول ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اسے غلام دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6751]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6752
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6752]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَلَاء تو اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6752]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ:
باب: سائبہ وہ غلام یا لونڈی جس کو مالک آزاد کر دے اور کہہ دے کہ تیری ولاء کا حق کسی کو نہ ملے گا کی وراثت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6753
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ لَا يُسَيِّبُونَ، وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُسَيِّبُونَ".
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوقیس نے، ان سے ہزیل نے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مسلمان سائبہ نہیں بناتے اور دور جاہلیت میں مشرکین سائبہ بناتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6753]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مسلمان سائبہ نہیں بناتے (بتوں کے نام پر جانور نہیں چھوڑتے۔) دورِ جاہلیت میں مشرکین (بتوں کے نام پر) آزاد کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6753]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6754
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ" أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا، وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، أَوْ قَالَ أَعْطَى الثَّمَنَ، قَالَ: فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا، قَالَ وَخُيِّرَتْ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ"، قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا". قَوْلُ الْأَسْوَدِ: مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا: أَصَحُّ.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6754]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدا تو اس کے آقاؤں نے شرط عائد کر دی کہ اس کی ولا ان کے لیے ہوگی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن اس کے آقاؤں نے اپنے لیے اس کی ولا کو مشروط کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو آزاد کر دے۔ ولا تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ یا فرمایا: قیمت ادا کرنے والے کے لیے ولا ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خرید کر آزاد کر دیا۔ پھر اسے اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں اور اس سے علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا: اگر مجھے اتنا مال دیا جائے تو بھی اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں کروں گی۔ اسود نے کہا: اس کا شوہر آزاد تھا۔ ان کا قول منقطع ہونے کی وجہ سے قابلِ حجت نہیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح تر ہے کہ میں نے اسے غلام دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6754]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ إِثْمِ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَوَالِيهِ:
باب: جو غلام اپنے اصلی مالکوں کو چھوڑ جائے اس کا گناہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6755
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ، قَالَ: وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں (کے قصاص) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ (قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6755]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے علاوہ اور کوئی نوشتہ نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں۔ ہاں یہ ایک صحیفہ نکالا تو اس میں زخمیوں کے قصاص اور اونٹوں کی زکاۃ کے مسائل تھے۔ اس میں یہ بھی تھا: مدینہ عیر پہاڑ سے ثور تک حرم ہے۔ اس میں جس نے کسی بدعت کو ایجاد کیا یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نفل یا فرض قبول نہیں کیا جائے گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے موالات قائم کر لی، اس پر اللہ کی لعنت، نیز فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نفل یا فرض قبول نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کا عہد ذمہ ایک ہی ہے۔ ادنیٰ مسلمان بھی اس کی تکمیل میں کوشش کرے۔ جس نے مسلمانوں کے عہد کو پامال کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل فرض یا نفل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6756
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے تعلق کو بیچنے، اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6756]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولا کی خرید و فروخت اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6756]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں