مختصر حصن المسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
1. فضل الذكر
ذکر کی فضیلت
حدیث نمبر: 7
مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَٰهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَٰهِ تِرَةٌ، وَمَنْ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا، لَا يَذْكُرُ اللَٰهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَٰهِ تِرَةٌ
”جو شخص کسی جگہ بیٹھا اور وہاں اس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ جگہ اللہ کی طرف سے اس کے لئے باعث نقصان (گھبراہٹ و پریشانی) ہو گی اور جو شخص کسی جگہ لیٹا جہاں اس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ جگہ اس کے لئے اللہ کی طرف سے باعث نقصا ن (گھبراہٹ و پریشانی) ہو گی۔ [ حسن، سنن ابي داؤد:4856 وعنده: ”لايذكر“ السنن الكبريٰ للنسائي:237/1]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 7]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 7]
حدیث نمبر: 8
مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَٰهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ
”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھی اور وہاں پر اللہ کا ذکر نہیں کیا، نہ ہی اپنے نبی پر درود بھیجا تو وہ مجلس ان کے لئے باعث نقصان ہو گی، پھر اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب (سزا) دے اور اگر چاہے تو انہیں معاف فرما دے۔“ [ضعيف، سنن ترمذي:3380] «و الحديث حسن دون قوله: ”فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَله» [انظر الحديث السابق 11]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 8]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 8]
حدیث نمبر: 9
مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَٰهَ فِيهِ، إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً
”جو قوم کسی ایسی مجلس سے اٹھتی ہے جس میں انھوں نے اللہ کا ذکر نہیں کیا ہوتا تو گدھے کی سڑی ہوئی لاش جیسی چیز سے اٹھتی ہے اور یہ مجلس ان کے لئے باعث حسرت ہو گی۔“ [اسناده صحيح، ابوداؤد:4855، مسند احمد:224/2]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 9]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 9]
2. أذكار الاستيقاظ من النوم
نیند سے بیدار ہونے کی دعائیں
حدیث نمبر: 10
الحَمْدُ لِلَٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
”تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔“ [صحيح بخاري:6312: عن حذيفه بن يمان رضي الله عنه، صحيح مسلم:2711: عن البراء بن عازب رضي الله عنه]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 10]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 10]
حدیث نمبر: 11
لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَٰهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَٰهِ، وَالحَمْدُ لِلَٰهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَٰهُ، وَاللَٰهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، رَبِّ اغْفِرْ لِي
”اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، جو وحدہ لا شریک ہے، اسی کے لئے بادشاہت اور اسی کے لئے تمام حمد و ثنا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ پاک ہے، تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اللہ سب سے بڑا ہے۔ (کسی گناہ سے بچنے کی) کوئی طاقت اور (نیکی کرنے کی) کوئی قوت اللہ بلند و عظمت والے کی توفیق و مدد کے بغیر نہیں۔ اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔“
نوٹ:- جس شخص نے یہ کلمات کہے اسے بخش دیا جاتا ہے اور اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، پھر اگر وہ (بستر سے) اٹھا باوضو ہو کے نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔ [صحيح بخاري:1154، سنن ابن ماجه:3878، واللفظ «الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»، سنن ابي داؤد:5060، سنن ترمذي:3414]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 11]
نوٹ:- جس شخص نے یہ کلمات کہے اسے بخش دیا جاتا ہے اور اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، پھر اگر وہ (بستر سے) اٹھا باوضو ہو کے نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔ [صحيح بخاري:1154، سنن ابن ماجه:3878، واللفظ «الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»، سنن ابي داؤد:5060، سنن ترمذي:3414]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 11]
حدیث نمبر: 12
الحَمْدُ لِلَٰهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ
”تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے میرے جسم میں صحت و عافیت عطا کی، اور میری روح مجھے لوٹا دی اور مجھے اپنا ذکر کرنے کی اجازت دی۔“ [ضعيف، سنن ترمذي:3401 و حديث البخاري:7393، و مسلم:2714 يغني عنه]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 12]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 12]
حدیث نمبر: 13
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ [190] «الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَٰهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [191] «رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ [192] «رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ [193] «رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ [194] «فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَٰهِ وَاللَٰهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ [195] «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ [196] «مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ [197] «لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِنْ عِنْدِ اللَٰهِ وَمَا عِنْدَ اللَٰهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ [198] «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَٰهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَٰهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَٰهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَٰهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ [199] «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [سورة آل عمران:200]
”آسمان اور زمین کی پیدائش میں، اور رات دن کے آنے جانے میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کھڑے ہو کر، بیٹھ کر اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں، آسمان و زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بے فائدہ نہیں بنایا، تو پاک ہے، ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے پالنے والے تو جسے جہنم میں ڈالے یقیناً تو نے اسے رسوا کیا، اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔ اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے والا با آواز بلند ایمان کی طرف بلارہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، اس لئے ہم ایمان لے آئے، یا الہٰی! اب تو ہمارے گناہ معاف فرمااور ہماری برائیان ہم سے ختم کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔ اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے۔ اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا۔ یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہرگز ضائع نہیں کروں گا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، اس لئے وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دئیے گئےاور جنہیں میری راہ میں تکلیف دی گئی، اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کر دئیے گئے میں ضرور ان کی برائیاں ان سے ختم کردوں گا، اور بلاشبہ انہیں ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں یہ ہے ثواب اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین اجر ہے۔ تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ یہ تو بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی سے اور نیک لوگوں کے لئےجو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے یقیناً اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور جو ان کی جانب اترا اس پر بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو کم قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان لوگوں کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ اے اہل ایمان! تم ثابت قدمی اختیار کرو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لئے تیار رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“ [3-آل عمران:190، 200]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 13]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 13]
3. دعاء لبس الثوب
کپڑا پہننے کی دعا
حدیث نمبر: 14
الْحَمْدُ لِلَٰهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي، وَلَا قُوَّةٍ السلام السلام
”تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، اور اس نے مجھے (یہ کپڑا) میری کسی طاقت اور قوت کے بغیر عطا فرمایا۔“ [حسن، سنن ابي داؤد:4023، سنن ترمذي:3458 و قال: ”حسن غریب“]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 14]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 14]
4. دعاء لبس الثوب الجديد
نیا لباس پہننے کی دعا
حدیث نمبر: 15
اللَٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ، وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
”اے اللہ تیرے ہی لئے تمام تعریفات ہیں، تو نے ہی مجھے یہ (لباس) پہنایا ہے میں تجھ سے اس لباس کی اور جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ اور میں اس کے شر اور جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہو۔“ [اسناده حسن، سنن ابي داؤد:4020، سنن ترمذي:1767]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 15]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 15]
5. الدعاء لمن لبس ثوباً جديداً
نیا لباس پہننے والے کو کیا دعا دی جائے
حدیث نمبر: 16
تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَٰهُ تَعَالىٰ
”تو اسے بوسیدہ کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے بعد تمہیں مزید عطا فرمائے۔“ [ اسناده حسن موقوف، سنن ابي داؤد:4020]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 16]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 16]