🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
111.  باب التبسم 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 188
(250/1) /188 وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يدخل من هذا الباب رجل من خير ذي يَمَن، على وجهه مسحةُ (1) مَلَك" فدخل جرير.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دروازے سے یمن کا ایک بہترین شخص داخل ہو گا اور اس کے چہرے پر فرشتے نے ہاتھ پھیرا ہے (یعنی انتہائی حسین و جمیل ہیں)، اس کے بعد جریر داخل ہوے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
189/251 عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت:" ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضاحكاً قط حتى أرى منه لهواته، إنما كان يتبسم صلى الله عليه وسلم". قالت: وكان إذا رأى غيماً أو ريحاً عرف في وجهه (وفي طريق: إذا رأى مخيلة دخل وخرج، وأقبل وأدبر وتغير وجهه، فإذا أمطرت سري عنه/908) . فقالت: يا رسول الله! إن الناس إذا رأوا الغيم فرحوا؛ رجاء أن يكون فيه المطر، وأراك إذا رأيته عُرِفَت في وجهك الكراهة؟ فقال:" يا عائشة! ما يؤمني أن يكون فيه عذاب؟ عذّب قوم بالريح، وقد رأى قوم العذاب منه. فقالوا:?هذا عارض ممطرنا? [الأحقاف: 24] (ومن الطريق الأخرى: وما أدري لعله كما قال الله عز وجل:? فلما رأوه عارضاً مستقبل أوديتهم? الآية) .
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا کھل کر ہنستے کبھی نہیں دیکھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے حلق) کا کوا دیکھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکراتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی گہرا بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اس(دہشت اور خوف) کے اثرات معلوم ہوتے تھے، اور ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرجنے اور برسنے والا بادل دیکھتے تو کبھی اندر آتے، کبھی باہر نکلتے اور کبھی آتے، کبھی جاتے اور آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا۔ جب بارش برسا دیتا تو آپ کی یہ کیفیت دور کر دی جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ جب گہرا بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ شاید پانی برسے گا، اور آپ جب دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! میں ان سے بےخوف نہیں ہوتا کہ اس میں عذاب ہو ایک قوم پر آندھی سے عذاب آ چکا ہے، اور ایک قوم نے اسی طرح کا عذاب دیکھا ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ تو بادل ہے ہمیں بارش دے گا۔ اور ایک اور سند سے ہے: اور میں نہیں جانتا شاید یہ ویسے ہی ہو جیسے اللہ نے ارشاد فرمایا: جب انہوں نے اسے دیکھا بادل ہے جو میدانوں میں بڑھتا چلا آ رہا ہے (تو انہوں نے کہا: ‏ «‏هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا» ‏ ‏‏)۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112.  باب الضحك 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 190
190/252 عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" أقلّ (وفي رواية: لا تكثروا/ 253) الضحك؛ فإن كثرة الضحك تميت القلب".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم کرو اور ایک رویت میں ہے: زیادہ نہ ہنسا کرو، بیشک زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 191
191/254 عن أبي هريرة قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم على رهطٍ من أصحابه، يضحكون ويتحدثون، فقال:" والذي نفسي بيده! لو تعلمون ما أعلم، لضحكتم قليلاً، ولبكيتم كثيراً". ثم انصرف وأبكى القوم، وأوحى الله عز وجل إليه: يا محمد! لم تُقّنّط عبادي؟ فرجع النبي صلى الله عليه وسلم فقال:" أبشروا، وسددوا، وقاربوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے پاس گئے جو ہنس رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنسا کرتے اور زیادہ رویا کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو واپس چلے گئے اور لوگوں کو رلا دیا۔ اور اللہ عزوجل نے آپ کی طرف وحی بھیجی، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے بندوں کو مایوس کیوں کرتے ہیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، سیدھی راہ پر چلو اور ایک دوسرے سے قریب ہو جاؤ۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
113.  باب إذا أقبل أقبل جميعا وإذا أدبر أدبر جميعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 192
192/255 عن موسى بن مسلم مولى ابنةِ قارظٍ، عن أبي هريرة أنه ربما حدّث، عن النبي صلى الله عليه وسلم فيقول: حدثنيه أهدبُ الشفرين (1) ، أبيض الكشحين (2) ، إذا أقبل؛ أقبل جميعاً، وإذا أدبر أدبر جميعاً، لم تر عين مثله، ولن تراه.
موسی بن مسلم، قارظ کی بیٹی کے غلام سے مروی ہے وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت کرتے ہیں کہ وہ اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے تو فرماتے کہ مجھ سے یہ حدیث لمبی پلکوں والوں اور سفید پہلوں والی ہستی نے بیان کی ہے۔ جب آپ متوجہ ہوتے تو پورے جسم کے ساتھ متوجہ ہوتے اور جب پشت پھیر کر جاتے تو پوری پشت پھیر کر جاتے، نہ کسی آنکھ نے آپ جیسا دیکھا ہے نہ کبھی دیکھے گا۔ اس نے جس کے لیب خوبصورت، رنگ سفیدی مائل تھا، اور جب سامنے آتے تھے تو تمام تر اور جب منہ پھیرتے تو تمام تر، نہ کسی آنکھ نے اس جیسا کبھی دیکھا ہے اور نہ کبھی دیکھ سکے گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
114.  باب المستشار مؤتمن 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
193/256 عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي الهيثم:" هل لك خادم؟". قال: لا. قال:"فإذا أتانا سبيٌ، فأتِنا". فأتي النبي صلى الله عليه وسلم برأسين ليس معهما ثالثٌ، فأتاه أبو الهيثم. قال النبي صلى الله عليه وسلم:" اختر منهما". قال: يا رسول الله! اختر لي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" إن المستشار مؤتمن، خذ هذا؛ فإني رأيته يصلي، واستوص به خيراً". فقالت امرأته: ما أنت ببالغ ما قال فيه النبي صلى الله عليه وسلم إلا أن تعتقه. قال: فهو عتيق. فقال النبي صلى الله عليه وسلم:"إن الله لم يبعث نبياً ولا خليفة، إلا وله بطانتان: بطانة تأمره بالمعروف وتنهاه عن المنكر، وبطانةً لا تألوه خبالاً (1) ، ومن يوق بطانة السوء فقد وُقيَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالہیثم سے فرمایا: تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟ عرض کی، نہیں۔ فرمایا: جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو تم بھی آنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے، ان کے ساتھ تیسرا کوئی نہیں تھا، اس وقت ابوالہیثم بھی آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ان دونوں میں سے ایک چن لو۔ عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہی میرے لئے چن دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے۔ اس کو لے جاؤ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو، ابوالہیثم کی بیوی نے کہا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی اچھی طرح رکھنے کو فرمایا ہے تم نہ رکھ سکو گے، جب تک کہ اسے آزاد نہ کر دو۔ ابوالہیثم نے کہا: تو یہ آزاد ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے کوئی ایسا نبی یا اپنا جانشیں نہیں بھیجا جس کے دو قسم رازدان نہ ہوں، ایک رازدان تو وہ ہوتے ہیں جو اسے اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں، اور کچھ وہ رازدان ہوتے ہیں جو اسے نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے۔ اور جسے برے رازدانوں سے بچا لیا گیا اس کو حقیقت میں بچا لیا گیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115.  باب المشورة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 194
194/257 عن عمرو بن دينار قال: قرأ ابن عباس:? وشاورهم في [ بعض] الأمر? [آل عمران: 159] .
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت تلاوت کی: اور ان سے کچھ معاملات میں مشورہ کر لیا کرو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
195/258 عن الحسن قال:" والله! ما استشار قوم قط إلا هدوا لأفضل ما بحضرتهم، ثم تلا:? وأمرُهُم شورى بينهم? [الشورى: 38] .
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جب کسی قوم نے مشورہ کا طریقہ اختیار کیا تو ان کی راہنمائی ایسی بات کی طرف کر دی گئی جو سب سے بہتر بات ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی، اور ان کے معاملات ان کے آپس کے مشورے پر ہوتے ہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
116.  باب إثم من أشار على أخيه بغير رشد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
196/259 عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" من تقوّل علي ما لم أقل، فليبتوّأ مقعده من النار".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری طرف منسوب کر کے ایسی جھوٹی بات بنائی جو میں نے کہی نہیں ہے اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے اور جس نے اپنے مسلمان بھائی کو ایسا مشورہ دے دیا جو اس کی نظر میں صحیح نہیں ہے اس نے خیانت کی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: (صحيح لغيره)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
117.  باب التحاب بين الناس
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
197/260 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" والذي نفسي بيده! لا تدخلوا الجنة حتى تُسلموا، ولا تسلموا حتى تحابوا، وأفشوا السلام تحابّوا، وإياكم والبغضةَ؛ فإنها هي الحالقةُ، لا أقول لكم: تحلق الشعر، ولكن تحلق الدين".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ جنت میں اس وقت تک نہیں جا سکتے جب تک کہ مسلمان نہ ہو جاؤ اور تم مسلمان اس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ اور سلام کو عام کرو اس سے تم آپس میں محبت کرنے لگو گے اور باہمی نفرت سے بچو، بیشک یہ تو مونڈ دینے والی ہے۔ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ بالوں کو مونڈتی ہے، بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: (حسن لغيره)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں