🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (عَدَمُ سُجُودِ النَّبِيِّ ﷺ بَعْدَ الهِجْرَةِ فِي سُوَرِ المُفَصَّلَاتِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مفصلات کی سورتوں میں سجدہ نہیں کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1034
1034 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رِضَى اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سے مدینہ تشریف لائے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مفصل سورتوں میں سجدہ نہیں فرمایا۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1403) [و ابن خزيمة: 560]
٭ أبو قدامة حارثة بن عبيد: ضعيف ضعفه الجمھور من جھة حفظه و أخرج له مسلم متابعة (2667، 2838)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَيُّ دُعَاءٍ يُقَالُ فِي سُجُودِ التِّلَاوَةِ)
سجدہ تلاوت میں کون سی دعا پڑھی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1035
1035 - وَعَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ:"سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے وقت سجدۂ تلاوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ» ”میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا، جس نے اسے پیدا فرمایا، اور اپنی قدرت و طاقت سے کان اور آنکھیں بنائیں۔“ ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه أبو داود (1414) و الترمذي (580) والنسائي (222/2 ح 1130) [و صححه الحاکم علٰي شرط الشيخين (1/ 220) ووافقه الذهبي!]
٭ سنده ضعيف من أجل الرجل الذي في السند و ھو مجھول وھو من المزيد في متصل الأسانيد و لبعضه شاھد عند مسلم والحديث صحيح في السجود مطلقًا.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ الشَّجَرَةِ عِنْدَ سُجُودِ التِّلَاوَةِ)
سجدہ تلاوت کے وقت درخت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1036
1036 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَسَجَدْتُ، فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَرَأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے رات خواب میں دیکھا کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، پس میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدہ کرنے کی وجہ سے سجدہ کیا، میں نے اسے یہ پڑھتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ» ”اے اللہ میرے لیے اس کا ثواب اپنے ہاں لکھ لے، اس کے ذریعے میرے گناہ معاف فرما، اسے اپنے ہاں ذخیرہ بنا، اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام سے قبول فرمایا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت سجدہ تلاوت فرمائی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا، میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وہی دعا کرتے ہوئے سنا جو آدمی نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو درخت کے متعلق بتائی تھی: ” «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ» اے اللہ میرے لیے اس کا ثواب اپنے ہاں لکھ لے، اس کے ذریعے میرے گناہ معاف فرما، اسے اپنے ہاں ذخیرہ بنا، اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام سے قبول فرمایا۔“ ترمذی، ابن ماجہ: لیکن انہوں نے «وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (579) و ابن ماجه (1053) [و صححه ابن خزيمة (562) و ابن حبان (691) والحاکم (1/ 219، 220) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُجُودُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي سُورَةِ النَّجْمِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نجم کا سجدہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1037
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1037 - عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ: وَالنَّجْمِ، فَسَجَدَ فِيهَا، وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى - أَوْ تُرَابٍ - فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم کی تلاوت فرمائی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور جو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے سب نے سجدہ کیا، لیکن ایک بوڑھے قریشی نے کنکریوں یا مٹی کی مٹھی بھری اور اسے اپنی پیشانی تک لایا اور کہنے لگا: ”میرے لیے بس یہی کافی ہے“، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے بعد میں نے اسے دیکھا کہ وہ حالتِ کفر میں مارا گیا۔ بخاری، مسلم۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ وہ امیہ بن خلف تھا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1070) و مسلم (105/ 576)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي سُورَةِ صٓ)
سورہ صٓ میں سجدہ تلاوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1038
1038 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ فِي (ص) ، وَقَالَ:"سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا"، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] کی تلاوت پر سجدہ کیا اور فرمایا: ”داؤد علیہ السلام نے توبہ کے لیے سجدہ کیا جبکہ ہم بطور شکر سجدہ کرتے ہیں۔“ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه النسائي (2/ 159 ح 958) وأعل بما لا يقدح.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ أَوْقَاتِ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ)
نماز کے ممنوعہ اوقات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1039
[ 22 ] - بَابُ أَوْقَاتِ النَّهْيِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1039 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا". وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ:"إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ وَلَا تَحَيَّنُوا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے۔“ اور ایک روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو جائے تو نماز نہ پڑھو حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر ظاہر ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ غروب ہو جائے تو نماز نہ پڑھو حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر غروب ہو جائے، اور سورج کے طلوع و غروب کے اوقات کو اپنی نماز کے لیے متعین نہ کرو، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں (کناروں) کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (583، 3272) و مسلم (291/ 829)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الوَقْتُ الَّذِي يُمْنَعُ فِيهِ الصَّلَاةُ)
وہ وقت جس میں نماز پڑھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1040
1040 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین اوقات: ”جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتیٰ کہ وہ بلند ہو جائے، نصف النہار کے وقت حتیٰ کہ وہ زوال کی طرف جھک جائے اور جب وہ غروب کے لیے جھک جائے حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر غروب ہو جائے“ میں، ہمیں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (293/ 831)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَرَاهَةُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الفَجْرِ وَالعَصْرِ)
نماز فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1041
1041 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نماز فجر کے بعد سورج کے بلند ہونے تک اور نماز عصر کے بعد سورج کے غروب ہو جانے تک کوئی نماز (پڑھنا درست) نہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (586) و مسلم (288/ 827)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَوْقَاتُ الصَّلَاةِ)
اوقات نماز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1042
1042 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:"صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلَعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ ; فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ ; فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ; فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ"قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءُ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ:"مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ فَيُمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَسْتَنْثِرُ، إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ; إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيِهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں بھی مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ مجھے نماز کے اوقات کے متعلق بتائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نمازِ فجر پڑھ اور پھر سورج کے اچھی طرح طلوع ہونے تک کوئی نماز نہ پڑھ، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو وہ شیطان کے سر کے دونوں کناروں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے، اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر (نفل) نماز پڑھ کیونکہ نماز پڑھتے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ نیزے کا سایہ اس کے سر پر آ جائے تو پھر نماز نہ پڑھ کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، پس جب سایہ ظاہر ہونے لگے تو نماز پڑھ کیونکہ نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ تو نمازِ عصر پڑھ لے، پھر نماز نہ پڑھ حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔ کیونکہ وہ شیطان کے سر کے دونوں کناروں کے درمیان غروب ہوتا ہے، اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وضو کے متعلق مجھے بتائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے وضو کا پانی قریب کر کے کلی کرتا ہے، ناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے، اس کے منہ اور اس کے ناک کے بانسوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب اللہ کے حکم کے مطابق اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ ہی اس کے چہرے اور داڑھی کے اطراف سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ اس کے ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں تک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر وہ سر کا مسح کرتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف تک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں سمیت تک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی شان بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو خالص اللہ کی طرف متوجہ کر لیتا ہے تو پھر وہ نماز کے بعد اس روز کی طرح گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (294/ 832)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْأَلَةُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العَصْرِ)
عصر کے بعد دو رکعت کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1043
1043 - وَعَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامُ، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي، فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، ثُمَّ دَخَلَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ [ الرَّكْعَتَيْنِ ] وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ:"يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ انہیں سلام عرض کرنا اور پھر ان سے عصر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرنا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہوں نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا تھا وہ میں نے ان تک پہنچا دیا تو انہوں نے فرمایا: ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرو۔ پس میں ان کے پاس واپس چلا آیا تو انہوں نے مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان سے منع فرماتے ہوئے سنا، پھر میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب آپ تشریف لائے تو میں نے لونڈی کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ سے عرض کرنا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، جبکہ میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق پوچھا ہے، (وہ ایسے ہوا) کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مجھے مشغول رکھا، پس یہ وہ دو رکعتیں ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1233) و مسلم (297/ 834)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں