مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عَدَمُ قَبُولِ صَلَاةِ المَرْأَةِ إِذَا جَاءَتْ إِلَى المَسْجِدِ وَهِيَ مُتَعَطِّرَةٌ)
خوشبو لگا کر مسجد میں جانے والی عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1064
1064 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی جو مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے حتیٰ کہ وہ اس طرح (خوب اچھی طرح) غسل کرے جیسے غسل جنابت کیا جاتا ہے“۔ ابوداؤد، احمد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (4174) و أحمد (2/ 246 ح 7350) والنسائي (153/8ح 5130) [وابن ماجه (4002) وللحديث شواھد عند البيھقي (3/ 133) وغيره. ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (العُقُوبَةُ لِلنِّسَاءِ الَّتِي يَذْهَبْنَ إِلَى المَجَالِسِ وَهُنَّ مُتَعَطِّرَاتٌ)
خوشبو لگا کر مجلس میں جانے والی عورتوں کے لئے سزا
حدیث نمبر: 1065
1065 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ ; وَإِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا"يَعْنِي زَانِيَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ نَحْوُهُ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(کسی اجنبی کو شہوت کے ساتھ دیکھنے والی) ہر آنکھ زانیہ ہے، اور بے شک عورت جب عطر لگا کر کسی مجلس کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ ایسی ویسی یعنی زانیہ ہے۔“ ترمذی، ابوداوٗد اور نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ اسنادہ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2786 وقال: حديث حسن صحيح.) و أبو داود (4173) والنسائي (153/8 ح 5129)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (فَضْلُ صَلَاةِ الفَجْرِ وَالعِشَاءِ)
فجر اور عشاء کی نماز کی فضیلت
حدیث نمبر: 1066
1066 - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:"أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟"قَالُوا: لَا، قَالَ:"أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟"قَالُوا: لَا، قَالَ:"إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَيْتُمُوهَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ، وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، جب سلام پھیرا تو فرمایا: ”کیا فلاں شخص موجود ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، پھر پوچھا: ”کیا فلاں شخص موجود ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں نمازیں منافقوں پر بہت بھاری ہیں، اگر تم جان لو کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو پھر خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تم ضرور آتے اور بے شک پہلی صف (اجر و فضیلت کے لحاظ سے) فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اور اگر تمہیں اس کی فضیلت کا علم ہو جائے تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرو، بے شک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا، اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا، اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور جس قدر زیادہ ہو تو وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہیں۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (554) والنسائي (2/ 104، 105 ح 844) [وابن ماجه (790) و صححه ابن خزيمة (1477) و ابن حبان (429) و للحديث شواھد وھو بھا صحيح. ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ضَرُورَةُ الحِرْصِ عَلَى الجَمَاعَةِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز کے لیے جماعت کا اہتمام کرنا ضروری ہے
حدیث نمبر: 1067
1067 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ، إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ. فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس بستی اور جنگل میں تین آدمی ہوں اور وہاں باجماعت نماز کا اہتمام نہ ہو تو پھر (سمجھو کہ) ان پر شیطان غالب آ چکا ہے، تم جماعت کے ساتھ لگے رہو، بھیڑیا الگ اور دور رہنے والی بکری کو کھا جاتا ہے۔“ صحیح، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (5/ 196 ح 22053) و أبو داود (547) والنسائي (2/ 106 ح 848) [و صححه ابن خزيمة (1486) وابن حبان (425) والحاکم (1/ 246) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بَيَانُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الجَمَاعَةِ لِلسَّقِيمِ وَذِي العُذْرِ)
بیماری اور عذر کی بنا پر باجماعت نماز سے رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 1068
1068 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِي فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ". قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ:"خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سن کر بلا عذر باجماعت نماز پڑھنے نہ آئے تو وہ جو اکیلے نماز پڑھتا ہے وہ قبول نہیں ہوتی۔“ صحابہ نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خوف یا مرض۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (551) والدارقطني (420/1، 421 ح 1542)
٭ أبو جناب يحيي بن أبي حية الکلبي ضعيف مدلس و حديث ابن ماجه (793) يغني عنه.»
٭ أبو جناب يحيي بن أبي حية الکلبي ضعيف مدلس و حديث ابن ماجه (793) يغني عنه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (إِذَا أَحَسَّ بِالحَاجَةِ بَعْدَ قِيَامِ الجَمَاعَةِ فَلْيَقْضِهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ)
جماعت کھڑی ہونے کے بعد اگر کسی کو پیشاب پاخانہ آ جائے تو پہلے کر لے
حدیث نمبر: 1069
1069 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَرَوَى مَالِكٌ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت محسوس کرے تو پہلے وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے جبکہ مالک، ابوداؤد اور نسائی نے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (142 وقال: حسن صحيح.) و مالک (1/ 159 ح 379) و أبو داود (88) والنسائي (110/2، 111 ح 853) [و ابن ماجه (616) و صححه ابن خزيمة (932، 1652) و ابن حبان (الموارد: 194) والحاکم (1/ 168) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صِفَةُ الإِمَامِ الَّذِي يُقَدَّمُ لِلصَّلَاةِ)
نماز کے لیے امام کیسا ہو؟
حدیث نمبر: 1070
1070 - وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ: لَا يَؤُمَّنَّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَنْظُرْ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ، فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ. وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَلِلتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ.
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تین کام ایسے ہیں جن کا کرنا کسی کے لیے حلال نہیں: کوئی شخص جو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنی ذات کے لیے دعا کرتا ہو وہ ان کی امامت نہ کرائے، اگر وہ ایسے کرے گا تو وہ ان سے خیانت کرے گا، کوئی شخص اجازت طلب کرنے سے پہلے کسی گھر میں نہ جھانکے، اگر اس نے ایسے کیا، تو اس نے ان سے خیانت کی، اور کوئی شخص بول و براز روک کر نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ وہ (اس سے فارغ ہو کر) ہلکا ہو جائے۔“ ابوداؤد اور ترمذی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ حسن، رواہ ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (90) و الترمذي (357 وقال: حسن) [و له شواھد. ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (بَيَانُ كَرَاهَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ لِسَبَبِ الطَّعَامِ)
کھانے کی وجہ سے نماز میں تاخیر کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1071
1071 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تُؤَخِّرُوا الصَّلَاةَ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَيْرِهِ". رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے اور کسی اور کام کی خاطر نماز کو مؤخر نہ کرو۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (3/ 357 تحت ح 800) بغير ھذا اللفظ [و أبو داود: 3758 واللفظ له. ]
٭ محمد بن ميمون الزعفراني ضعيف: ضعفه الجمھور.»
٭ محمد بن ميمون الزعفراني ضعيف: ضعفه الجمھور.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَزِيدُ التَّأْكِيدِ وَالبَيَانِ لِلصَّلَاةِ بِالجَمَاعَةِ)
باجماعت نماز کی مزید تاکید اور بیان
حدیث نمبر: 1072
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1072 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ، أَوْ مَرِيضٌ ; إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ. حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلَاةَ وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ:"مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى غَدًا مُسْلِمًا ; فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ ; إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم جانتے تھے کہ باجماعت نماز سے صرف وہی منافق شخص پیچھے رہتا تھا جس کا منافق ہونا معلوم تھا، یا پھر کوئی مریض رہ جاتا تھا، اگر مریض دو آدمیوں کے سہارے چل سکتا تو وہ باجماعت نماز کے لیے حاضر ہوتا، اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہدایت کی راہیں سکھائیں، اور جس مسجد میں اذان دی جاتی ہو اس میں نماز پڑھنا ہدایت کی راہوں میں سے ہے۔ اور ایک روایت میں ہے، فرمایا: ”جس شخص کو پسند ہو کہ وہ کل مسلمان کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے تو پھر اسے پانچوں نمازوں کی باجماعت پابندی کرنی چاہیے، بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہدایت کی راہیں مقرر فرما دی ہیں، اور بے شک وہ (پانچوں نمازیں) ہدایت کی سنن میں سے ہیں، اگر تم نے نماز سے پیچھے رہ جانے والے اس شخص کی طرح اپنے گھروں میں نماز پڑھی تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت چھوڑ دو گے، اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ اور جو شخص اچھی طرح وضو کر کے کسی مسجد کا قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم اٹھانے پر اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اس کے ذریعے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، اور ہم جانتے تھے کہ نماز سے صرف وہی منافق شخص پیچھے رہتا تھا جس کے نفاق کے بارے میں معلوم ہوتا تھا، اور ایسے بھی ہوتا تھا کہ کسی آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (257، 256 / 654)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (257، 256 / 654)
--. (العُقُوبَةُ عَلَى تَرْكِ صَلَاةِ الجَمَاعَةِ)
جماعت کی نماز چھوڑنے پر کیا سزا ہے
حدیث نمبر: 1073
1073 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ، أَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحْرِقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر گھروں میں خواتین اور بچے نہ ہوتے تو میں نمازِ عشاء قائم کرنے کا حکم دیتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا اور وہ گھر میں موجود (نماز سے پیچھے رہ جانے والے) لوگوں کو آگ سے جلا دیتے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (2/ 367 ح 8782)
٭ فيه أبو معشر: ضعيف، و لأصل الحديث شواھد کثيرة دون قوله: ’’ما في البيوت‘‘.»
٭ فيه أبو معشر: ضعيف، و لأصل الحديث شواھد کثيرة دون قوله: ’’ما في البيوت‘‘.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف