مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قِصَّةُ سَيِّدِنَا ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا واقعہ
حدیث نمبر: 1084
1084 - وَعَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ أَهْلَهُ أَنْ يَأْتُوا الْمَسَاجِدَ". فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: فَإِنَّا نَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ هَذَا؟! قَالَ: فَمَا كَلَّمَهُ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مجاہد رحمہ اللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے اہل خانہ کو مسجد جانے سے نہ روکے۔“ (یہ سن کر) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے کہا: ہم انہیں ضرور روکیں گے۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں، اور تم یہ کہہ رہے ہو، راوی بیان کرتے ہیں: عبداللہ رضی اللہ عنہما نے زندگی بھر اس سے کلام نہیں کیا۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (36/2 ح 4933)
٭ ابن أبي نجيح مدلس و عنعن.»
٭ ابن أبي نجيح مدلس و عنعن.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (ضَرُورَةُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ)
صفوں کو برابر کرنا کس قدرضروری ہے
حدیث نمبر: 1085
[ 24 ] بَابُ تَسْوِيَةِ الصَّفِّ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1085 - عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ، حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ أَنْ يُكَبِّرَ، فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ:"عِبَادَ اللَّهِ! لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری صفوں کو ایسا برابر کیا کرتے تھے گویا ان کے ذریعے تیروں کو برابر کر رہے ہوں، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھ لیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھ چکے ہیں۔ پھر ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہو گئے، قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بندو! صفیں برابر کیا کرو، ورنہ اللہ تمہارے اندر اختلاف پیدا فرما دے گا۔“ «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (128 / 436)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِذَا تَمَّتِ الصَّفُّ الأُولَى فَلْتُكَوَّنِ الثَّانِيَةُ)
پہلی صف مکمل ہونے کے بعد دوسری صف بنائی جائے
حدیث نمبر: 1086
1086 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:"أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا ; فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ:"أَتِمُّوا الصُّفُوفَ ; فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا: ”صفیں درست رکھو اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“ (بخاری)۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صفیں مکمل کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“ (رواہ البخاری ومسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (719)
ه أتموا الصفوف، رواه مسلم (434، ترقيم دارالسلام: 976) واللفظ له و رواه البخاري (718) بلفظ: ’’أقيموا الصفوف‘‘.»
ه أتموا الصفوف، رواه مسلم (434، ترقيم دارالسلام: 976) واللفظ له و رواه البخاري (718) بلفظ: ’’أقيموا الصفوف‘‘.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (719)
--. (تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ جُزْءٌ مِنَ الصَّلَاةِ)
صفوں کو درست کرنا نماز کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 1087
1087 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفیں برابر کرو، بے شک صفوں کا برابر کرنا نماز قائم کرنے سے ہے۔“ بخاری، مسلم۔ البتہ صحیح مسلم میں: ”نماز مکمل کرنے سے ہے۔“ کے الفاظ ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (723) و مسلم (124/ 433)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عَلَى الإِمَامِ أَنْ يُسَوِّيَ صُفُوفَ المُقْتَدِينَ)
امام مقتدیوں کی صفیں درست کرائے
حدیث نمبر: 1088
1088 - وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ"اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ"، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں اپنے ہاتھ ہمارے کندھوں پر رکھتے اور فرماتے: ”برابر ہو جاؤ، اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے، اور تم میں سے صاحبِ عقل و دانش حضرات میرے قریب کھڑے ہوا کریں، پھر جو ان کے قریب ہیں پھر جو ان کے قریب ہیں۔“ اور ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور تم آج سخت اختلاف کا شکار ہو۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (122 / 432)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْ يَقِفُ قَرِيبًا مِنَ الإِمَامِ)
امام کے قریب کون لوگ کھڑے ہوں
حدیث نمبر: 1089
1089 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ"ثَلَاثًا"وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے صاحبِ عقل و دانش حضرات میرے قریب کھڑے ہوا کریں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ایسے فرمایا: ”اور بازاروں کے شور (مسائل) سے بچو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (123 / 432)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَانَ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ يَتَجَنَّبُونَ الوُقُوفَ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہلی صف میں کھڑے ہونے سے بچتے تھے
حدیث نمبر: 1090
1090 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ لَهُمْ:"تَقَدَّمُوا وَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کا (پہلی صف سے) پیچھے ہٹنا ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”آگے بڑھو، میری اقتدا کرو اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتدا کریں، لوگ پیچھے ہٹتے رہیں گے حتیٰ کہ اللہ انہیں (اپنی رحمت میں) پیچھے کر دے گا۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (130/ 438)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (المَلَائِكَةُ أَيْضًا يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ)
فرشتے بھی صفوں کو درست کرتے ہیں
حدیث نمبر: 1091
1091 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنَا حَلَقًا، فَقَالَ:"مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ؟!". ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ:"أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟"فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ:"يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مختلف حلقوں میں دیکھ کر فرمایا: ”کیا وجہ ہے میں تمہیں متفرق دیکھ رہا ہوں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”تم ویسے صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں؟“ ہم نے عرض کیا، فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صف میں باہم مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (119/ 430)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ)
مردوں اور عورتوں کی صف بندی کا بیان
حدیث نمبر: 1092
1092 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا. وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی صفوں میں سے پہلی صف بہترین صف ہے اور ان کی آخری صف کمتر ہے، جبکہ عورتوں کی آخری صف ان کی بہترین صف ہے اور ان کی پہلی صف بدتر ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (132/ 440)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الفَرَاغُ فِي الصَّفِّ مَأْوَى الشَّيْطَانِ)
صف میں خالی جگہ شیطان کا ٹھکانہ
حدیث نمبر: 1093
الْفَصْلُ الثَّانِي 1093 - عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"رُصُّوا صُفُوفَكُمْ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا، وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ ; فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفوں کو خوب ملاؤ اور انہیں باہم قریب بناؤ، گردنوں کو برابر و مقابل رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ بکری کے بچے کی طرح صفوں کے شگاف میں داخل ہو جاتا ہے۔“ صحیح، رواہ ابو داؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (667) [والنسائي (2/ 92 ح 816) و صححه ابن خزيمة (1545) و ابن حبان (387، 391) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح