مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَا عُقُوبَةُ مَنْ جَاءَ مُتَأَخِّرًا إِلَى الصَّفِّ؟)
صف میں دیر سے آنے والے کے لئے سزا کیا ہے
حدیث نمبر: 1104
1104 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے حتیٰ کہ اللہ انہیں جہنم میں سب سے آخری طبقے میں ڈال دے گا۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1104]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه أبو داود (679)
٭ عکرمة بن عمار: لم يصرح بالسماع من يحيي بن أبي کثير و تکلم الجمھور في روايته عنه.»
٭ عکرمة بن عمار: لم يصرح بالسماع من يحيي بن أبي کثير و تکلم الجمھور في روايته عنه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
--. (الوُقُوفُ وَحْدَهُ خَلْفَ الصَّفِّ)
صف کے پیچھے تنہا
حدیث نمبر: 1105
1105 - وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صف کے پیچھے ایک آدمی کو اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ”نماز لوٹانے“ کا حکم فرمایا۔ احمد، ترمذی، ابوداؤد، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (228/4 ح 18170) والترمذي (230) و أبوداود (682) [و صححه ابن خزيمة (1569) و ابن حبان (401، 403) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (مَوْقِفُ المُقْتَدِي)
مقتدی کہاں کھڑا ہو
حدیث نمبر: 1106
(25) بَابُ الْمَوْقِفِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1106 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ فَعَدَلَنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی ان کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت کے پیچھے سے مجھے بازو سے پکڑ کر اسی طرح اپنی پشت کے پیچھے سے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (699) و مسلم (181/ 763)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِذَا كَانَا مُقْتَدِيَانِ فَلْيَقِفَا خَلْفَ الإِمَامِ)
مقتدی اگر دو ہیں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں
حدیث نمبر: 1107
1107 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ، فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ جَاءَ جَابِرُ بْنُ صَخْرٍ، فَقَامَ عَنْ يَسَارِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ہمارے ہاتھوں سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (3010)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَيْفَ يَقِفُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فِي صَلَاةِ الجَمَاعَةِ)
جماعت کی نماز میں مرد اور عورتیں کیسے کھڑے ہوں
حدیث نمبر: 1108
1108 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اور ایک یتیم نے ہمارے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا (ام انس رضی اللہ عنہا) نے ہمارے پیچھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (لم أجده)
٭ و رواه البخاري (727، 380) و مسلم (266 / 658) من طريق آخر مطولاً.»
٭ و رواه البخاري (727، 380) و مسلم (266 / 658) من طريق آخر مطولاً.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (لم أجده) و رواه البخاري
--. (تَقِفُ ٱلْمَرْأَةُ خَلْفَ ٱلصَّفِّ وَلَوْ مَعَ مَحْرَمِهَا)
عورت محرم کے ساتھ بھی صف کے پیچھے کھڑی ہو
حدیث نمبر: 1109
1109 - (وَعَنْهُ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِ وَبِأُمِّهِ أَوْ خَالَتِهِ، قَالَ: فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور میری والدہ یا میری خالہ کو نماز پڑھائی، وہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو اپنے پیچھے کھڑا کیا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (269/ 660)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ ٱلجِدِّيَّةِ عِنْدَ لُصُوقِ ٱلصُّفُوفِ)
صف میں ملتے ہوئے سنجیدگی کا بیان
حدیث نمبر: 1110
1110 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ، فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ. فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا، وَلَا تَعُدْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچے تو آپ رکوع فرما رہے تھے، انہوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر چل کر صف تک پہنچ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہاری حرص میں اضافہ فرمائے، آئندہ ایسے نہ کرنا۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (783)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (يُجْعَلُ ٱلإِمَامُ هُوَ ٱلأَفْضَلُ)
امام اس آدمی کو بنایا جائے جو افضل ہو
حدیث نمبر: 1111
الْفَصْلُ الثَّانِي 1111 - عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا ثَلَاثَةً أَنْ يَتَقَدَّمَنَا أَحَدُنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ: ”جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک ہماری امامت کرائے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (233 وقال: غريب.)
٭ إسماعيل بن مسلم ضعيف.»
٭ إسماعيل بن مسلم ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (لَا يَقِفُ ٱلإِمَامُ وَحْدَهُ عَلَى مَكَانٍ مُرْتَفِعٍ)
امام بلند جگہ پر اکیلا کھڑا نہ ہو
حدیث نمبر: 1112
1112 - وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ، وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ، فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَقَامٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ"؟ فَقَالَ عَمَّارٌ: لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کی امامت کرائی تو وہ چبوترے پر کھڑے ہوئے جبکہ لوگ ان سے نیچے کھڑے تھے، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر انہیں ہاتھوں سے پکڑ لیا تو عمار رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا؟ ”جب آدمی لوگوں کی امامت کرائے تو وہ ان سے بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی بات فرمائی، تو عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی لیے تو میں آپ کے پکڑنے پر آپ کے پیچھے چل دیا تھا۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (598)
٭ فيه رجل: مجھول، و أبو خالد: مثله.»
٭ فيه رجل: مجھول، و أبو خالد: مثله.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (وُقُوفُ ٱلإِمَامِ فِي ٱلصَّلَاةِ عَلَى مَكَانٍ عَالٍ)
امام کا نماز میں اونچی جگہ کھڑا ہونا
حدیث نمبر: 1113
1113 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ الْمِنْبَرُ؟ فَقَالَ: هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُمِلَ وَوُضِعَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَكَبَّرَ، وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ وَرَكَعَ، وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ. هَذَا لَفَظُ الْبُخَارِيِّ، وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ نَحْوُهُ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:"أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي.
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ منبر کس چیز سے بنایا گیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: غابہ کے جھاؤ سے بنا ہوا تھا اور فلاں عورت (عائشہ رضی اللہ عنہا) کے آزاد کردہ غلام نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بنایا تھا۔ جب اسے بنا کر رکھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ نے قراءت کی، رکوع کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا، پھر الٹے پاؤں واپس آئے اور زمین پر سجدہ کیا، پھر منبر پر تشریف لائے، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر سر اٹھایا، پھر الٹے پاؤں واپس آئے حتیٰ کہ زمین پر سجدہ کیا۔ یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں، جبکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے، اور اس روایت کے آخر میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور تم میری نماز سیکھ لو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (917) و مسلم (544)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه