مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عَدَمُ وُجُودِ ٱلْإِمَامِ ٱلصَّحِيحِ مِنْ عَلامَاتِ ٱلسَّاعَةِ)
صحیح امام نہ ملنا قیامت کی علامت ہے
حدیث نمبر: 1124
1124 - وَعَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مسجد والے نماز پڑھانے سے جان چھڑائیں گے، وہ نماز پڑھانے کے لیے کوئی امام نہیں پائیں گے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (581) و ابن ماجه (982)
٭ أم غراب و عقيلة لا يعرف حالھما.»
٭ أم غراب و عقيلة لا يعرف حالھما.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ٱلْفَاسِقُ إِمَامًا)
فاسق امام بن سکتا ہے
حدیث نمبر: 1125
1125 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ، وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ، وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امیر کی معیت میں جہاد کرنا تم پر فرض ہے، خواہ وہ نیک ہو یا فاجر، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو، اور ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا تم پر واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا فاجر، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو، اور ہر مسلمان پر نماز پڑھنا واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا فاجر، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1125]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (594، 2533)
٭ مکحول التابعي لم يدرک أبا ھريرة رضي الله عنه فالسند منقطع.»
٭ مکحول التابعي لم يدرک أبا ھريرة رضي الله عنه فالسند منقطع.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (حُكْمُ إِمَامَةِ ٱلصَّبِيِّ)
بچے کو امام بنانا کیسا ہے
حدیث نمبر: 1126
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1126 - عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا بِمَاءِ مَمَرِّ النَّاسِ، يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ نَسْأَلُهُمْ: مَا لِلنَّاسِ؟ مَا لِلنَّاسِ؟ مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُونَ: يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ أَوْحَى إِلَيْهِ، أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ، فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمُ الْفَتْحَ. فَيَقُولُونَ: اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ ; فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ، فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ، بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ، وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ حَقًّا، فَقَالَ:"صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا". فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، لَمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، وَأَنَا ابْنُ سِتِّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي. فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ: أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ؟! فَاشْتَرَوْا، فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک چشمے پر رہائش پذیر تھے جو لوگوں کے لیے عام گزر گاہ تھا، قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم ان سے پوچھتے رہتے کہ اب لوگوں کا کیا حال ہے؟ اور اس شخص (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا کیفیت ہے؟ تو وہ کہتے کہ اس شخص کا خیال ہے کہ اللہ نے اسے رسول بنا کر بھیجا ہے، اس کی طرف یہ یہ وحی کی گئی ہے، میں ان سے یہ باتیں یاد کر لیتا، گویا وہ میرے دل میں گھر کر گئی ہیں، اور عرب اسلام قبول کرنے کے بارے میں فتح مکہ کے منتظر تھے، وہ کہتے تھے کہ اسے اور اس کی قوم کو (اس کے حال پر) چھوڑ دو، اگر وہ ان پر غالب آ گیا تو وہ سچا نبی ہے، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی اور میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے میں اپنی قوم سے سبقت کی، جب وہ واپس پہنچے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں سچے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں، انہوں نے فرمایا: ”یہ نماز اس وقت پڑھو اور یہ نماز اس وقت پڑھو، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہہ دے اور تم میں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تمہاری امامت کرائے۔“ انہوں نے جائزہ لیا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ میں قافلوں سے سن کر قرآن کا علم حاصل کر چکا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا، میں اس وقت چھ یا سات برس کا تھا، میرے اوپر ایک چادر ہی تھی، جب میں سجدہ کرتا تو وہ سکڑ جاتی (اور میرا ستر کھل جاتا، یہ دیکھ کر) قبیلے کی ایک عورت نے کہا کہ تم اپنے امام کی سرین ہم سے کیوں نہیں چھپاتے ہو؟ پھر انہوں نے (کپڑا) خریدا اور میرے لیے قمیض بنائی، میں جتنا اس قمیض سے خوش ہوا اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوا تھا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4302)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَسْأَلَةُ إِمَامَةِ ٱلْعَبْدِ ٱلْمُعْتَقِ)
آزاد کئے گئے غلام کی امامت کا مسئلہ
حدیث نمبر: 1127
1127 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْمَدِينَةَ، كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَفِيهِمْ عُمَرُ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب اول مہاجرین مدینہ تشریف لائے تو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ان کی امامت کرایا کرتے تھے جبکہ عمر رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ ان میں موجود تھے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1127]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (692)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ٱلَّذِينَ لَا تُقْبَلُ صَلَاتُهُمْ)
وہ لوگ جن کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1128
1128 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ثَلَاثَةٌ لَا تُرْفَعُ لَهُمْ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ہیں، جن کی نمازیں ان کے سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتیں: وہ امام جس کے مقتدی اس سے ناراض ہوں، وہ عورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس سے ناراض ہو اور باہم قطع تعلق کر لینے والے دو بھائی۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1128]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه ابن ماجه (971) [و لبعض الحديث شاھد تقدم: 1122]
٭ عبيدة بن الأسود مدلس و عنعن.»
٭ عبيدة بن الأسود مدلس و عنعن.»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (بَيَانُ تَخْفِيفِ ٱلصَّلَاةِ)
نماز کی تخفیف کا بیان
حدیث نمبر: 1129
[ 27 ] بَابُ مَا عَلَى الْإِمَامِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1129 - عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سی بہت ہلکی اور بہت کامل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو اس اندیشے کے پیش نظر کہ اس کی والدہ کسی آزمائش سے دوچار ہو جائے گی، نماز ہلکی کر دیا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1129]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (708) و مسلم (190/ 469)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَقْصِيرُ ٱلْقِيَامِ بَعْدَ نِيَّةِ إِطَالَتِهِ فِي ٱلصَّلَاةِ)
نماز میں لمبے قیام کی نیت کے بعد قیام کو چھوٹا کرنا
حدیث نمبر: 1130
1130 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي، مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں لمبی نماز پڑھنے کے ارادے سے نماز شروع کرتا ہوں، لیکن پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز میں تخفیف کر دیتا ہوں، اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ اس کے رونے کی وجہ سے اس کی والدہ غمگین ہوتی ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1130]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (707)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عَلَى ٱلإِمَامِ أَنْ يُخَفِّفَ ٱلصَّلَاةَ مُرَاعَاةً لِلْمَأْمُومِينَ)
مقتدیوں کا خیال کرتے ہوئے امام کو نماز چھوٹی کر کے پڑھانی چاہئے
حدیث نمبر: 1131
1131 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں بیمار، ضعیف اور بوڑھے ہوتے ہیں، اور جب تم میں سے کوئی شخص اکیلا نماز پڑھے تو پھر جس قدر چاہے لمبی پڑھے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1131]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (703) و مسلم (183/ 467)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (شَكْوَى مِنَ ٱلإِمَامِ ٱلَّذِي يُطِيلُ ٱلصَّلَاةَ)
لمبی نماز پڑھانے والے امام کی شکایت
حدیث نمبر: 1132
1132 - وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ:"إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَالْكَبِيرَ، وَذَا الْحَاجَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی نے عرض کیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! میں فلاں شخص کی وجہ سے نماز فجر دیر سے پڑھتا ہوں، کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے وقت اس دن سے زیادہ ناراض کبھی نہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم میں کچھ نفرت دلانے والے بھی ہیں، پس تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ اختصار سے کام لے کیونکہ ان میں ضعیف، بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1132]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (702) و مسلم (182 / 466)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (ٱلإِمَامُ مَسْؤُولٌ عَنْ صِحَّةِ ٱلصَّلَاةِ)
امام نماز کی درستگی میں ذمہ دار ہے
حدیث نمبر: 1133
1133 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ، وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (امام) تمہیں نماز پڑھائیں گے، چنانچہ اگر انہوں نے درست پڑھائی تو تمہارے لیے اجر ہے، اور اگر انہوں نے غلطی کی تو تمہارے لیے اجر ہے اور ان پر گناہ ہے۔“ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1133]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (694)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح