🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانٌ أَكْثَرُ عَنْ تَخْفِيفِ ٱلصَّلَاةِ)
نماز کی تخفیف کا مزید بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1134
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1134 - عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:"أُمَّ قَوْمَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ:"ادْنُهْ"، فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ، ثُمَّ قَالَ:"تَحَوَّلْ"، فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ، ثُمَّ قَالَ:"أُمَّ قَوْمَكَ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِنَّ فِيهِمْ ذَا الْحَاجَةِ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجھے آخری وصیت یہ تھی: ”جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ۔“ (مسلم)۔ انہی سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ۔“ وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ وسوسہ پاتا ہوں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میری چھاتی پر رکھ دیا، پھر فرمایا: ”پہلو بدلو۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری پشت پر رکھا، پھر فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ، جو شخص کسی قوم کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں، ان میں مریض ہوتے ہیں، ان میں ضعیف ہوتے ہیں، اور ان میں کوئی حاجت مند ہوتے ہیں، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو پھر جیسے چاہے پڑھے۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (187/ 468) و الرواية الثانية لمسلم (186/ 468)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قِرَاءَةُ سُورَةِ ٱلصَّافَّاتِ)
سورۃ الصّٰفّٰت کی قراءت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1135
1135 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ، وَيَؤُمُّنَا بِـ (الصَّافَّاتِ) . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورۃ الصافات سے ہماری امامت کرایا کرتے تھے۔ (اسنادہ حسن، رواہ النسائی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (2/ 95 ح 827) [و صححه ابن خزيمة (1606) و ابن حبان (الموارد:470 والإحسان: 1814) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وُجُوبُ ٱلِٱقْتِدَاءِ بِٱلإِمَامِ)
امام کی اقتدا ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1136
[ 28 ] بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوقِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1136 - عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا قَالَ:"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے، جب آپ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ فرماتے تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی کمر نہ جھکاتا حتیٰ کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (811) و مسلم (197/ 474)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَعْلِيمَاتٌ خَاصَّةٌ لِلْمَأْمُومِينَ)
مقتدیوں کو خاص ہدایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
1137 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ. فَقَالَ:"، أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ ; فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں، تم رکوع و سجود، قیام اور نماز سے فارغ ہونے میں مجھ سے سبقت نہ کیا کرو، کیونکہ میں اپنے آگے اور پیچھے سے تمہیں دیکھتا ہوں۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (112/ 426)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَمْرُ ٱلْمَأْمُومِينَ بِقَوْلِ آمِينَ)
مقتدیوں کو آمین کہنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1138
1138 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ: إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: (وَلَا الضَّالِّينَ) فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ; إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمْ يَذْكُرْ:"وَإِذَا قَالَ: (وَلَا الضَّالِّينَ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”امام سے سبقت نہ کرو، جب وہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہے تو تم «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہو، جب وہ ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِينَ» ”آمین“ کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو۔“ بخاری، مسلم۔ لیکن امام بخاری نے: ”اور جب ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے۔“ کا ذکر نہیں کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1138]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (796 مختصرًا) و مسلم (87/ 415)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ٱلْمَقْصِدُ ٱلْأَصْلِيُّ مِنْ جَعْلِ ٱلإِمَامِ هُوَ ٱلِٱقْتِدَاءُ بِهِ)
امام بنانے کا اصل مقصد اس کی اقتدا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1139
1139 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهِ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا، فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:"إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ". قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُهُ:"إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا"هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ إِلَى"أَجْمَعُونَ". وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ."فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے، جس سے آپ کی دائیں جانب خراشیں آ گئیں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی، تو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے؛ جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان آپ کے مرضِ قدیم کے وقت کا ہے، پھر اس کے بعد نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی تو صحابہ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ نے انہیں بیٹھنے کا حکم نہیں فرمایا، اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آخری فعل بطورِ حجت لیا جاتا ہے، یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں، اور امام مسلم نے لفظ «أَجْمَعُونَ» تک اتفاق کیا ہے، اور ایک روایت میں اضافہ نقل کیا ہے: ”اس سے اختلاف نہ کرو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1139]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (689) و مسلم (77/ 411)
٭ الحميدي ھذا ھو عبد الله بن الزبير: شيخ البخاري و في القول بنسخ ھذا الحديث نظر لأن الجمع ممکن.»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِمَامَةُ ٱلإِمَامِ وَهُوَ جَالِسٌ)
امام کا بیٹھ کر امامت کروانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1140
1140 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ:"مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ"، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: يُسْمِعُ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِيرَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع کرنے آئے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان ایام میں نماز پڑھائی، پھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ کو دو آدمیوں کے سہارے لایا گیا اس حال میں کہ آپ کے پاؤں زمین پر لگ رہے تھے، حتیٰ کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں، آپ تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے جبکہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔ بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو تکبیر سناتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1140]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (687) و مسلم (90/ 418)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ رَفْعِ ٱلرَّأْسِ قَبْلَ ٱلإِمَامِ)
امام سے پہلے سر اٹھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1141
1141 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1141]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (691) و مسلم (114/ 427)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ جَاءَ إِلَى ٱلصَّلَاةِ فَٱشْتَرَكَ مَعَ ٱلْجَمَاعَةِ عِنْدَ قُدُومِهِ)
جو آدمی نماز کے لئے آئے اور آتے ہی جماعت میں شریک ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1142
الْفَصْلُ الثَّانِي 1142 - عَنْ عَلِيٍّ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَالْإِمَامُ عَلَى حَالٍ، فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
علی اور معاذ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے تو وہ جس حال میں امام کو پائے تو وہ بھی اسی حالت میں ان کے ساتھ شامل ہو جائے۔“ ترمذی۔ اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1142]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (591)
٭ الحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و للحديث شواھد ضعيفة عند أبي داود (506) وغيره.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا تَصِحُّ ٱلصَّلَاةُ بِٱلِٱشْتِرَاكِ فِي ٱلسُّجُودِ فَقَطْ)
سجدہ میں شرکت سے نماز نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1143
1143 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، وَنَحْنُ سُجُودٌ، فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهُ شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدہ کی حالت میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرو، اور اسے کچھ بھی شمار نہ کرو، جس نے ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (893)
٭ فيه يحيي بن أبي سليمان: ضعفه البخاري و الجمھور و له شاھد ضعيف في السلسلة الصحيحة للألباني (1188)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں