مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يَجِبُ الْعِبَادَةُ مَا دَامَ الْقَلْبُ يَشْتَهِي)
جب تک دل چاہے تب تک عبادت کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 1244
1244 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، وَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اتنی مدت ہی نماز پڑھے جو رغبت اور خوشی کے ساتھ پڑھی جائے اور جب بار معلوم ہو تو (چھوڑ کر) بیٹھ جائے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1150) و مسلم (219/ 784)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ السَّهَرِ لِلصَّلَاةِ بِجِدٍّ وَنَهَارًا)
نماز کے لیے خوب اچھی طرح بیدار ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1245
1245 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ; فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آئے تو وہ سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہو جائے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتے ہوئے اونگھ رہا ہو تو اسے پتا نہیں ہوتا کہ وہ مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے لیے بددعا کر رہا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (212) و مسلم (222/ 786)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ أَنَّ الدِّينَ هُوَ السَّهْلُ)
اس بات کا بیان کہ دین آسان ہے
حدیث نمبر: 1246
1246 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا [ وَقَارِبُوا ] ، وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دین آسان ہے، جو شخص دین پر سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا، تم میانہ روی اختیار کرو، قریب رہو اور خوشخبری قبول کرو، نیز دن کے پہلے پہر، اس کے آخری پہر اور رات کے کچھ وقت کی عبادت کے ذریعے مدد طلب کرو۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (39)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ دَوَامِ الْعَمَلِ الصَّالِحِ)
نیک اعمال پر ہمیشگی کا بیان
حدیث نمبر: 1247
1247 - وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو اپنا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ نہ کر سکے، تو پھر اگر وہ نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان وہی وظیفہ کر لے تو اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھ دیا جاتا ہے گویا اس نے اسے رات کے وقت کیا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (142/ 747)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (يَجِبُ أَنْ تُقْرَأَ الصَّلَاةُ فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ)
نماز ہر حال میں پڑھی جائے
حدیث نمبر: 1248
1248 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر استطاعت نہ ہو تو پھر بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پھر پہلو کے بل (نماز پڑھو)۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1117)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صَلَاةُ النَّوَافِلِ جَالِسًا بِدُونِ سَبَبٍ)
بغیر وجہ کے نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا
حدیث نمبر: 1249
1249 - وَعَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، قَالَ:"إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو وہ بہتر ہے، اور جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کے لیے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے نصف اجر ہے، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے سے نصف اجر ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1116)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (فَضْلُ النَّوْمِ وَالْوُضُوءِ)
باوضو سونے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1250
الْفَصْلُ الثَّانِي 1250 - عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا، وَذَكَرَ اللَّهِ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ، لَمْ يَتَقَلَّبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ; إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي"كِتَابِ الْأَذْكَارِ"بِرِوَايَةِ ابْنِ السُّنِّيِّ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص باوضو بستر پر لیٹے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سو جائے تو پھر وہ رات کو جب بھی کروٹ بدلتے ہوئے اللہ سے دنیا و آخرت کی خیر طلب کرے تو اللہ اسے وہی عطا فرما دیتا ہے۔“ امام نووی رحمہ اللہ نے ابن سنی کی روایت سے کتاب اذکار میں روایت کیا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، ذکره النووي في الأذکار (ص 88) و رواه ابن السني (719، و نسخة الشيخ سليم الھلالي:721) [والترمذي (3526 وقال: حسن غريب) ]
٭ رواية إسماعيل بن عياش عن الحجازيين ضعيفة و للحديث شواھد دون قوله: ’’ذکر الله حتي يدرکه النعاس‘‘.»
٭ رواية إسماعيل بن عياش عن الحجازيين ضعيفة و للحديث شواھد دون قوله: ’’ذکر الله حتي يدرکه النعاس‘‘.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
--. (بَيَانُ أَنَّ اللَّهَ يَفْرَحُ بِعَبْدَيْنِ)
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ دو بندوں سے خوش ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1251
1251 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ. رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٌ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ، رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَانْهَزَمَ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ". رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب دو آدمیوں پر خوش ہوتا ہے، ایک وہ شخص جو اپنے نرم و گرم بستر اور اپنے چہیتوں اور اہل و عیال میں سے اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔ اللہ فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو کہ وہ میرے ہاں جو اجر و ثواب ہے اس کی رغبت اور میرے عذاب کے خوف کی وجہ سے اپنے نرم و گرم بستر اور اپنے چہیتوں اور اہل و عیال سے الگ ہو کر نماز کے لیے اٹھا ہے، اور ایک وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں سمیت میدان جنگ سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، لیکن پھر یہ جان کر کہ پیچھے ہٹنے پر اسے کیا گناہ ملے گا اور پیش قدمی میں اسے کتنا ثواب ملے گا، تو وہ پلٹ کر آتا ہے حتیٰ کہ اسے شہید کر دیا جاتا ہے، تو اللہ فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو کہ وہ مجھ سے ملنے والے اجر و ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے خوف کی وجہ سے پلٹ کر آیا حتیٰ کہ اسے شہید کر دیا گیا۔“ حسن، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (4/ 42، 43 ح 930) [و أحمد 1/ 416 و صححه ابن حبان (الموارد: 643) والقسم الثاني منه في سنن أبي داود (2536) و سنده حسن. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (بَيَانُ صَلَاةِ الْجُلُوسِ)
بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1252
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1252 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ"، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ. فَقَالَ:"مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو؟". قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ قُلْتَ:"صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ". وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ:"أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے کسی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا، نصف نماز کی طرح ہے۔“ وہ بیان کرتے ہیں، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر پر رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا، نصف نماز کی طرح ہے۔“ جب کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (120/ 735)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ الرَّاحَةِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں راحت حاصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1253
1253 - وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"أَقِمِ الصَّلَاةَ يَا بِلَالُ، أَرِحْنَا بِهَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سالم بن ابی جعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، خزاعہ قبیلے کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کرتا، گویا انہوں (یعنی حاضرین مجلس) نے اس کی اس بات کو معیوب جانا، (اس پر) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «يَا بِلَالُ، أَقِمِ الصَّلَاةَ، أَرِحْنَا بِهَا» ”بلال! نماز کے لیے اقامت کہو اور اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4985)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح