🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (دُعَاءُ وَقْتِ الْيَقَظَةِ)
جاگنے کے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1214
الْفَصْلُ الثَّانِيُ 1214 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ:"لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوتے تو آپ یہ دعا پڑھتے: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ اللّٰهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» ”تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو پاک ہے، اے اللہ! اپنی حمد کے ساتھ، میں اپنے گناہوں کی تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور تیری رحمت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما، بے شک تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔““ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5061) [و صححه ابن حبان (2359) و الحاکم (1/ 540) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَمَلُ اللَّيْلِ عِنْدَ النَّوْمِ وَالْيَقَظَةِ)
رات کو سوتے وقت اور جاگتے وقت کا عمل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1215
1215 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، يَسْأَلُ اللَّهُ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان اللہ کا ذکر کرتے ہوئے با وضو سو جائے اور پھر وہ رات کے کسی وقت بیدار ہو کر اللہ سے کسی خیر و بھلائی کا سوال کرے تو اللہ وہی خیر اسے عطا فرما دیتا ہے۔“ صحیح، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (5/ 241 ح 22443) و أبو داود (5042) [وابن ماجه: 3881] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ قَبْلَ صَلَاةِ التَّهَجُّدِ)
نماز تہجد سے پہلے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
1216 - وَعَنْ شَرِيقٍ الْهَوْزَنِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا: بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ: سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ؟ كَبَّرَ عَشْرًا، وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا، وَقَالَ:"سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا"، وَقَالَ:"سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ"عَشْرًا، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَشْرًا، وَهَلَّلَ اللَّهَ عَشْرًا، ثُمَّ قَالَ:"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ"عَشْرًا، ثُمَّ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
شُرَیق الہوزنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہو کر ان سے دریافت کیا، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس (ذکر) سے آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”تم نے ایسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال کیا ہے جس کے متعلق تم سے پہلے کسی نے مجھ سے دریافت نہیں کیا، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمدللہ“، دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”سبحان اللہ وبحمدہ“، دس مرتبہ «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» ”سبحان الملک القدوس“، دس مرتبہ «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» ”استغفر اللہ“ اور دس مرتبہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتے، پھر دس مرتبہ دعا فرماتے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِیْقِ الدُّنْیَا وَضِیْقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں دنیا میں روزِ قیامت کی سختیوں اور تکلیفوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز (تہجد) شروع فرماتے۔“ (حسن، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (5085) [و له شواھد. ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ وَقْتِ التَّهَجُّدِ)
تہجد کے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1217
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1217 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ، ثُمَّ يَقُولُ:"سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ"، ثُمَّ يَقُولُ:"اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا"، ثُمَّ يَقُولُ:"أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَزَادٌ أَبُو دَاوُدَ بَعْدَ قَوْلِهِ:"غَيْرُكَ"، ثُمَّ يَقُولُ:"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"ثَلَاثًا. وَفِي آخِرِ الْحَدِيثِ: ثُمَّ يَقْرَأُ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے اٹھتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہہ کر یہ دعا پڑھتے: ”پاک ہے تو اے اللہ! اپنی حمد کے ساتھ، بابرکت ہے نام تیرا، بلند ہے شان تیری اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: ”اللہ بہت ہی بڑا ہے“، پھر فرماتے: ”میں اللہ سمیع و علیم کی پناہ کا طلب گار ہوں شیطان مردود سے، اس کے وسوسے، اس کے کبر اور اس کے جادو سے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی؛ ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابوداؤد نے «غَيْرِكَ» کے بعد یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین مرتبہ فرماتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»، اور حدیث کے آخر میں ہے: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قراءت کرتے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (242) و أبو داود (775) والنسائي (2/ 132 ح 900) [و صححه ابن خزيمة (467) وتقدم طرفه (816) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صَلَاةُ اللَّيْلِ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1218
1218 - وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ:"سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ"الْهَوِيِّ، ثُمَّ يَقُولُ:"سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ"الْهَوِيِّ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ. وَلِلتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجرے کے قریب رات بسر کیا کرتا تھا، جب آپ رات تہجد کے لیے اٹھتے تو میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیر تک یہ پڑھتے ہوئے سنتا: «سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”پاک ہے تمام جہانوں کا رب۔“ اور: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ۔“ نسائی۔ ترمذی میں بھی اسی طرح ہے۔ اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ صحیح، رواہ النسائی و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (3/ 209 ح 1619) والترمذي (3416) [و أصله عند مسلم: 226/ 489] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ تَرْكِ صَلَاةِ التَّهَجُّدِ)
نماز تہجد ترک کر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1219
[ 33 ] بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1219 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ، يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ ; وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ، كَسْلَانَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے، وہ ہر گرہ پر یہ فسوں پھونک دیتا ہے: ابھی تو بہت رات ہے، سو جاؤ، اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وضو کر لیتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اور وہ صبح کو ہشاش بشاش ہوتا ہے، جبکہ بصورتِ دیگر وہ غمگین و پریشان اور سستی کا شکار ہوتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1142) و مسلم (207/ 776)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مُدَّةُ قِيَامِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر لمبا قیام کرتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1220
1220 - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ:"أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ یہ (طویل قیام) کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ آپ کی اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تو پھر کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4836) و مسلم (79 / 2819)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ التَّهَجُّدِ)
نماز تہجد میں کیا پڑھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1221
1221 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقِيلَ لَهُ: مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ، مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ:"ذَلِكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ"أَوْ قَالَ:"فِي أُذُنَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ شخص صبح ہونے تک سویا رہتا ہے اور نماز بھی نہیں پڑھتا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”شیطان ایسے آدمی کے کان—یا فرمایا: اس کے کانوں میں—پیشاب کر دیتا ہے۔“ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1144) و مسلم (205/ 774)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِيقَاظُ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَوْجَاتِهِ لِلصَّلَاةِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں کو نماز کے لئے اٹھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1222
1222 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا، يَقُولُ:"سُبْحَانَ اللَّهِ! مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟! وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ"- يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ -"لِكَيْ يُصَلِّينَ؟ رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے تو فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ آج رات کس قدر خزانے نازل کیے گئے اور کس قدر فتنے (عذاب) نازل کیے گئے، ان حجرے والیوں کو کون جگائے گا؟“ یعنی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ازواج مطہرات کے بارے میں فرما رہے تھے: ”تاکہ وہ نماز تہجد پڑھیں، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں تو لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں لیکن وہ آخرت میں برہنہ ہوں گی۔“ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (7069)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ نُزُولِ اللَّهِ تَعَالَى فِي آخِرِ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ)
رات کے آخری پہر اللہ تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نزول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1223
1223 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ:". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:"ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہر رات جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو ہمارا رب تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور پوچھتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے، میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی ہے جو مجھ سے مانگے، میں اسے عطا کروں اور کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اسے بخش دوں۔“ متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے: کوئی ہے جو عطا کرنے والے سخی اور انصاف کرنے والے کو قرض عطا کرے (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1145) و مسلم (168/ 758، والرواية الثانية 172، 171 / 758)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں