مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ رَكْعَةِ الْوِتْرِ)
ایک رکعت وتر کا بیان
حدیث نمبر: 1254
[ 35 ] بَابُ الْوَتْرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1254 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ ; صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً، تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے تو وہ اس کی نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (990) و مسلم (749/145)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (رَكْعَةُ الْوِتْرِ الْوَاحِدَةُ)
وتر کی ایک رکعت
حدیث نمبر: 1255
1255 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ". رَوَاهَ مُسْلِمٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وتر (کی نماز) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (752/153)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ خَمْسِ رَكَعَاتِ الْوِتْرِ)
پانچ رکعت وتر کا بیان
حدیث نمبر: 1256
1256 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرہ رکعت نماز تہجد پڑھا کرتے تھے، ان میں سے پانچ وتر پڑھتے اور تشہد کے لیے صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1140) و مسلم (737/123)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ تِسْعِ رَكَعَاتِ الْوِتْرِ)
نو رکعت وتر کا بیان
حدیث نمبر: 1257
1257 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَتْ ; فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، وَيَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَيَحْمَدُهُ، وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ، وَلَا يُسَلِّمُ، فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ فِي الْأُولَى، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ. وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو میں نے عرض کیا: ام المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق مجھے بتائیں، انہوں نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا، میں نے عرض کیا: ام المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے متعلق مجھے بتائیں، انہوں نے فرمایا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کے پانی کا انتظام کرتے، پھر جب اللہ چاہتا تو آپ کو رات کے وقت جگا دیتا، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے اور آپ صرف آٹھویں رکعت میں (تشہد) بیٹھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد بیان کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر آپ سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھ جاتے، اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد بیان کرتے اور اس سے دعا کرتے پھر سلام پھیرتے تو ہمیں سناتے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، بیٹا! یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ نے سات رکعتیں وتر پڑھے، اور دو رکعتیں ویسے ہی (بیٹھ کر) پڑھیں جیسے (بوڑھے ہونے سے) پہلے پڑھتے تھے، پس بیٹا! یہ نو ہو گئیں، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تو اس پر دوام اختیار کرنا آپ کو بہت پسند تھا، اور جب کبھی نیند کے غلبے یا کسی تکلیف کی وجہ سے نمازِ تہجد نہ پڑھتے تو پھر آپ دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور میں نہیں جانتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہو، یا آپ نے پوری رات تہجد پڑھی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھے ہوں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (746/139)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صَلَاةُ اللَّيْلِ الْآخِرَةُ هِيَ الْوِتْرُ)
رات کی آخری نماز وتر ہے
حدیث نمبر: 1258
1258 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وَتْرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وتر کو اپنی آخری نماز بناؤ۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (751/151)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ تَعْجِيلِ صَلَاةِ الْوِتْرِ)
وتر جلد پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1259
1259 - وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوَتْرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہو جانے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (750/149)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صَلَاةُ الْوِتْرِ تُصَلَّى فِي آخِرِ اللَّيْلِ)
نماز وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھنا
حدیث نمبر: 1260
1260 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ رات کے اول حصے میں وتر پڑھ لے، اور جسے رات کے آخری حصے میں جاگنے کی امید ہو تو وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے میں پڑھی جانے والی نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور یہ افضل ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (755/162)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ أَوْقَاتِ صَلَاةِ الْوِتْرِ)
نماز وتر کے اوقات کا بیان
حدیث نمبر: 1261
1261 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مِنْ كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ، وَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے تمام اوقات میں وتر پڑھے ہیں، رات کے اول حصے میں، اس کے وسط میں، اس کے آخری حصے میں اور آخری دور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز وتر سحری (آخر شب) کے وقت ہوتی تھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (996) و مسلم (136/ 745)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَهَمِّيَّةُ صَلَاةِ الضُّحَى)
صلوٰۃ ضحیٰ (چاشت کی نماز) کی اہمیت
حدیث نمبر: 1262
1262 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین کاموں کا حکم فرمایا: ”ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا حکم فرمایا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1981) و مسلم (721/85)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَسْهِيلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَمَلِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل میں آسانی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 1263
الْفَصْلُ الثَّانِي 1263 - عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ. قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ. قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: كَانَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ، وَرُبَّمَا خَفَتَ. قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ.
غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: مجھے بتائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت رات کے اول حصے میں کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا: کبھی رات کے پہلے حصے میں غسل کیا اور کبھی رات کے پچھلے حصے میں، میں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے“ جس نے دین میں وسعت رکھی، میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھا کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا: آپ نے کبھی رات کے اول حصے میں وتر پڑھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں، میں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے“ جس نے دین میں وسعت رکھی، میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نمازِ تہجد میں) بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا پست آواز سے؟ انہوں نے فرمایا: کبھی بلند آواز سے اور کبھی پست آواز سے، میں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے“ جس نے دین میں وسعت رکھی۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی ہے، اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (226) و ابن ماجه (1354) [والنسائي (125/1، 126 ح 223، 224 و 199/1 ح 405] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن