🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَا يَقُولُ الْمُنْتَهِي مِنْ صَلَاةِ الْوِتْرِ)
نمازِ وتر سے فارغ ہونے والا کیا کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
1274 - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوَتْرِ قَالَ:"سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَزَادَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يُطِيلُ فِي آخِرِهِنَّ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر پڑھ کر سلام پھیرتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے بادشاہ، نہایت پاک۔“ ابوداؤد، نسائی، اور انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے: ”تین مرتبہ لمبی آواز سے فرماتے۔“ صحیح، اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (1430) والنسائي (3/ 235 ح 1700)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدُّعَاءَاتُ بَعْدَ صَلَاةِ الْوِتْرِ)
نماز وتر کے بعد کی اور دعائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1275
1275 - وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ:"سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ"ثَلَاثًا، وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالثَّالِثَةِ.
اور عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اپنے والد (رضی اللہ عنہما) کی سند سے نسائی کی روایت میں ہے: ”جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سلام پھیرتے تو تین مرتبہ «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ فرماتے اور تیسری مرتبہ اپنی آواز بلند فرماتے۔“ (صحیح، رواہ النسائی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (3/ 245 ح 1735)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْوِتْرِ)
نماز وتر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
1276 - وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وَتْرِهِ:"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر کے آخر پر یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضی سے، تیرے درگزر کے ذریعے تیری سزا سے پناہ چاہتا ہوں، میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جیسے تو نے اپنی ذات کی ثنا فرمائی ہے ویسے میں کوشش کے باوجود تیری ثنا بیان نہیں کر سکتا۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (1427) والترمذي (3566 و قال: حسن غريب.) والنسائي (3/ 248، 249 ح 1748) و ابن ماجه (1179)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَكْعَةُ وَاحِدَةٌ مِنْ وَتْرِ سَيِّدِنَا مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک رکعت وتر پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1277 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قِيلَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ، إِنَّهُ فَقِيهٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ، وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کے پاس کوئی جواب یا فتویٰ ہے کہ وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ درست ہیں کیونکہ وہ ایک فقیہ شخص ہیں۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ابن ملیکہ رحمہ اللہ نے فرمایا: معاویہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام آپ کے پاس موجود تھے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو کیونکہ انہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت اختیار کرنے کا شرف حاصل ہے۔“ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3765)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأْكِيدُ صَلَاةِ الْوِتْرِ)
وتر پڑھنے کی تاکید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
1278 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"الْوَتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوَتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوَتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وتر حق (واجب) ہے، جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، پس جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے پس جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1419)
٭ فيه أبو المنيب عبيد الله بن عبد الله العتکي: حسن الحديث في غير ما أنکر عليه و ھذا الحديث مما أنکر عليه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَضَاءُ وَتْرٍ مِثْلَ الْفَرْضِ)
فرض کی طرح وتر کی بھی قضا واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
1279 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ أَوْ إِذَا اسْتَيْقَظَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نیند یا بھول کی وجہ سے وتر نہ پڑھے تو جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو تو وتر پڑھ لے۔“ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (465) و أبو داود (1431) و ابن ماجه (1188) [و صححه الحاکم علٰي شرط الشيخين (302/1) ووافقه الذهبي و للحديث طرق] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حِفْظُ الصَّحَابَةِ لِلْوَجْهَةِ الْحَذْرِيَّةِ فِي الْفِتَنِ)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسائل کے جواب میں احتیاط برتنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1280
1280 - وَعَنْ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ: أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ. رَوَاهُ فِي"الْمُوَطَّأِ".
مالک رحمہ اللہ کو روایت پہنچی کہ کسی شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں دریافت کیا، کیا وہ واجب ہے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے۔“ وہ آدمی بار بار ان سے پوچھتا رہا اور عبداللہ رضی اللہ عنہما یہی جواب دیتے رہے: ”رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1280]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه مالک (124/1 ح 270) [و للأثر شواھد عند أحمد (2/ 29، 58) وغيره]
٭ السند منقطع لأنه من البلاغات، و روي أحمد (29/3ح 4834) بسند صحيح عن مسلم بن مخراق القري قال قال رجل لابن عمر: أرأيت الوتر أسنة ھو؟ قال: ما سنة؟ أوتر رسول الله ﷺ و أوتر المسلمون. قال: لا أسنة ھو؟ قال: مه تعقل؟ أوتر رسول الله ﷺ و أوتر المسلمون. (و سنده صحيح)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قِرَاءَةُ أَكْثَرَ مِنْ سُورَةٍ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ)
ایک رکعت میں ایک سورۃ سے زیادہ بھی پڑھی جا سکتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1281
1281 - وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ، يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثَ سُوَرٍ آخِرُهُنَّ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین وتر پڑھا کرتے تھے اور ان میں ہر رکعت میں تین سورتوں کے حساب سے مفصل سورتوں میں سے نو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور سب سے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1281]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (460)
٭ فيه الحارث الأعور وھو ضعيف جدًا.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ النَّفَلِ بَعْدَ صَلَاةِ الْوِتْرِ)
نماز وتر کے بعد نفلی نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1282
1282 - وَعَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمَكَّةَ، وَالسَّمَاءُ مُغَيِّمَةٌ، فَخَشِيَ الصُّبْحَ، فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ انْكَشَفَ، فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا، فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ میں تھا، آسمان ابرآلود تھا، انہوں نے صبح کے اندیشے کے پیش نظر ایک رکعت وتر پڑھا، پھر جب موسم صاف ہو گیا تو انہوں نے دیکھا کہ ابھی تو رات باقی ہے، تو انہوں نے ایک رکعت پڑھ کر نماز کو جفت بنا لیا، پھر انہوں نے دو رکعتیں (تہجد) پڑھیں، پھر جب صبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا۔ صحیح، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1282]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (1/ 125 ح 272)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَدْءُ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً جَالِسًا ثُمَّ قِيَامُهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹھ کر نماز شروع کرنا پھر کھڑے ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1283
1283 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، قَامَ وَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے قراءت کرتے تھے، پھر جب تیس یا چالیس آیات کے برابر تلاوت باقی رہ جاتی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر قراءت کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر سجدہ کرتے اور پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1283]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (731/112)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں