مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قِرَاءَةُ الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ أَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ)
وتر میں قنوت رکوع سے پہلے یا بعد میں پڑھنا
حدیث نمبر: 1294
1294 - وَسُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کیا“، اور ایک روایت میں ہے: ”رکوع سے پہلے بھی اور بعد بھی۔“ حسن، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1294]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (1183) بلفظ مختلف [و أصله عند البخاري (1001) ومسلم (677) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (بَيَانُ صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ)
نماز تراویح کا بیان
حدیث نمبر: 1295
[ 37 ] بَابُ قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1295 - عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:"مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنا لیا اور آپ نے چند راتیں اس میں نماز پڑھی، حتیٰ کہ لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہو گئے، پھر ایک رات انہوں نے آپ کی آواز محسوس نہ کی اور انہوں نے گمان کیا کہ آپ سو چکے ہیں، کچھ لوگ کھانسنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ تم کرتے رہے میں نے اسے دیکھا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اسے تم پر فرض نہ کر دیا جائے، اور اگر تم پر فرض کر دی جاتی تو تم اس کا اہتمام نہ کر سکتے، لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (731) و مسلم (213/ 781)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (حَثُّ عَلَى صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ)
نماز تراویح کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 1296
1296 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْغَبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ:"مَنْ قَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی قطعی حکم دیے بغیر قیامِ رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو معاملہ اسی طرح تھا، پھر ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے شروع میں معاملہ اسی طرح تھا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (174 / 759)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ صَلَاةِ النَّفَلِ فِي الْبَيْتِ)
نفلی نماز گھر میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1297
1297 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا ; فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صِلَاتِهِ خَيْرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز ادا کرے تو وہ اس کا کچھ حصہ نفل وغیرہ اپنے گھر میں بھی ادا کرے، کیونکہ اللہ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر و برکت فرمائے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (778/210)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ اهْتِمَامِ صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ)
نماز تراویح کے اہتمام کا بیان
حدیث نمبر: 1298
الْفَصْلُ الثَّانِي 1298 - عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا، حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟ فَقَالَ:"إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ"، فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ، جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السَّحُورُ. ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ ; إِلَّا أَنَّ التِّرْمِذِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، آپ نے اس ماہ میں ہمیں تراویح نہ پڑھائی حتیٰ کہ سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمیں تراویح پڑھائی حتیٰ کہ تہائی رات بیت گئی، جب چھٹی رات ہوئی تو آپ نے ہمیں تراویح نہ پڑھائی، جب پانچویں رات ہوئی تو آپ نے ہمیں تراویح پڑھائی حتیٰ کہ نصف شب بیت گئی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش کہ آپ اس رات کے قیام کو بڑھا دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے حتیٰ کہ وہ فارغ ہوتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے“۔ جب چوتھی رات آئی تو آپ نے ہمیں نماز تراویح نہ پڑھائی، جب تیسری رات آئی تو آپ نے اپنے اہل و عیال اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمیں نماز تراویح پڑھائی، (اور اتنا لمبا قیام فرمایا) حتیٰ کہ ہمیں اپنی سحری فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوا، (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا: «الْفَلَاحُ» ”فلاح“ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”سحری“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہینے کے باقی ایام میں ہمیں تراویح نہ پڑھائی۔ ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا، البتہ امام ترمذی نے ”آپ نے مہینے کے باقی ایام میں ہمیں تراویح نہیں پڑھائی“ کا ذکر نہیں کیا۔ (صحیح)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «و إسناده صحيح، رواه أبو داود (1375) و الترمذي (806 وقال: حسن صحيح.) و النسائي (83/3، 84 ح 1365) و ابن ماجه (1327) [و صححه ابن خزيمة (2206) و ابن حبان (919) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (فَضْلُ لَيْلَةِ الْخَمْسَ عَشَرَ مِنْ شَعْبَانَ)
شعبان کی پندرہویں رات کی فضلیت
حدیث نمبر: 1299
1299 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ:"أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ. فَقَالَ:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَزَادَ رَزِينٌ:"مِمَّنِ اسْتَحَقَّ النَّارَ"، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا - يَعْنِي الْبُخَارِيَّ - يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (بستر پر) نہ پایا، آپ اچانک بقیع (قبرستان) تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں اندیشہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے اور وہ (اس رات) کلب قبیلے کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔“ (ضعیف)۔ ترمذی، ابن ماجہ، اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”اللہ ایسے لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے جو جہنم کے مستحق تھے۔“ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ کو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1299]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (739 و أعله) و ابن ماجه (1389) و رزين (لم أجده)
٭ حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و للحديث شواھد ضعيفة.»
٭ حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و للحديث شواھد ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَضْلُ صَلَاةِ النَّفَلِ فِي الْبَيْتِ)
نفلی نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1300
1300 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا، إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز کے علاوہ آدمی کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“ متفق علیہ، رواہ ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1300]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه أبو داود (1044) والترمذي (450 وقال: حسن) [والبخاري (731) و مسلم (781) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ اهْتِمَامِ سَيِّدِنَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِصَلَاةِ التَّرَاوِيحِ)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نماز تراویح کے اہتمام کا بیان
حدیث نمبر: 1301
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1301 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْلَةً إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ، ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ. قَالَ عُمَرُ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ - يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ - وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد (نبوی) میں گیا تو وہاں لوگ متفرق طور پر ایک ایک، دو دو اور کہیں چند افراد کی جماعت کی صورت میں نماز تراویح پڑھ رہے تھے، یہ صورت دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں انہیں ایک امام کی اقتدا پر اکٹھا کر دوں تو وہ بہتر ہوگا، پھر انہوں نے پختہ عزم کیا اور انہیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتدا پر جمع کر دیا، راوی بیان کرتے ہیں کہ میں کسی اور رات پھر ان کے ساتھ آیا تو لوگ اپنے قاری کی امامت میں نماز پڑھ رہے تھے، (یہ دیکھ کر) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نئی بات (باجماعت تراویح) بہت اچھی ہے، اور وہ نماز جس سے تم سو جاتے ہو وہ اس نماز کے پڑھنے سے افضل ہے، (راوی کہتا ہے) اس سے عمر رضی اللہ عنہ کی مراد رات کا آخری حصہ ہے، جبکہ لوگ اول رات میں نماز پڑھتے تھے۔ «رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ» [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2010)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَمْ رَكْعَةً فِي التَّرَاوِيحِ)
تراویح کی کتنی رکعتیں
حدیث نمبر: 1302
1302 - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ، حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعَصَا مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، فَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
سائب بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں گیارہ رکعت نماز تراویح پڑھائیں، قاری (ایک رکعت) میں دو سو آیات تلاوت کرتا تھا حتیٰ کہ ہم لمبے قیام کی وجہ سے لاٹھیوں کا سہارا لیا کرتے تھے، اور ہم طلوعِ فجر سے تھوڑا سا پہلے فارغ ہوتے تھے۔ [صحیح، رواہ مالک] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (115/1ح 249) [و من طريقه النسائي في الکبري (3/ 113 ح 4687) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (قِرَاءَةٌ طَوِيلَةٌ فِي التَّرَاوِيحِ)
تراویح میں لمبی قرأت
حدیث نمبر: 1303
1303 - وَعَنِ الْأَعْرَجِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا أَدْرَكْنَا النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي رَمَضَانَ قَالَ: وَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَإِذَا قَامَ بِهَا فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً رَأَى النَّاسُ أَنَّهُ قَدْ خَفَّفَ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
اعرج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں ہر شخص کو کافروں پر لعنت کرتے ہوئے پایا، اور قاری آٹھ رکعتوں میں سورۂ بقرہ پڑھتے تھے، اور جب اسے بارہ رکعتوں میں پڑھتے تو پھر لوگ اسے تخفیف سمجھتے تھے۔ اسنادہ حسن، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه مالک (115/1 ح 251) دون قوله: ’’مخافة فوت السحور‘‘.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن