🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (وَعْدُ اللَّهِ تَعَالَى لِمَنْ يَقْرَأُ صَلَاةَ الضُّحَى، بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ)
صلوٰۃ ضحیٰ پڑھنے پر اللہ تعالیٰ کا وعدہ، بروایت ابوداؤد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1314
1314 - وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ، وَأَحْمَدُ عَنْهُمْ.
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے جبکہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ اور امام دارمی رحمہ اللہ نے نعیم بن ہماز غطفانی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ نے ان (تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سے روایت کیا ہے۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (1289) والدارمي (338/1 ح1459) و أحمد (286/5) [و صححه ابن حبان (634) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صَلَاةُ الضُّحَى صَدَقَةٌ عَلَى كُلِّ مَفْصِلٍ فِي الْجَسَدِ)
صلوٰۃ ضحیٰ جسم کے ہر جوڑ کا صدقہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1315
1315 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ"، قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:"النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا، وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ ; فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”انسان میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، اور ہر جوڑ کے بدلے صدقہ کرنا اس پر لازم ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اتنی طاقت کون رکھتا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مسجد سے بلغم کو صاف کر دینا، راستہ سے کسی تکلیف کو دور کر دینا (صدقہ ہے)، پس اگر تو نہ پائے تو چاشت کی دو رکعتیں تیرے لیے کافی ہیں۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5242) [و صححه ابن خزيمة (1226) و ابن حبان (633، 811) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَن يَقْرَأُ صَلَاةَ الضُّحَى يُعْطَى مَقَرًّا فِي الْجَنَّةِ)
صلوٰۃ ضحیٰ پڑھنے پر جنت میں محل ملتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1316
1316 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ; بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مَنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تیار کر دیتا ہے۔“ ترمذی، ابن ماجہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (473) و ابن ماجه (1380)
٭ موسي بن فلان بن أنس: مجھول الحال والحديث ضعفه الحافظ ابن حجر في التلخيص الحبير (20/2 ح 536) و له شواھد ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضْلُ صَلَاةِ الإِشْرَاقِ)
نماز اشراق کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1317
1317 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى، لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نمازِ فجر پڑھنے کے بعد چاشت کی دو رکعتیں پڑھتا ہے اور وہ اس دوران خیر کے سوا کوئی بات نہیں کرتا، تو اس کے گناہ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں، تب بھی وہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1317]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1287)
٭ زبان بن فائد: ضعفه الجمھور و للحديث شواھد ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَغْفِرَةُ جَمِيعِ الذُّنُوبِ لِمَنْ يَقْرَأُ صَلَاةَ الضُّحَى)
صلوٰۃ ضحیٰ پڑھنے پر تمام گناہوں کی بخشش
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1318
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1318 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى ; غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرتا ہے تو اس کے گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تب بھی وہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1318]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (499/2 ح 10485) والترمذي (476 وقال: لا نعرفه إلا من حديث نھاس بن قھم) و ابن ماجه (1382)
٭ النھاس بن قھم: ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَادَةُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا معمول
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1319
1319 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ تَقُولُ: لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تَرَكْتُهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتی تھیں، پھر وہ فرماتی ہیں: اگر میرے والدین بھی زندہ کر دیے جائیں تو میں (ان کی خاطر) اس (نماز چاشت) کو ترک نہیں کروں گی۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه مالک (153/1 ح 358)
٭ أشار علي بن الحسين بن الجنيد بأن زيد بن أسلم لم يسمع من عائشة (انظر المراسيل لابن أبي حاتم ص 64)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَحْمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّتِهِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر شفقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
1320 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ: لَا يَدَعُهَا، وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ: لَا يُصَلِّيهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز چاشت پڑھا کرتے تھے، حتیٰ کہ ہم کہتے: ”اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے،“ اور (کبھی) اسے چھوڑ دیتے تو ہم کہتے: ”اب آپ اسے نہیں پڑھیں گے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (477 و قال: حسن غريب.)
٭ فيه عطية العوفي ضعيف مدلس.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ أَصْحَابِ الرَّسُولِ فِي صَلَاةِ الضُّحَى)
صلوٰۃ ضحیٰ سے متعلق صحابہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1321
1321 - وَعَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: تُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَعُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَأَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِخَالُهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
موّرق عجلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، آپ نمازِ چاشت پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے پوچھا: عمر رضی اللہ عنہ (پڑھتے تھے)؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے پوچھا: ابوبکر رضی اللہ عنہ (پڑھتے تھے)؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے پوچھا: نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (پڑھتے تھے)؟ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے نہیں پڑھتے تھے۔ «رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ» ”اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1175)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضْلُ صَلَاةِ النَّفْلِ)
نفلی نماز کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1322
[ 39 ] بَابُ التَّطَوُّعِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1322 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ:"يَا بِلَالُ! حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کے وقت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! مجھے اس عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے حالتِ اسلام میں کیا ہو اور جس پر تمہیں ثواب کی بہت زیادہ امید ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز سنی ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: مجھے اپنے جس عمل پر ثواب کی بہت زیادہ امید ہے (وہ یہ ہے) کہ میں رات یا دن میں جس وقت بھی وضو کرتا ہوں تو میں اس وضو کے بعد جس قدر مقدر ہو نفل نماز پڑھتا ہوں۔ متفق علیہ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1149) و مسلم (2458/108)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَرِيقَةُ صَلَاةِ الاِسْتِخَارَةِ)
نماز استخارہ کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1323
1323 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:"إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ ولا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنَّ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقَدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ"، قَالَ:"وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معاملات کے بارے میں ہمیں اس اہتمام کے ساتھ استخارہ سکھاتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: ”جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعتیں نماز پڑھے پھر یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ» ”اے اللہ! بے شک میں (اس کام میں) تجھ سے تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں اور (اس کے حصول کے لیے) تجھ سے تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضل عظیم مانگتا ہوں، بے شک تو (ہر چیز پر) قادر ہے اور میں (کسی چیز پر) قادر نہیں، تو جانتا ہے جبکہ میں کچھ بھی نہیں جانتا، اور تو تمام پوشیدہ چیزوں کا خوب جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میری زندگی اور میرے انجامِ کار۔“ یا فرمایا: ”میری دنیا اور میری آخرت کے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر، آسان کر اور پھر اس میں میرے لیے برکت پیدا فرما، اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین، میری زندگی اور میرے انجامِ کار۔“ یا فرمایا: ”میری دنیا اور میری آخرت کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر و بھلائی مقدر فرما وہ جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس کے ساتھ راضی کر دے۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اور وہ (دعا میں اس موقع پر) اپنی حاجت کا نام لے۔“”رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1162)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں