مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ الدُّعَاءِ بَعْدَ صَلَاةِ النَّفْلِ)
نفل نماز کے بعد دعا کا بیان
حدیث نمبر: 1324
الْفَصْلُ الثَّانِي 1324 - عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ - وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ، ثُمَّ يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: (وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ ; إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَهْ لَمْ يَذْكُرِ الْآيَةَ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا، انہوں نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر وضو کر کے نماز پڑھ کر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ﴾ [سورة آل عمران: 135] ”اور وہ لوگ جب کوئی برا کام کر گزرتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں۔“ ترمذی، ابن ماجہ، البتہ ابن ماجہ نے آیت ذکر نہیں کی۔ اسنادہ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3006 و قال: حسن و 406) و ابن ماجه (1395) [و أبو داود (1521) و صححه ابن حبان (2454) ] »
قال الشيخ الألباني: حَسَنٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمِصِيبَةِ)
مصیبت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل
حدیث نمبر: 1325
1325 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوراً نفل نماز کا اہتمام فرماتے۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1325]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1319)
٭ محمد بن عبد الله الدؤلي: مجھول الحال و لحديثه شاھد ضعيف.»
٭ محمد بن عبد الله الدؤلي: مجھول الحال و لحديثه شاھد ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (سَبَبُ أَخْذِ رَكْعَتَيْنِ إِلَى الْجَنَّةِ)
دو رکعات جنت میں لے جانے کا سبب
حدیث نمبر: 1326
1326 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ:"بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهُ وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بِهِمَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کے وقت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کس عمل کی وجہ سے تم مجھ سے پہلے جنت میں چلے گئے؟ میں جب بھی جنت میں گیا تو میں نے تمہارے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جب بھی اذان کہتا ہوں تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں، اور جب میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے تو میں فوراً وضو کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے دو رکعتیں پڑھنا مجھ پر لازم ہیں (لہذا میں دو رکعتیں پڑھتا ہوں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”انہی دو کی وجہ سے (تم اس مقام کو پہنچے ہو)۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3689 وقال: حسن صحيح غريب) [و صححه ابن خزيمة (1209) و ابن حبان (الإحسان: 7044، 7045) والحاکم (313/1) ووافقه الذھبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (طَرِيقَةُ صَلَاةِ الْحَاجَةِ وَالدُّعَاءِ)
صلوٰۃ حاجت کا طریقہ اور دعا
حدیث نمبر: 1327
1327 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلْيَتَوَضَّأْ فَلْيَحْسُنِ الْوُضُوءَ ثُمَّ لْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لْيُثْنِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى، وَلْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ سے کوئی حاجت و ضرورت ہو یا کسی انسان سے کوئی کام ہو تو وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے، پھر اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوٰۃ پڑھے پھر یوں دعا کرے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» ”اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عرشِ عظیم کا رب پاک ہے، ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، میں تجھ سے ان اعمال و اسباب کی درخواست کرتا ہوں جو تیری رحمت اور تیری مغفرت کو واجب و مؤکد کر دیں، میں ہر نیکی کو غنیمت جاننے اور ہر گناہ سے بچنے کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں، سب سے زیادہ رحم فرمانے والے! میرے تمام گناہ معاف فرما دے، میرے تمام غم دور کر دے اور ہر ضرورت جو تیری رضا کا باعث بنے اسے پورا فرما دے۔““ ترمذی، ابن ماجہ، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (479) و ابن ماجه (1384)
٭ فائد: منکر الحديث، قاله البخاري، يعني لا تحل الرواية عنه.»
٭ فائد: منکر الحديث، قاله البخاري، يعني لا تحل الرواية عنه.»
قال الشيخ الألباني: مَوْضُوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (صَلَاةُ التَّسْبِيحِ كَفَّارَةُ الذُّنُوبِ، بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَابْنِ مَاجَهَ)
صلوٰۃ تسبیح گناہوں کا کفارہ ہے، بروایت ابوداؤد و ابن ماجہ
حدیث نمبر: 1328
[ 40 ] بَابُ صَلَاةِ التَّسْبِيحِ 1328 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ:"يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّاهُ! أَلَا أُعْطِيكَ؟ أَلَا أَمْنَحُكَ؟ أَلَا أُخْبِرُكَ؟ أَلَا أَفْعَلُ بِكَ؟ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ، قُلْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ، فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمْرِكَ مَرَّةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے چچا جان عباس! کیا میں آپ کو کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو کچھ عنایت نہ کروں؟ کیا میں آپ کو کوئی خبر نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں عطا نہ کروں کہ جب آپ ان پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، قدیم و جدید، سہواً کیے گئے یا عمداً، چھوٹے بڑے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہ معاف فرما دے، وہ یہ کہ آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں، جب آپ پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں اور ابھی قیام میں ہوں تو آپ پندرہ مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھیں، پھر آپ رکوع کریں اور رکوع میں یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھیں، پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں، پھر سجدہ کریں اور سجدہ میں دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں، پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں، پھر سجدہ کریں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں اور پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں، اس طرح ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ کلمات ہوں گے، آپ یہ عمل چار رکعتوں میں دہرائیں، اگر آپ ہر روز اسے پڑھ سکیں تو پڑھیں، اگر ایسے نہ ہو سکے تو پھر ہر جمعہ (یعنی ہفتہ میں ایک بار) پڑھیں، اگر ایسے نہ کر سکیں تو پھر سال میں ایک مرتبہ پڑھیں، اگر ایسے بھی نہ کر سکیں تو پھر اپنی زندگی میں ایک بار ہی پڑھ لیں۔“ [حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و البیہقی] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (1297) و ابن ماجه (1387) والبيھقي في الدعوات الکبير (2/ 159 ح 393)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (صَلَاةُ التَّسْبِيحِ كَفَّارَةُ الذُّنُوبِ، بِرِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ)
صلوٰۃ تسبیح گناہوں کا کفارہ ہے، بروایت ترمذی
حدیث نمبر: 1329
1329 - وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ نَحْوَهُ.
امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابورافع رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (482 وقال: غريب) [سنده ضعيف و للحديث شواھد منھا الحديث السابق: 1328] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (يَجِبُ أَنْ يَكُونَ لِلْنَّوَافِلِ خَزِينَةٌ، بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ)
نوافل کا ذخیرہ بھی ہونا چاہیے، بروایت ابوداؤد
حدیث نمبر: 1330
1330 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ، فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ، قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُكَمَّلُ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ". وَفِي رِوَايَةٍ:"ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بندے سے روز قیامت اس کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر وہ صحیح و درست ہوئی تو وہ فلاح و نجات پا گیا اور اگر وہ صحیح و درست نہ ہوئی تو پھر وہ ناکام و نامراد ہوگا، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی ہوئی تو رب تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے کچھ نوافل ہیں؟ تو اس طرح فرائض کی کمی کو ان (نوافل) سے پورا کر دیا جائے گا، پھر باقی اعمال کا حساب اسی طرح ہوگا۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”پھر زکاۃ کا حساب بھی اسی طرح ہوگا اور پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی (مذکور مثال کی) طرح ہوگا۔“ حسن، واللفظ مرکب، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن واللفظ مرکب، رواه أبو داود (864 و سنده ضعيف و ھو بغير ھذا اللفظ، 866 و سنده صحيح و ھي الرواية الثانية عندصاحب المشکوة) [و رواه ابن ماجه (1425 وسنده ضعيف) و صححه الحاکم (262/1) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن واللفظ مرکب
--. (يَجِبُ أَنْ يَكُونَ لِلْنَّوَافِلِ خَزِينَةٌ، بِرِوَايَةِ إِمَامِ أَحْمَدَ)
نوافل کا ذخیرہ بھی ہونا چاہیے، بروایت امام احمد
حدیث نمبر: 1331
1331 - وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ.
امام احمد رحمہ اللہ نے (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے) کسی ایک سے روایت کیا ہے۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (72/5 ح 20968، 5/ 377 ح 23590، 4/ 65ح 16731، 4/ 103 ح17073) [والحاکم (1/ 263) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بَرَكَاتُ صَلَاةِ النَّفْلِ وَالتِّلَاوَةِ)
نماز نفل اور تلاوت کی برکات
حدیث نمبر: 1332
1332 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا أَذِنَ اللَّهُ لَعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ"، يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے اور جب تک بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے تو نیکی (رحمت) اس بندے کے سر پر سایہ کرتی رہتی ہے، اور بندہ اللہ کے کلام یعنی قرآن کے ذریعے جس قدر اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے ویسا کسی اور چیز کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (5/ 268 ح 22662) والترمذي (2911 وقال: غريب)
٭ ليث بن أبي سليم ضعيف.»
٭ ليث بن أبي سليم ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (بَيَانُ قَصْرِ الصَّلَاةِ)
نماز قصر کا بیان
حدیث نمبر: 1333
[ 41 ] بَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ الفصلُ الْأَوَّلُ 1333 - عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت (پوری نماز) ادا کی اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت (قصر نماز) ادا کی۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1089) و مسلم (690/10)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه