مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْقَصْرُ لِلسَّفَرِ، فَلْيُقْصَرْ فِي حَالَةِ السَّلَامَةِ أَيْضًا)
قصر نماز سفر کی وجہ سے ہے لہٰذا حالت امن میں بھی پڑھی جائے
حدیث نمبر: 1334
1334 - وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَكْثَرُ مَا كُنَّا قَطُّ وَآمَنُهُ بِمِنًا، رَكْعَتَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعتیں پڑھائیں، حالانکہ اس سے پہلے ہم کبھی نہ تو اتنی کثیر تعداد میں تھے اور نہ کبھی اس قدر پر امن تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1083) و مسلم (696/20)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الْقَصْرُ فِي السَّفَرِ وَاجِبٌ)
سفر میں قصر کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 1335
1335 - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا) فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، قَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، فَقَالَ:"صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: ﴿أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة النساء: 101] ”اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں کسی مصیبت میں ڈال دیں گے تو تم نماز میں کچھ کمی کر لو۔“ اب تو لوگ پر امن ہیں (کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں)، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسے آپ کو تعجب ہوا ہے ویسے مجھے بھی تعجب ہوا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ» ”ایک قسم کا صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے، تم اس کی طرف سے صدقہ قبول کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (686/4)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ الصَّلَاةَ عَشَرَ أَيَّامٍ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس دن نماز قصر کی
حدیث نمبر: 1336
1336 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قِيلَ لَهُ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ:"أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ہمارے مدینہ واپس پہنچنے تک دو دو رکعتیں (نماز قصر) پڑھاتے رہے، ان سے پوچھا گیا کہ کیا تم نے مکہ میں کچھ قیام بھی کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہم نے وہاں دس روز قیام کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1081) و مسلم (15/ 693)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ قَصْرِ الصَّلَاةِ لِمُدَّةِ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا)
انیس دن تک نماز قصر کا بیان
حدیث نمبر: 1337
1337 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَافَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا، فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَكَّةَ، تِسْعَةَ عَشَرَ، رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفر کیا (فتح مکہ کا سفر)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انیس دن قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو رکعتیں پڑھاتے رہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم مدینہ اور مکہ کے درمیانی فاصلے پر انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، جب ہم اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو ہم چار رکعتیں (پوری نماز) پڑھتے ہیں۔ اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1080)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الاِكْتِفَاءُ بِرَكْعَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ)
سفر کی دو رکعات پر اکتفا کا بیان
حدیث نمبر: 1338
1338 - وَعَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ رَحْلَهُ، وَجَلَسَ، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي، صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں طریق مکہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، آپ رضی اللہ عنہما نے ہمیں ظہر کی دو رکعت پڑھائیں، پھر اپنی قیام گاہ میں آ کر بیٹھ گئے، آپ رضی اللہ عنہما نے کچھ لوگوں کو قیام کرتے (نماز پڑھتے) ہوئے دیکھا تو فرمایا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نفل پڑھ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا: اگر میں نے نفل پڑھنے ہوتے تو میں اپنی نماز پوری پڑھتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، وہ سفر میں دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1101، 1102) و مسلم (689/8)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ جَمْعِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ)
سفر میں نماز میں جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1339
1339 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْن [ صَلَاةِ ] الظُّهْرِ وَالْعَصْر إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کرتے تو ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھتے تھے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1107)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صَلَاةُ النَّفْلِ عَلَى السَّوَارِي فِي السَّفَرِ)
حالت سفر میں سواری پر نفلی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 1340
1340 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ، يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ سفر اپنی سواری پر جس طرف وہ رخ کرتی، نماز پڑھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود کے لیے سر کا اشارہ فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرائض کے علاوہ نمازِ تہجد اور نمازِ وتر اپنی سواری پر ادا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1000) و مسلم (38، 37 /700)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الصَّلَاةُ الْمُقْصَرَةُ أَوْ الْمُكْمَلَةُ فِي السَّفَرِ)
سفر میں نماز قصر یا پوری نماز پڑھنا
حدیث نمبر: 1341
الْفَصْلُ الثَّانِي 1341 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَصَرَ الصَّلَاةَ وَأَتَمَّ. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوران سفر) ہر طرح کی نماز پڑھی۔ آپ نے قصر بھی پڑھی اور پوری بھی۔ صحیح، «رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ» ”اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه البغوي في شرح السنة (4/ 166 ح 1023) [والدارقطني (189/2 ح 2274 وقال: ’’طلحة ضعيف‘‘) والبيھقي (142/3) ]
٭ طلحة بن عمرو متروک و للحديث شواھد صحيحة عند النسائي (122/3 ح 1457) والدارقطني (189/2 ح 2275) و من ضعف الحديث فلا حجة عنده، قلت: سعيد بن محمد بن ثواب ثقة روي عنه جماعة و وثقه ابن حبان و الدارقطني و لم يضعفه أحد.»
٭ طلحة بن عمرو متروک و للحديث شواھد صحيحة عند النسائي (122/3 ح 1457) والدارقطني (189/2 ح 2275) و من ضعف الحديث فلا حجة عنده، قلت: سعيد بن محمد بن ثواب ثقة روي عنه جماعة و وثقه ابن حبان و الدارقطني و لم يضعفه أحد.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (يُمْكِنُ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يُؤُمَّ الْمَسَافِرِينَ)
مسافر امامت کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 1342
1342 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، يَقُولُ:"يَا أَهْلَ الْبَلَدِ! صَلُّوا أَرْبَعًا، فَإِنَّا سَفْرٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک رہا اور فتح مکہ کے موقع پر بھی میں آپ کے ساتھ موجود تھا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ روز قیام فرمایا، آپ دو رکعتیں پڑھ کر فرماتے: ”اہل مکہ! تم چار رکعتیں پڑھو، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (1229)
٭ علي بن زيد بن جدعان ضعيف و لأصل الحديث شواھد کثيرة.»
٭ علي بن زيد بن جدعان ضعيف و لأصل الحديث شواھد کثيرة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (الْقَصْرُ يَكُونُ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي لَهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ)
قصر صرف چار رکعت والی نماز میں ہو گی
حدیث نمبر: 1343
1343 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا، وَالْمَغْرِبُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءٌ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ، وَلَا يَنْقُصُ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ، وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے دورانِ سفر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر دو رکعت پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے: میں نے سفر و حضر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے حضر میں آپ کے ساتھ ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اور میں نے دورانِ سفر آپ کے ساتھ ظہر دو رکعت پڑھی اور دو رکعتیں اس کے بعد پڑھیں، اور عصر دو رکعت پڑھی اور اس کے بعد کچھ نہ پڑھا، جبکہ مغرب سفر و حضر دونوں حالتوں میں تین رکعت پڑھیں، سفر ہو یا حضر ان میں کمی نہیں کی جاتی اور یہ دن کے وتر ہیں، اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (552 وقال: حسن)
٭ محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي ليلٰي ضعيف ضعفه الجمھور.»
٭ محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي ليلٰي ضعيف ضعفه الجمھور.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف