🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (نُزُولُ الْمَلَائِكَةِ فِي الْمَسَاجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)
جمعہ کے روز مساجد میں فرشتوں کے نزول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1384
1384 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَبْشًا، ثُمَّ دَجَاجَةً، ثُمَّ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ، وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنے والوں کو ترتیب وار لکھتے جاتے ہیں۔ اور سب سے پہلے آنے والا اس شخص کی طرح (اجر و ثواب پاتا) ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے، پھر اس کے بعد والا اس شخص کی طرح ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے، پھر اس کے بعد والا بھیڑ کی قربانی کرنے والے کی طرح، پھر مرغی اور پھر اس کے بعد آنے والا ایسے جیسے کوئی انڈا صدقہ کرے۔ جب امام منبر پر آ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور غور سے خطبہ سنتے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (929) و مسلم (850/24)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اسْتِمَاعُ الْخُطْبَةِ وَجِيبٌ وَإِسْكَاتُ الْآخَرِينَ لَيْسَ بِمَقْبُولٍ)
خطبہ سننا واجب ہے کسی کو چُپ کرانا بھی لغو ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
1385 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے دورانِ خطبہ کسی ساتھ والے شخص سے (بس اتنا) کہہ دیا کہ خاموش ہو جاؤ تو تم نے لغو کام کیا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، . رواه البخاري (934) و مسلم (851/11)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا يَجُوزُ أَنْ يَقُومَ أَحَدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَيَجْلِسَ نَفْسَهُ)
مسجد میں کسی اٹھاکر خود بیٹھنا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
1386 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ يُخَالِفُ إِلَى مَقْعَدِهِ، فَيَقْعُدَ فِيهِ، وَلَكِنْ يَقُولُ: افْسَحُوا"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے روز اپنے کسی بھائی کو اس کی جگہ سے اس مقصد سے نہ اٹھائے کہ خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے، بلکہ وہ یوں کہے: وسعت پیدا کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (30 / 2178)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُنَّةٌ لِبَسُ ثِيَابٍ طَيِّبَةٍ وَوَضْعُ الطِّيبِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)
جمعہ کے دن اچھا لباس پہننا اور خوشبو لگانا سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
الْفَصْلُ الثَّانِي 1387 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کر کے، اچھا لباس پہن کر اور اگر خوشبو ہو تو اسے لگا کر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے۔ پھر جس قدر اللہ نے اس کے مقدر میں کیا ہے نماز پڑھے، اور پھر جب امام (منبر پر) آ جائے تو نماز مکمل ہو جانے تک خاموشی اختیار کرے تو یہ (سارا اہتمام) اس کے اس اور سابقہ جمعہ کے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہو گا۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1387]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (343) [و أحمد (81/3) و صححه ابن خزيمة (1762) و ابن حبان (562) والحاکم (283/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ صِيَامِ سَنَةٍ وَعِبَادَةِ اللَّيْلِ بِدَلَالَةِ كُلِّ خُطْوَةٍ)
ہر قدم کے بدلے سال کے روزوں اور رات کی عبادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1388
1388 - وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ، وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ: أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کے روز خوب اچھی طرح غسل کرے، پیدل چل کر اول وقت مسجد میں جا کر امام کے قریب بیٹھ کر خوب غور سے خطبہ سنے اور اس دوران کوئی لغو کام نہ کرے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور ایک سال کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔“ صحیح، رواہ الترمذی وابوداؤد والنسائی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (496 وقال: حسن) و أبو داود (345) والنسائي (3/ 97 ح 1385) و ابن ماجه (1087) [و صححه ابن خزيمة (1767) و ابن حبان (559) والحاکم علٰي شرط الشيخين (381/2. 382) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْاِعْتِنَاءُ بِثِيَابٍ نَظِيفَةٍ لِصَلَاةِ الْجُمُعَةِ)
نماز جمعہ کے لیے صاف ستھرے لباس کا اہتمام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1389
1389 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مَهْنَتِهِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی شخص دورانِ کام پہننے والے کپڑوں کے علاوہ، جمعہ کے دن کے لیے ایک الگ سوٹ بنا سکتا ہو تو وہ بنا لے، اس پر کوئی حرج نہیں۔“ حسن، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1389]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (1095) [وأبو داود: 1078] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا إِثْمَ فِي صُنْعِ ثِيَابٍ خَاصَّةٍ لِلْجُمُعَةِ، بِرِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهَ)
جمعہ کے لئے خاص کپڑے بنوانے میں کوئی حرج نہیں، بروایت ابن ماجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1390
1390 - وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے اسے یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1390]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (110/1 ح 240) [ھذا مرسل والحديث السابق شاھد له] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْجُلُوسُ بَعِيدًا عَنِ الإِمَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ هُوَ بُعْدٌ عَنِ الْجَنَّةِ)
جمعہ کے وقت امام سے دور بیٹھنا جنت سے دوری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1391
1391 - وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"احْضُرُوا الذِّكْرَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ ; فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ذکر (جمعہ) کے لیے آؤ اور امام کے قریب ہو کر بیٹھو، کیونکہ آدمی دور ہوتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ اس کا جنت میں داخلہ مؤخر کر دیا جاتا ہے اگرچہ وہ جنت میں داخل ہو جائے۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1391]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1108)
٭ قتادة مدلس ولم أجد تصريح سماعه.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عِقَابُ مَن يَقْفِزُ رُقَبَاتِهِمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)
جمعہ کے دن گردنوں کو پھلانگ کر جانے کی سزا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1392
1392 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ; اتَّخَذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
سہل بن معاذ بن انس جہنی رحمہ اللہ اپنے والد (معاذ بن انس رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کے روز لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے تو وہ جہنم کی طرف پل بناتا ہے۔“ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (513)
٭ رشدين بن سعد و زبان بن فائد: ضعيفان.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الضَّجِيجِ فِي الْخُطْبَةِ)
دوران خطبہ گوٹھ مار کر بیٹھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1393
1393 - (وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ) .
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”جمعہ کے روز دورانِ خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے“ سے منع فرمایا ہے۔ (اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1393]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (514 وقال: حسن) و أبو داود (1110)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں