🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَاذَا يُقَالُ عِنْدَمَا يَغْمُضُ النَّاسُ فِي الْخُطْبَةِ)
دوران خطبہ اونگھ آئے تو کیا کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1394
1394 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ". (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو جمعہ کے روز (دوران خطبہ) اونگھ آئے تو وہ اپنی جگہ بدل لے۔“ سندہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1394]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده حسن، رواه الترمذي (526 و قال: حسن صحيح) [وأبو داود (1119) و صححه ابن خزيمة (1819) و ابن حبان (571) والحاکم علٰي شرط مسلم (291/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الْحَدِيثِ فِي الْخُطْبَةِ)
دوران خطبہ بات چیت منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1395
1395 - (عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ، قِيلَ لِنَافِعٍ: فِي الْجُمُعَةِ. قَالَ: فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا) . (وَمُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھ جائے۔“ نافع رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: دورانِ جمعہ؟ انہوں نے فرمایا: جمعہ میں اور جمعہ کے علاوہ بھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1395]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (627) و مسلم (2177/28)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدُّعَاءُ غَيْرُ الْمَوْقُوعِ لَا يَنْفَعُ)
دعا بھی بے موقع فائدہ مند نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1396
1396 - (وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِلَغْوٍ فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ; فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا، وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ جمعہ کے لیے آتے ہیں: ایک تو وہ جس نے وہاں پہنچ کر لغو حرکت کی تو اسے اس سے بس یہی کچھ ملتا ہے۔ دوسرا شخص دعا کرنے کے لیے حاضر ہوتا ہے۔ وہ اللہ سے دعا کرتا ہے اگر وہ چاہے تو اسے عطا کرے اور اگر چاہے تو منع فرما دے۔ جبکہ تیسرا شخص غور سے خطبہ سنتا ہے اور لغو حرکات سے بچتا ہے، کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو ایذا پہنچاتا ہے۔ تو وہ اس کے لیے سابقہ جمعہ اور مزید تین دن (کل دس دن) کے لیے کفارہ بن جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جو شخص ایک نیکی کرتا ہے تو اسے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے۔““ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1396]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1113) [و صححه ابن خزيمة (1813) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَثَلُ مَنْ لَا يَتَّبِعُ الْعِلْمَ)
علم پر عمل نہ کرنے والے کی مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1397
1397 - (وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ; فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا، وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ: أَنْصِتْ. لَيْسَ لَهُ جُمُعَةٌ") . (رَوَاهُ أَحْمَدُ) .
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دورانِ خطبہ بات کرتا ہے تو وہ کتابیں اٹھائے ہوئے گدھے کی طرح ہے، اور جو شخص اسے کہتا ہے: خاموش ہو جاؤ، تو اس کا جمعہ نہیں۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1397]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (1/ 230 ح 2033)
٭ فيه مجالد بن سعيد: ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَجِبُ السِّوَاكُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، بِرِوَايَةِ مَالِكٍ)
جمعہ کے دن مسواک ضرور کرنی چاہیے، بروایت مالک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1398
1398 - (وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا فَاغْتَسِلُوا، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طِيبٌ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ يَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ) . (رَوَاهُ مَالِكٌ، وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهُ) .
عبید بن سباق رحمہ اللہ مرسل روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی جمعہ میں فرمایا: ”مسلمانو! اللہ نے اس دن کو عید قرار دیا ہے۔ پس تم اچھی طرح غسل کرو اور جس شخص کے پاس خوشبو ہو تو وہ اسے لگا لے، اس کے لیے کوئی مضائقہ نہیں اور مسواک کرو۔“ حسن، اسے مالک اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1398]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (65/1 ح 141) [وابن ماجه (1098) انظر الحديث الآتي]
٭ رواه عبيد بن السباق عن ابن عباس رضي الله عنه به، انظر الحديث الآتي (1399)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَجِبُ السِّوَاكُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، بِرِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهَ)
جمعہ کے دن مسواک ضرور کرنی چاہیے، بروایت ابن ماجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1399
1399 - (وَهُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُتَّصِلًا) .
اور یہی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصل مروی ہے۔ یہ حدیث حسن ہے، اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1399]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (1098)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَضْعُ الطِّيبِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جَائِزٌ)
جمعہ کے دن خوشبو لگانا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1400
1400 - (وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"حَقًّا عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلْيَمَسَّ أَحَدُهُمْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالْمَاءُ لَهُ طِيبٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں پر حق ہے کہ وہ جمعہ کے روز غسل کریں اور ان میں سے ہر کوئی اپنے اہل خانہ کی خوشبو استعمال کرے، اور اگر وہ خوشبو نہ پائے تو پھر اس کے لیے پانی ہی خوشبو ہے۔“ احمد اور ترمذی رحمہما اللہ، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے، ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (282/4 ح 18680) و الترمذي (528)
٭ فيه يزيد بن أبي زياد ضعيف مدلس.»
قال الشيخ الألباني: حَسَنٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ وَقْتِ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ)
نماز جمعہ کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401
[ 45 ] بَابُ الْخُطْبَةِ وَالصَّلَاةِ"الْفَصْلُ الْأَوَّلُ" 1401 - (عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ”زوالِ آفتاب کے وقت جمعہ پڑھا کرتے تھے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1401]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (904)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَجِبُ الاسْتِعْدَادُ لِلْجُمُعَةِ عِوَضًا عَنِ النَّوْمِ وَالطَّعَامِ)
سونے اور کھانے کی بجائے جمعہ کی تیاری کرنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1402
1402 - (وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَا كُنَّا نُقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جمعہ سے پہلے نہ قیلولہ کرتے تھے اور نہ کھانا کھاتے تھے۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (939) و مسلم (859/30)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأْخِيرُ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْجُمُعَةِ فِي الصَّيْفِ سُنَّةٌ)
گرمیوں میں ظہر اور جمعہ کی نماز دیر سے پڑھنا سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1403
[ ص: 1041 ] 1403 - (وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي الْجُمُعَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) .
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب سردی زیادہ ہوتی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز (جمعہ) جلدی پڑھ لیتے اور جب گرمی زیادہ ہوتی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز (جمعہ) ٹھنڈے وقت میں پڑھتے تھے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (906)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں