🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (حُسْنُ سُلُوكِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان میں حسن سلوک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1966
1966 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ أَطْلَقَ كُلَّ أَسِيرٍ وَأَعْطَى كُلَّ سَائِلٍ  .
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب ماہ رمضان آتا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر قیدی کو آزاد فرما دیتے اور ہر سائل کو عطا کیا کرتے تھے۔ اسنادہ ضعیف جداً۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (3629)
٭ فيه أبو بکر الھذلي: متروک.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَزْيِينُ الْجَنَّةِ عِنْدَ دُخُولِ رَمَضَانَ)
رمضان کے آنے پر جنت کو سجایا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1967
1967 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ  مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى حَوْلِ قَابِلٍ"قَالَ:"فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرَّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا وَتَقَرَّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا"رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کو رمضان کے لیے پورا سال مزین کیا جاتا ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے جنت کے پتوں سے ہوا چلتی ہوئی حورِ عین تک پہنچتی ہے تو وہ کہتی ہیں: رب جی! اپنے بندوں میں سے ہمارے شوہر بنا دے، ہم ان سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1967]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (3633)
٭ فيه وليد بن وليد: مختلف فيه و ضعفه راجح و للحديث شواھد کثيرة لا يصح منھا شئ.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِعْطَاءُ صَاحِبِ الصِّيَامِ أَجْرًا كَامِلًا فِي آخِرِ رَمَضَانَ)
رمضان کے آخر میں روزے دار کو پورا ثواب دے دیا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1968
1968 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: يُغْفَرُ لِأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ  ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ:"لَا، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رمضان کی آخری رات ان کی (یعنی میری) امت کو بخش دیا جاتا ہے۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا وہ شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں، لیکن جب کام کرنے والا اپنا کام مکمل کر لیتا ہے تو اسے پورا پورا اجر دیا جاتا ہے۔ اسنادہ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1968]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (292/2 ح 7904)
٭ فيه هشام بن أبي هشام: متروک، رواه عن محمد بن الأسود عن أبي سلمة عن أبي ھريرة به.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صِيَامُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ وَاكْمَالُ عَدِّ الشَّهْرِ)
چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور مہینے کی گنتی پورا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1969
[ ص: 1372 ] بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1969 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ  ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ"، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ:"الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو اور روزہ رکھنا موقوف نہ کرو حتیٰ کہ تم اس (ہلال شوال) کو دیکھ لو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو اس کے لیے (تیس دن کا) اندازہ کر لو۔ اور ایک روایت میں ہے، فرمایا: ماہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، تم روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ تم اس (ہلال رمضان) کو دیکھ لو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو پھر تیس کی گنتی مکمل کر لو۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1969]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1906. 1907) و ممسلم (1080/3)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِنْ كَانَتِ السَّحَابُ غَالِبَةً فَأَكْمِلْ ثَلَاثِينَ يَوْمًا فِي شَعْبَانَ)
اگر اَبر چھایا ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1970
1970 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ  ، فَإِنْ غُمَّ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس (ہلالِ رمضان) کی رؤیت پر روزہ رکھو اور اس (ہلالِ شوال) کی رؤیت پر روزہ رکھنا موقوف کر دو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو پھر شعبان کی گنتی تیس تک مکمل کر لو۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1909) و مسلم (17. 1081/20)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الشَّهْرُ يَكُونُ أَحْيَانًا تِسْعَةً وَعِشْرِينَ وَأَحْيَانًا ثَلَاثِينَ)
مہینہ کبھی ۲۹ اور کبھی ۳۰ دن کا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1971
1971 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ  لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، ثُمَّ قَالَ: الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تَمَامَ الثَّلَاثِينَ يَعْنِي مَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک ہم اُمّی (لکھنے پڑھنے سے نابلد) لوگ ہیں، ہم حساب کتاب نہیں جانتے، مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کو بند کر لیا، پھر فرمایا: مہینہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔ یعنی مکمل تیس، یعنی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مرتبہ انتیس اور ایک مرتبہ تیس کا ذکر کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1913) و مسلم (1081/15)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذِكْرُ أَشْهُرِ الْعِيدِ)
عید کے مہینوں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1972
1972 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عید کے دو مہینے، رمضان اور ذوالحجہ، کم نہیں ہوتے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1972]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1912) و مسلم (1089/31)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا تَجْمَعْ شَعْبَانَ مَعَ رَمَضَانَ)
شعبان کو رمضان کے ساتھ نہ ملاؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1973
1973 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ  إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے، البتہ اگر کوئی شخص معمول سے روزے رکھتا چلا آ رہا ہے تو وہ اس روز روزہ رکھ لے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1914) و مسلم (1082/21)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الصِّيَامِ النَّفَلِيِّ بَعْدَ نِصْفِ شَهْرِ شَعْبَانَ)
شعبان کا آدھا مہینہ گزرنے کے بعد نفلی روزے منع ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1974
(الْفَصْلُ الثَّانِي) 1974 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے تو پھر روزہ نہ رکھو۔ صحیح، رواہ ابوداؤد، والترمذی، وابن ماجہ، والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1974]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2237) و الترمذي (738 وقال: حسن صحيح .) و ابن ماجه (1651) والدارمي (17/2. 18 ح 1747)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَكْمِلْ عَدَّ شَعْبَانَ لِلرَّمَضَانِ)
رمضان کے لیے شعبان کی گنتی پوری کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1975
1975 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رمضان کی خاطر شعبان کے چاند (ایام) کی گنتی کرو۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (687)
٭ أبو معاوية مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں