مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءُ الْأَنْبِيَاءِ مُسْتَجَابٌ)
انبیاء کی دعا مستجاب ہے
حدیث نمبر: 2223
[ 9 ] - كِتَابُ الدَّعَوَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلِ 2223 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقَامَةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَلِلْبُخَارِيِّ أَقْصَرُ مِنْهُ) ..
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی (اپنی امت کے بارے میں) ایک دعا قبول ہوتی ہے، پس ہر نبی نے دعا کرنے میں جلدی کی، جبکہ میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے روز قیامت کے لیے چھپا رکھا ہے، اور وہ (شفاعت) ان شاء اللہ ہر اس شخص کو پہنچے گی جو اس حال میں فوت ہوا ہو گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا۔“ مسلم، اور بخاری کی روایت اس سے مختصر ہے۔ متفق علیہ، رواہ مسلم، والبخاری (6304)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (338/ 199) و البخاري (6304)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ دُعَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 2224
2224 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ، لَعَنْتُهُ، جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں نے تجھ سے ایک عہد لیا ہے بے شک جس کا تو خلاف نہیں کرے گا، میں بھی ایک انسان ہوں، میں نے جس کسی مومن کو اذیت پہنچائی ہو، میں نے اسے برا بھلا کہا ہو، لعن طعن کی ہو، اسے مارا ہو تو اس (اذیت) کو اس کے لیے باعثِ رحمت و طہارت اور باعثِ قربت بنا دے اور روزِ قیامت اس قربت کی وجہ سے تو اسے اپنا مقرب بنا لے۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (6361) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه لبخاري (6361) و مسلم (90 /2601)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ أَنَّ الدُّعَاءَ يُطْلَبُ بِحُضُورِ الْقَلْبِ وَالثَّبَاتِ)
دعا میں دلجمعی اور پختگی کا بیان
حدیث نمبر: 2225
2225 - وَعَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، وَلِيَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، لَا مُكْرِهَ لَهُ" (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ» ”اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے“، «اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ» ”اگر تُو چاہے تو مجھ پر رحم فرما“، «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ» ”اگر تُو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما“، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ پورے عزم کے ساتھ دعا کرے، کیونکہ وہ جیسے چاہے کرتا ہے، اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔“ [رواہ البخاری: 7477] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (7477)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (يَجِبُ أَنْ يُدْعَى الدُّعَاءُ بِلَا شَكٍّ وَمَعَ الْيَقِينِ)
دعا بغیر کسی شک کے یقین کے ساتھ مانگی جائے
حدیث نمبر: 2226
2226 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ، وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ» ”اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے“، بلکہ اسے پختہ عزم کے ساتھ اور بڑی رغبت کے ساتھ دعا کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی چیز کا عطا کرنا اللہ کے لیے کوئی گراں نہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2679/8)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُعَاءُ قَاطِعِ الرَّحِمِ غَيْرُ مَقْبُولٍ)
قطع تعلقی کرنے والے کی دعا قبول نہیں
حدیث نمبر: 2227
2227 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ. قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ، فَلَمْ أَرَ يُسْتَجَابُ لِي، فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعَاءَ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب تک کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کرے اس کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلد بازی نہ کرے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کہتا ہے: میں تو بہت دعائیں کر چکا لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی، اس صورت حال میں وہ مایوس ہو جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔“ (رواہ مسلم والبخاری: 6340) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2227]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2735/92) [وانظر صحيح البخاري (6340) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْأَخِ الْمُسْلِمِ فِي غَيْبَتِهِ)
مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں کی جانے والی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 2228
2228 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ، كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان شخص کی اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے وہ دعا قبول ہوتی ہے جو اس کی غیر موجودگی میں کی جاتی ہے، اور (دعا کرنے والے) کے پاس ایک فرشتہ مامور ہوتا ہے، جب وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو وہ مامور فرشتہ «آمِينَ» ”آمین“ کہتا ہے اور کہتا ہے: «وَلَكَ بِمِثْلٍ» ”اسی مثل تمہارے لیے بھی ہو۔““ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2733/88)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ مَنْعِ الدُّعَاءِ عَلَى مَنْ تَحْتَ سُلْطَتِكَ)
اپنے ماتحت افراد پر بددعا کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2229
2229 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءً فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) . وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ:"اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ"فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد اور اپنے اموال کے لیے بددعا نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایسی گھڑی میں اللہ سے دعا کر بیٹھو جس میں دعا قبول ہو جاتی ہے۔“ رواہ مسلم۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث: ”مظلوم کی بددعا سے بچو“ کتاب الزکاۃ میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (3009/74)
حديث ابن عباس تقدم (1772)»
حديث ابن عباس تقدم (1772)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ أَنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ)
اس چیز کا بیان کہ دعا ہی عبادت ہے
حدیث نمبر: 2230
(الْفَصْلُ الثَّانِي) 2230 - عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ"ثُمَّ قَرَأَ: (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ» ”دعا ہی عبادت ہے“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورة غافر: 60] ”تمہارے رب نے فرمایا: مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا“۔ صحیح، رواہ احمد (4 / 267 ح 18542، 276 ح 18623) والترمذی (2969) وابوداؤد (1479) والنسائی (فی الکبری: 11464) وابن ماجہ (3828) وصححہ ابن حبان (2396) والحاکم (1 / 490، 491)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2230]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (267/4 ح 18542، 276/4 ح 18623) و أبو داود (1479) والترمذي (2969 وقال: حسن صحيح) و النسائي (في الکبري: 11464) و ابن ماجه (3828) [و صححه ابن حبان (الموارد: 2396) والحاکم (490/1. 491) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ)
دعا عبادت کا مغز ہے
حدیث نمبر: 2231
2231 - وَعَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ" (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ) .
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ» ”دعا عبادت کا مغز ہے۔“ اسناد ضعیف، رواہ الترمذی (3371) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3371 وقال: غريب)
٭ ابن لھيعة مدلس و عنعن .»
٭ ابن لھيعة مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (لَا شَيْءَ أَعْظَمُ مِنَ الدُّعَاءِ)
دعا سے زیادہ مرتبہ والی کوئی چیز نہیں
حدیث نمبر: 2232
2232 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں دعا سے بہتر کوئی چیز نہیں۔“ (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی (۳۳۷۰) و ابن ماجہ (۳۸۲۹)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2232]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3370) وابن ماجه (3829)
٭ قتادة مدلس و عنعن .»
٭ قتادة مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف