🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَثَلُ مَنْ يَذْكُرُ اللّٰهَ وَمَنْ لَا يَذْكُرُهُ كَمَثَلِ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ)
اللہ کو یاد کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ سی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2263
2263 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ، وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ" (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے وہ زندہ کی طرح ہے اور وہ شخص جو ذکر نہیں کرتا مردہ کی طرح ہے۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (6407) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2263]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6407) و مسلم (779/211)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَنْبَغِي أَنْ يُرْجَى قَبُولُ الدُّعَاءِ مِنَ اللّٰهِ)
اللہ سے دعا کی قبولیت کی امید رکھنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2264
2264 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي  ، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ." (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر (فرشتوں کی) جماعت میں یاد کرتا ہوں۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (7405) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7405) و مسلم (2675/2)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضْلُ ذِكْرِ اللّٰهِ وَبَيَانُ رَحْمَةِ اللّٰهِ)
ذکر الہٰی کی فضیلت اور رحمت الہٰی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
2265 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:"مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، وَأَزِيدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاءُهُ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ  ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے دس گنا ثواب ہے﴾ [سورة الأنعام: 160] اور میں اسے بڑھا دوں گا، اور ﴿جو شخص برائی لے کر آئے گا تو برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہو گا﴾ [سورة الأنعام: 160] یا پھر میں بخش دوں گا، جو شخص بالشت برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ (تقریباً ایک میٹر) اس کے قریب ہو جاتا ہوں، اور جو شخص ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں، جو شخص چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔ جو شخص زمین بھر کر گناہ لے کر میرے پاس آئے گا تو میں اسی قدر مغفرت لے کر اس سے ملاقات کروں گا بشرطیکہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (22/ 2687)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الذِّكْرُ الْأَصْلِيُّ هُوَ الْمُحَافَظَةُ عَلَى الْفَرَائِضِ)
اصل ذکر فرائض کی پابندی کا نام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2266
2266 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ:"مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ  ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مُسَاءَتَهُ، وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ" (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو شخص میرے کسی پسندیدہ شخص سے دشمنی رکھے تو میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے، اور میرا بندہ جن جن عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے وہ عبادت مجھے بہت محبوب ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر وہ مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو میں اسے عطا کر دیتا ہوں، اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دے دیتا ہوں، میں نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس کے کرنے میں مجھے کبھی اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کسی مومن کی جان قبض کرتے وقت تردد ہوتا ہے، وہ موت کو ناگوار جانتا ہے اور میں اس کی ایذا کو ناگوار جانتا ہوں، حالانکہ وہ (موت) تو اسے ضرور آنی ہے۔““ رواہ البخاری (6502)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2266]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6502)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَجَالِسُ ذِكْرِ اللّٰهِ سَبَبٌ لِنُزُولِ الْمَلَائِكَةِ)
ذکر الہٰی کی مجلس فرشتوں کے نزول کا باعث ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2267
2267 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ  ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ": قَالَ:"فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا"قَالَ:"فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ قَالَ:"يَقُولُونَ: يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيُحَمِّدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ"قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ قَالَ:"فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟"قَالَ: فَيَقُولُونَ:"لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً، وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا، وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا"قَالَ: فَيَقُولُ فَمَا يَسْأَلُونَ؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، قَالَ:"يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا قَالَ:"فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟"قَالَ":"يَقُولُونَ: لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً. قَالَ: فَمِمَّ يَعُوذُونَ؟"قَالَ:"يَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ"قَالَ:"يَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟"قَالَ:"يَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا؟"قَالَ:"يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا، وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً"قَالَ: فَيَقُولُ:"فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ". قَالَ:"يَقُولُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ، إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ. قَالَ: هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ" (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) . وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ، قَالَ:"إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضْلًا يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ، حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ، وَهُوَ أَعْلَمُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادِكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيُهَلِّلُونَكَ، وَيُمَجِّدُونَكَ، وَيَحْمَدُونَكَ، وَيَسْأَلُونَكَ. قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ. قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: لَا، أَيْ رَبِّ قَالَ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُونَكَ. قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ. قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: يَسْتَغْفِرُونَكَ"قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا، وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا قَالَ: يَقُولُونَ: رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ، وَإِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ. قَالَ: فَيَقُولُ: وَلَهُ غَفَرْتُ، هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو اہل ذکر کو تلاش کرتے ہوئے راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں، جب وہ کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پا لیتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں: اپنے مقصد (اہل ذکر) کی طرف آؤ۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے پروں کے ذریعے انہیں گھیر لیتے ہیں اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ان کا رب ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ انہیں بہتر جانتا ہے: میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: وہ عرض کرتے ہیں: وہ تیری تسبیح و تکبیر اور تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ فرمایا: وہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو پھر ان کی کیفیت کیسی ہو؟ فرمایا: وہ عرض کرتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو وہ تیری خوب عبادت کریں، خوب شان و عظمت بیان کریں اور تیری بہت زیادہ تسبیح بیان کریں۔ فرمایا: وہ پوچھتا ہے: وہ (مجھ سے) کیا مانگ رہے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں: وہ تجھ سے جنت مانگ رہے ہیں۔ فرمایا: وہ پوچھتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ تو وہ عرض کرتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب! انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ فرمایا: وہ پوچھتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو؟ فرمایا: وہ عرض کرتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس کی بہت زیادہ خواہش، چاہت اور رغبت رکھیں۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ طلب کرتے ہیں؟ فرمایا: وہ عرض کرتے ہیں: جہنم سے۔ فرمایا: وہ پوچھتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرمایا: وہ عرض کرتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب! انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ فرمایا: وہ پوچھتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو؟ فرمایا: وہ عرض کرتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس سے بہت دور بھاگیں اور اس سے بہت زیادہ ڈریں گے۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ایک فرشتہ عرض کرتا ہے: ان میں فلاں شخص ایسا ہے جو کہ ان (یعنی اہل ذکر) میں سے نہیں، وہ تو کسی ضرورت کے تحت آیا تھا، فرمایا: وہ ایسے بیٹھنے والے ہیں کہ ان کا ہم نشین محروم نہیں رہ سکتا۔“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کے کچھ فاضل فرشتے ہیں جو چکر لگاتے رہتے ہیں اور وہ ذکر کی مجالس تلاش کرتے ہیں، جب وہ ذکر کی کوئی مجلس پا لیتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، اور اپنے پروں کے ذریعے انہیں گھیر لیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان (ذاکرین) کے اور آسمان دنیا کے مابین خلا کو بھر دیتے ہیں، جب وہ (ذاکرین) مجلس سے اٹھ جاتے ہیں، تو وہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔“ فرمایا: ”تو اللہ ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ (ان کے احوال کو) جانتا ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم زمین سے تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح و تکبیر اور تہلیل و تحمید بیان کرتے ہیں اور تجھ سے مانگتے ہیں۔ فرمایا: وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں: وہ تجھ سے تیری جنت مانگتے ہیں۔ فرمایا: کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: اے رب! نہیں، فرمایا: اگر وہ میری جنت دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: وہ تجھ سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ فرمایا: وہ مجھ سے کس چیز سے پناہ طلب کر رہے تھے؟ وہ عرض کرتے ہیں: تیری جہنم سے، فرمایا: کیا انہوں نے میری جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں، فرمایا: اگر وہ میری جہنم کو دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: وہ تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے انہیں بخش دیا، انہوں نے جو مانگا میں نے دے دیا اور انہوں نے جس چیز سے پناہ طلب کی، میں نے انہیں اس سے پناہ دے دی۔ فرمایا: وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں: رب جی! ان میں ایک ایسا گناہ گار شخص ہے کہ بس وہ گزر رہا تھا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ فرمایا: اللہ رب العزت کہتے ہیں: میں نے اسے بھی بخش دیا، وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشین محروم نہیں رہ سکتا۔“ رواہ البخاری (6408) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2267]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6408) و مسلم (2689/25)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الِاسْتِمْرَارُ فِي ذِكْرِ اللّٰهِ سَبَبٌ لِقُرْبِ الْمَلَائِكَةِ)
اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہنا فرشتوں کی قربت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2268
2268 - وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيعِ الْأُسَيْدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ. قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ؟! قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ، نَسِينَا كَثِيرًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (وَمَا ذَاكَ؟) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيَ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ! سَاعَةٌ وَسَاعَةٌ"ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
حنظلہ بن ربیع اُسیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انہوں نے پوچھا: حنظلہ! کیسے ہو؟ میں نے عرض کیا: حنظلہ منافق ہو گیا، انہوں نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہوتے ہیں، وہ جہنم اور جنت (کی ترہیب و ترغیب) کے ذریعے ہمیں نصیحت کرتے رہتے ہیں، گویا ہم خود دیکھ رہے ہیں، اور جب ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے آ جاتے ہیں اور ازواج و اولاد اور ذرائع معاش میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہماری بھی یہی صورتحال ہے۔ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہما چلتے گئے حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو آپ جنت و دوزخ کے ذریعے ہمیں نصیحت فرماتے ہیں گویا ہم اسے خود آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اور جب ہم آپ کے پاس سے آ جاتے ہیں، اور اپنے مال بچوں اور ذرائع معاش میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہاری جو کیفیت میرے پاس ہوتی ہے اور تم ذکر کی جس صورت میں ہوتے ہو، اگر تمہاری وہ کیفیت ہمیشہ رہے تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں“۔ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”لیکن حنظلہ! کسی وقت ایسے اور کسی وقت ایسے (ہوتا ہے)“۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2268]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2750)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذِكْرُ اللّٰهِ أَفْضَلُ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ)
اللہ کا ذکر جہاد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2269
[ الْفَصْلُ الثَّانِي ] 2269 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ وَخَيْرٍ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ"قَالُوا: بَلَى. قَالَ"ذِكْرُ اللَّهِ) رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقَفَهُ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جو کہ تمہارے مالک کے ہاں اجر کے لحاظ سے زیادہ بڑھنے والا، تمہارے بلند درجات کا باعث بننے والا، تمہارے لیے سونے اور چاندی کے خرچ کرنے سے بہتر اور تمہارے لیے دشمن سے ایسا جہاد کرنے سے بہتر ہو جس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاؤ؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں! ضرور بتائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا ذکر۔“ مالک، احمد، ترمذی اور ابن ماجہ۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ نے اسے ابودرداء رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے۔ اسنادہ حسن (رواہ مالک (1 / 211 ح 493) و احمد (6 / 447 ح 28075، 5 / 195) و الترمذی (3377) و ابن ماجہ (3790)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2269]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه مالک (211/1 ح 493 موقوف) و أحمد (447/6ح 28075، 195/5) والترمذي (3377) و ابن ماجه (3790)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَفْضَلُ الْعَمَلِ أَنْ تَكُونَ اللِّسَانُ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ)
بہترین عمل زبان کا ذکر الہٰی سے تر رہنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2270
2270 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ:"طُوبَى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ"قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"أَنْ تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ" (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ) .
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک اعرابی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل اچھا ہو۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل بہتر ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مرتے وقت تیری زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد (4/188 ح 17832) و الترمذی (2329، 3375)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2270]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (188/4 ح 17832) و الترمذي (2329، 3375 وقال: حسن)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَجَالِسُ الذِّكْرِ رِيَاضُ الْجَنَّةِ)
ذکر کی مجلس جنت کا باغ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2271
2271 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا"قَالُوا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ:"حِلَقُ الذِّكْرِ" (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ) .
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم باغاتِ جنت کے پاس سے گزرو تو وہاں سے کھا لیا کرو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: باغاتِ جنت کیا ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی: 3510۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2271]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3510 وقال: حسن غريب)
٭ فيه محمد بن ثابت: ضعيف و للحديث شواھد کلھا ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ ذِكْرِ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبَبُ الْحَسْرَةِ)
اللہ کا ذکر نہ کرنا روز قیامت باعث حسرت ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2272
2272 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) :"مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ  ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی جگہ بیٹھے اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کرے تو اس پر اللہ کی طرف سے نقصان ہوگا، اور جو شخص کسی جگہ لیٹے اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کرے تو اس پر اللہ کی طرف سے نقصان ہوگا۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد (4856)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2272]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4856)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں