🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ بَنَاتِهِ هَذَا الدُّعَاءَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں کو یہ دعا سکھاتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2393
2393 - وَعَنْ بَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ: (قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ  ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ حَتَّى يُصْبِحَ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی لخت جگر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں دعا سکھایا کرتے تھے، آپ فرماتے: ”جب تم صبح کرو تو یہ دعا پڑھو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، مَا شَاءَ اللّٰهُ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، أَعْلَمُ أَنَّ اللّٰهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» ”پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ، سارے کام اللہ کی توفیق سے ہوتے ہیں، جو اللہ چاہے وہ ہوتا ہے، اور جو نہ چاہے، نہیں ہوتا۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور بے شک اللہ نے علم کے ذریعے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔“ جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے تو وہ شام تک محفوظ رہتا ہے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہے تو وہ صبح ہونے تک محفوظ رہتا ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2393]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5075)
٭ سالم الفراء و عبد الحميد مولي بني هاشم: مستوران لم يوثقھما غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (آيَاتٌ تُقْرَأُ صَبَاحًا وَمَسَاءً)
صبح و شام پڑھنے والی آیات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2394
2394 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ (فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ  ، وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ) إِلَى قَوْلِهِ وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ، أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي لَيْلَتِهِ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یہ آیات پڑھے: «فَسُبْحَانَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ﴿۱۷﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِيًّا وَّحِيْن تُظْهِرُوْنَ ﴿۱۸﴾ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ» ﴿سورة الروم: 17-19﴾ ”پس تم اللہ کی تسبیح بیان کرو جب شام ہو اور جس وقت صبح ہو، اور آسمانوں اور زمین میں اس کی حمد ہے، اور اس کی تسبیح کرو تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو، وہ جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے، اور بے جان کو جاندار سے باہر لاتا ہے، اور زمین کو اس کے مردہ اور خشک ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور اسی طرح تم بھی اسی کی طرف نکالے جاؤ گے۔“ تو اس روز جو اس سے نیک عمل چھوٹ گیا ہو گا وہ ان کلمات کے کہنے سے پا لے گا، اور جو شخص یہ کلمات شام کے وقت کہے گا تو اس سے جو عمل اس رات میں رہ جائے گا تو وہ ان کلمات کے ذریعے ان کا تدارک کر لے گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5076)
٭ سعيد بن بشير النجاري: مجھول، و محمد بن عبد الرحمٰن بن البيلماني: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابٌ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ بِهَذَا الوِرْدِ)
مذکورہ وظیفے سے غلام کو آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2395
2395 - وَعَنْ أَبِي عَيَّاشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ  لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَ لَهُ عَدْلُ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ) فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا يَرَى النَّائِمُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يُحَدِّثُ عَنْكَ بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: (صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوعیاش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یہ دعا «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پڑھتا ہے، تو اس کے لیے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اس سے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں اور پورا دن شام ہونے تک اس کے لیے شیطان سے بچاؤ اور تحفظ ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ انہیں شام کے وقت پڑھے تو بھی اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے حتیٰ کہ وہ صبح کرے۔“ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے اس طرح حدیث بیان کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ابوعیاش نے سچ کہا۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (5077) و ابن ماجه (3867)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (البَرَكَةُ فِي قِرَاءَةِ هَذَا الدُّعَاءِ وَالخَلَاصُ مِنَ النَّارِ)
مذکورہ دعا پڑھنے کی برکت سے آگ سے خلاصی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2396
2396 - وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهِ، فَقَالَ: (إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ ; فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جَوَازٌ مِنْهَا، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ كَذَلِكَ فَإِنَّكَ إِذَا مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جَوَازٌ مِنْهَا) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
حارث بن مسلم تمیمی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آہستگی سے ان سے فرمایا: ”جب تم نمازِ مغرب سے فارغ ہو جاؤ تو کسی سے بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ دعا پڑھو: «اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! مجھے آگ سے بچا لے۔“ اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات فوت ہو جاؤ تو تمہارے لیے اس (آگ) سے خلاصی لکھ دی جائے گی۔ اور جب تم نمازِ صبح پڑھو تو اسی طرح کہو، اگر تم اسی دن فوت ہو گئے تو تمہارے لیے اس (آگ) سے خلاصی لکھ دی جائے گی۔“ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2396]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (5079. 5080)
٭ الحارث بن مسلم: حسن الحديث علي الراجح و ما قيل في جھالته فليس بجيد .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الدُّعَاءَ)
یہ دعا پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑا نہیں کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2397
2397 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَعُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ  فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدِي وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي يَعْنِي الْخَسْفَ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح و شام یہ کلمات ضرور پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا اور اپنے اہل و عیال اور مال میں معافی اور عافیت کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! میری پردے والی باتوں پر پردہ ڈال اور میرے خوف و ہراس کو امن میں بدل دے، اے اللہ! تو میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں اس بات سے کہ میں ناگہاں اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں، تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ (وکیع نے کہا) یعنی زمین میں دھنسایا جاؤں۔ (اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2397]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (5074) [و ابن ماجه (3871) والنسائي (282/8 ح 5531، 5532 مختصرًا) وصححه ابن حبان (2356) والحاکم (517/1. 518) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَغْفِرُ هَذِهِ الكَلِمَاتُ الذُّنُوبَ)
یہ کلمات پڑھنے سے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کر دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2398
2398 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ أَصْبَحْنَا نُشْهِدُكَ وَنُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ  وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَهُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِنْ ذَنْبٍ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یہ دعا: «اللَّهُمَّ إِنَّا أَصْبَحْنَا نُشْهِدُكَ وَنُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» ”اے اللہ! ہم نے صبح کی، ہم تجھے، تیرے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں، تیرے باقی فرشتوں اور تیری تمام مخلوق کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اور بے شک محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“ پڑھتا ہے تو اس روز اس سے جو گناہ سرزد ہو گا تو اللہ اسے معاف فرما دے گا، اور اگر وہ یہ کلمات شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جو گناہ سرزد ہو گا، اللہ اسے معاف فرما دے گا۔“ ترمذی، ابوداؤد، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3501) وأبو داود (5078)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وِرْدُ الصَّبَاحِ وَالمَسَاءِ)
صبح و شام پڑھنے والا وظیفہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2399
2399 - وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى وَإِذَا أَصْبَحَ ثَلَاثًا رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا  وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان آدمی صبح و شام تین مرتبہ کہتا ہے: «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» ”میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔“ تو پھر اللہ پر حق ہے کہ وہ روزِ قیامت اس (شخص) کو راضی کرے۔“ صحیح، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2399]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (لم أجده) والترمذي (3389 وقال: حسن غريب) و له شاھد عند أبي داود (5072) و ابن ماجه (3870) وغيرهما .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءٌ مَسْنُونٌ عِنْدَ النَّوْمِ)
سوتے وقت کی مسنون دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2400
2400 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ: (اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ  يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» ”اے اللہ! جس روز تو اپنے بندوں کو جمع کرے یا تو اپنے بندوں کو (قبروں سے) اٹھائے تو مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔“ صحیح، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2400]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3398 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءٌ مَسْنُونٌ عِنْدَ النَّوْمِ، رِوَايَةُ أَحْمَد)
سوتے وقت کی مسنون دعا، بروایت احمد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2401
2401 - وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ الْبَرَاءِ.
اور امام احمد رحمہ اللہ نے براء رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے، یہ صحیح ہے، «رَوَاهُ أَحْمَدُ» ”اسے امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2401]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (281/4 ح 18664 مختصرًا) والحديث السابق (2400) شاھد له .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الطَّرِيقَةُ المَسْنُونَةُ فِي النَّوْمِ)
سونے کا مسنون طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2402
2402 - وَعَنْ حَفْصَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُولُ: (اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ  يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور تین بار یہ دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» ”اے اللہ! تو جس روز اپنے بندوں کو اٹھائے گا اس روز مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2402]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5045)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں