مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءُ الحِفَاظِ مِنْ شَرِّ الدَّوَابِّ)
موذی جانور کے شر سے بچنے کی دعا
حدیث نمبر: 2423
2423 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ: قَالَ: (أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! گزشتہ رات بچھو کے کاٹنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سن لو! اگر تم نے شام کے وقت یوں کہا ہوتا: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے، اس چیز کے شر سے، جو اس نے پیدا فرمائی، پناہ چاہتا ہوں“ تو وہ تمہیں نقصان نہ پہنچاتا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2709/55)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (حَمْدُ اللَّهِ عِنْدَ السَّحَرِ فِي السَّفَرِ)
سفر کی حالت میں سحری کے وقت اللہ کی تعریف کرنا
حدیث نمبر: 2424
2424 - وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ : (سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور سحری کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللهِ مِنَ النَّارِ» ”سننے والے نے سن لیا کہ ہم نے اللہ کی حمد بیان کی، اس کی نعمتیں ہم پر اچھی ہیں، ہمارے رب! ہماری اعانت فرما، اور ہم پر مزید احسانات فرما، ہم جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2718/68)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُعَاءُ العَوْدِ مِنَ الجِهَادِ أَوِ العُمْرَةِ)
جہاد یا عمرہ سے واپس لوٹتے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 2425
2425 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ : (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس تشریف لاتے تو آپ ہر بلند جگہ پر تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر فرماتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، سجدہ کرنے والے، اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1797) و مسلم (1344/428)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الدُّعَاءُ عَلَى المُشْرِكِينَ)
مشرکین کے خلاف بددعا
حدیث نمبر: 2426
2426 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: (اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر مشرکین کے خلاف دعا کی تو عرض کیا: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» ”اے اللہ! کتاب اتارنے والے، جلد حساب لینے والے، اے اللہ! لشکروں کو شکست دے، اے اللہ! انہیں خوب شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2933) و مسلم (1742/21)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (دُعَاءُ الضَّيْفِ لِلْمُضِيفِ بَعْدَ الطَّعَامِ)
کھانے کے بعد میزبان کے لئے دعا
حدیث نمبر: 2427
2427 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً، فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ، فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ: ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ) . (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
عبداللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے تو ہم نے کھانا اور کھجور، گھی اور پنیر سے تیار کردہ حلوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے تناول فرمایا، پھر کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کھاتے اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان پھینکتے جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی اکٹھی کرتے تھے، اور ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں، انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کی پشت پر پھینک رہے تھے، پھر پانی پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، پھر میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑتے ہوئے عرض کیا: ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! تو نے جو کچھ انہیں عطا کیا ہے اس میں برکت فرما، ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔“ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2427]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2042/146)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُعَاءُ رُؤْيَةِ القَمَرِ)
چاند دیکھتے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 2428
(الْفَصْلُ الثَّانِي) 2428 - عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ : (اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چاند دیکھتے تو آپ یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّيْ وَرَبُّكَ اللّٰهُ» ”اے اللہ! تو اسے امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے“ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2428]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3451)
٭ سليمان بن سفيان المديني: ضعيف، و بلال بن يحيي بن طلحة: لين و للحديث شواھد ضعيفة .»
٭ سليمان بن سفيان المديني: ضعيف، و بلال بن يحيي بن طلحة: لين و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ المُبْتَلَى)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھنی چاہئے
حدیث نمبر: 2429
2429 - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (مَا مِنْ رَجُلٍ رَأَى مُبْتَلًى فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانَا مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا إِلَّا لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلَاءُ كَائِنًا مَا كَانَ) .. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عمر بن خطاب اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا ہے، اور اس نے مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر بہت زیادہ فضیلت دی“ تو اسے وہ مصیبت و بیماری نہیں پہنچے گی خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2429]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3431 وقال: غريب) وسنده ضعيف، فيه عمرو بن دينار قھرمان آل الزبير ضعيف و روي البزار (البحر الزخار 12/ 185 ح 5838) بسند حسن و الطبراني (الأوسط: 5320) عن ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ: ’’من رأي مصابًا فقال: الحمد للّٰه الذي عافاني مما ابتلاک به و فضلني علي کثير ممن خلق تفضيلا، لم يصبه ذلک البلاء أبدًا .‘‘ و حسنه ابن القطان الفاسي في أحکام النظر (ص 421)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ المُبْتَلَى، رِوَايَةُ التِّرْمِذِي)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھنی چاہئے، بروایت ترمذی
حدیث نمبر: 2430
2430 - (وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الرَّاوِي لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور عمرو بن دینار راوی قوی نہیں۔ حسن، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2430]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (3892)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (دُخُولُ السُّوقِ وَالدُّعَاءُ فِيهِ)
بازار میں داخل ہونے کی دعا
حدیث نمبر: 2431
2431 - وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (مَنْ دَخَلَ السُّوقَ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفَ سَيِّئَةٍ، وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفَ دَرَجَةٍ، وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ"مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ جَامِعٍ يُبَاعُ فِيهِ"بَدَلَ مَنْ دَخَلَ السُّوقَ.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور حمد ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں، ہر قسم کی خیر و بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ لیتا ہے، اس کی دس لاکھ خطائیں معاف کر دیتا ہے، اس کے دس لاکھ درجات بلند کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“ ترمذی، ابن ماجہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اور شرح السنہ میں ”جو شخص بازار میں جائے“ کے الفاظ کے بجائے ”جس نے کسی بڑے تجارتی مرکز میں یہ دعا پڑھی۔“ کے الفاظ ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی وابن ماجہ وشرح السنۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2431]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3428) و ابن ماجه (2235) والبغوي في شرح السنة (132/5 ح 1338)
٭ فيه عمرو بن دينار قھرمان آل الزبير: ضعيف و للحديث شواھد ضعيفة و أخطأ من صححه بتلک الشواھد الضعيفة .»
٭ فيه عمرو بن دينار قھرمان آل الزبير: ضعيف و للحديث شواھد ضعيفة و أخطأ من صححه بتلک الشواھد الضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُخُولُ الجَنَّةِ نِعْمَةٌ كَامِلَةٌ)
جنت کا داخلہ پوری نعمت ہے
حدیث نمبر: 2432
2432 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَدْعُو يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ، فَقَالَ: (أَيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟) قَالَ: دَعْوَةٌ أَرْجُو بِهَا خَيْرًا، فَقَالَ: (إِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ) وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ: (قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ، فَسَلْ) وَسَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، فَقَالَ: (سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَاسْأَلْهُ الْعَافِيَةَ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اتمامِ نعمت کا سوال کرتا ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی چیز اتمامِ نعمت ہے؟“ اس نے کہا: دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اتمامِ نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے۔“ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے جلال و اکرام والے!“ دعا کرتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری دعا قبول ہوگئی، اب سوال کرو۔“ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔“ دعا کرتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے، اس سے عافیت کا سوال کرو۔“ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2432]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3527)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن