مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذَا الدُّعَاءَ عِنْدَ النَّوْمِ)
سوتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2403
2403 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ، مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے عزت والے چہرے اور تیرے کامل کلمات کے ذریعے ہر اس چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تو نے تھام رکھی ہے، پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! تو ہی قرض اور گناہ دور کرنے والا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی، تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا، کسی تونگر شخص کی تونگری تیرے ہاں کام نہیں آ سکتی، تو ہی اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے“۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2403]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5052)
٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن .»
٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَضْلُ الاسْتِغْفَارِ)
استغفار کی فضیلت
حدیث نمبر: 2404
2404 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ أَوْ عَدَدَ رَمْلِ عَالَجٍ أَوْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ أَوْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر آئے اور تین مرتبہ یہ دعا پڑھے: «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ زندہ، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ تو اللہ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا وادی عالج کی ریت کے ذرات کی تعداد یا درختوں کے پتوں یا دنیا کے ایام کے برابر ہوں۔“ ترمذی، اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2404]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3397)
٭ عطية العوفي: ضعيف مدلس .»
٭ عطية العوفي: ضعيف مدلس .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (قِرَاءَةُ سُورَةٍ مِنَ القُرْآنِ فَيُوَكِّلُ اللَّهُ مَلَكًا)
قرآن کی سورۃ پڑھنے سے اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 2405
2405 - وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ بِقِرَاءَةِ سُورَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكًا فَلَا يَقْرَبُهُ شَيْءٌ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان لیٹتے وقت قرآن مجید کی کوئی سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ اس پر ایک فرشتہ مامور فرما دیتا ہے، تو پھر اس کے بیدار ہونے تک کوئی موذی چیز اس کے قریب نہیں جاتی۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2405]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3407 ب)
٭ فيه رجل من بني حنظلة: لم أعرفه .»
٭ فيه رجل من بني حنظلة: لم أعرفه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (وِرْدٌ سَهْلٌ عَظِيمُ الشَّأْنِ)
ایک آسان لیکن عظیم الشان وظیفہ
حدیث نمبر: 2406
2406 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا) قَالَ: وَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ قَالَ: (فَتِلْكَ خَمْسُونَ، وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ يُسَبِّحُهُ وَيُكَبِّرُهُ وَيَحْمَدُهُ مِائَةً فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ؟! قَالُوا: وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهَا؟! قَالَ: يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صِلَاتِهِ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَنْفَتِلَ فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ، وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: (خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ) ، وَكَذَا فِي رِوَايَتِهِ بَعْدَ قَوْلِهِ: وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ قَالَ: (وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ) وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو کوئی مسلمان ان کی حفاظت کرتا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا، سن لو! وہ بہت آسان ہیں، لیکن انہیں بجا لانے والے قلیل ہیں، ہر نماز کے بعد دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہنا اور دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے ان کی گرہ لگا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (پانچوں نمازوں میں) زبان پر ایک سو پچاس ہیں جبکہ میزان میں پندرہ سو ہیں۔ اور جب وہ لیٹتے وقت «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ اور «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کی سو مرتبہ گنتی کرے تو یہ زبان پر سو ہے جبکہ ترازو میں ہزار، تم میں سے روزانہ اڑھائی ہزار گناہ کون کرتا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا، ہم ان (دو خصلتوں) کی کیسے حفاظت نہیں کریں گے؟ فرمایا: ”تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے، شیطان اس کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے: فلاں چیز یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، شاید کہ وہ ایسے نہ کر سکے اور وہ اس کے لیٹنے کے وقت بھی اس کے پاس آتا ہے اور وہ اسے سلاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ سو جاتا ہے۔“ ترمذی، ابوداؤد، نسائی۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے، فرمایا: ”دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی مسلمان بندہ حفاظت نہیں کرتا۔“ اور اسی طرح اس کی روایت میں ہے: ”میزان میں پندرہ سو ہے۔“ کہنے کے بعد فرمایا: ”جب وہ اپنے بستر پر آئے تو وہ چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتا ہے، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہتا ہے اور تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتا ہے۔“ اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2406]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2410 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (5065) والنسائي (74/3 ح1349) وذکره البغوي في مصابيح السنة (192/2 ح 1728)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (فَضْلُ قِرَاءَةِ دُعَاءٍ مِنْ أَدْعِيَةِ الصَّبَاحِ وَالمَسَاءِ)
صبح و شام کی ایک دعا پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 2407
2407 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَنَّامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: (اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهِ، وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ لَيْلَتِهِ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن غنام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یہ دعا: «اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ» ”اے اللہ! جو نعمت مجھے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو ملی ہے وہ صرف تجھ اکیلے ہی کی طرف سے ملی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، ہر قسم کی تعریف اور شکر تیرے ہی لیے ہے۔“ کرتا ہے، وہ شخص اس روز کا شکر ادا کر دیتا ہے، اور جو شخص شام کے وقت یہی دعا کرتا ہے تو وہ اس شام کا شکر ادا کر دیتا ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2407]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5073)
٭ عبد الله بن عنبسة: لم يوثقه غير ابن حبان .»
٭ عبد الله بن عنبسة: لم يوثقه غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءٌ آخَرُ عِنْدَ النَّوْمِ)
سوتے وقت کی ایک اور دعا
حدیث نمبر: 2408
2408 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: (اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَاغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مَعَ اخْتِلَافٍ يَسِيرٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيْلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اِقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! زمین و آسمان کے رب! اور ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے! تورات، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے! میں ہر شر والی چیز کے شر سے جس کی تو پیشانی پکڑے ہوئے ہے پناہ چاہتا ہوں، تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ہی غالب ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو ہی باطن ہے اور تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، مجھ سے قرض دور کر دے، اور مجھے فقر سے غنی کر دے۔“ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسے روایت کیا ہے، اور امام مسلم نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ صحیح، رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجہ ومسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (5051) و الترمذي (3400 وقال: حسن صحيح) و ابن ماجه (3873) و مسلم (2713/61)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذَا الدُّعَاءَ بَعْدَ الِاضْطِجَاعِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ جانے کے بعد یہ دعا پڑھتے
حدیث نمبر: 2409
2409 - وَعَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: (بَاسِمِ اللَّهِ وَضَعْتُ جَنْبِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَاخْسَأْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي، وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابو ازہر نماری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹ جاتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَضَعْتُ جَنْبِي لِلّٰهِ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَخْسِئْ شَيْطَانِي، وَفُكَّ رِهَانِي، وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى» ”اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اپنا پہلو اللہ کے لیے (بستر پر) لگایا، اے اللہ! میرے گناہ معاف کر دے، میرے شیطان کو ذلیل کر دے، مجھے تمام حقوق سے آزاد کر دے اور مجھے مجلسِ اعلیٰ میں شامل فرما۔“ (اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2409]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (5054) [و صححه الحاکم (540/1) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (الدُّعَاءُ الجَامِعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ النَّوْمِ)
سوتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع دعا
حدیث نمبر: 2410
2410 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي، وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، وَإِلٰهَ كُلِّ شَيْءٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے کفایت کیا، مجھے مسکن عطا کیا، مجھے کھلایا پلایا، جس نے مجھ پر ان گنت انعام و احسان کیا، جس نے مجھے عطا فرمایا تو بہت عطا فرمایا، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! ہر چیز کے رب اور اس کے مالک و بادشاہ اور ہر چیز کے معبود! میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5058)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (قِرَاءَةُ هَذَا الدُّعَاءِ عِنْدَ التَّوَجُّهِ إِلَى الفِرَاشِ)
بستر کی طرف جاتے ہوئے یہ دعا پڑھے
حدیث نمبر: 2411
2411 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنَامُ اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَالْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ الرَّازِيُّ قَدْ تَرَكَ حَدِيثَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بے خوابی کی وجہ سے پوری رات نہیں سوتا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر آؤ تو یہ دعا پڑھو: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہے ان کے رب! زمینوں اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھا رکھا ہے ان کے رب! شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے، یہ کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے، مجھے پناہ دینے والا ہو جا، تجھ سے پناہ لینے والا غالب آتا ہے، تیری ثنا و تعریف بہت زیادہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔““ ترمذی، اور فرمایا اس روایت کی اسناد قوی نہیں، حکم بن ظہیر راوی کی احادیث کو بعض محدثین نے ترک کیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (3523)
٭ الحکم بن ظھير: رمي بالرفض و اتھمه ابن معين .»
٭ الحکم بن ظھير: رمي بالرفض و اتھمه ابن معين .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُوَجِّهُ الصَّحَابَةَ لِهَذَا الدُّعَاءِ صَبَاحًا)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو صبح کے وقت اس دعا کی تلقین کیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 2412
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 2412 - عَنْ أَبِي مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبِرْكَتَهُ وَهُدَاهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَمِنْ شَرِّ مَا بَعْدَهُ، ثُمَّ إِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابومالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ دعا کرے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبَرَكَتَهُ وَهُدَاهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ» ”ہم نے اور تمام جہانوں کے پروردگار کے ملک نے صبح کی، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی فتح و نصرت، اس کی روشنی و برکت اور اس کی ہدایت کا سوال کرتا ہوں، اور اس دن کے اور اس کے بعد والے دنوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر جب شام کرے تو بھی اسی طرح دعا پڑھے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5084)
٭ شريح بن عبيد عن أبي مالک الأشعري: مرسل، قاله أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 90)»
٭ شريح بن عبيد عن أبي مالک الأشعري: مرسل، قاله أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 90)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف