🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مُتَطَلَّبُ الْغَيْرَةِ الإِلَهِيَّةِ إِعْلَانُ الْحَرَامِ حَرَامًا)
غیرت الہٰی کا تقاضا حرام کو حرام قرار دو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3310
3310 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَغَارُ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ، وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ لَا يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور بے شک مومن بھی غیرت مند ہے، اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن اللہ کی حرام کردہ چیز کا ارتکاب نہ کرے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5223) و مسلم (2761/36)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَيْسَ مَا يُرَى بِالضَّرُورَةِ حَقِيقَةً)
جو نظر آئے ضروری نہیں وہ حقیقت بھی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
3311 - وَعَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ  . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:"فَمَا أَلْوَانُهَا؟": قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ:"هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟"قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ:"فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا؟": قَالَ: عِرْقٌ نَزَعَهَا. قَالَ:"فَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ": وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: میری بیوی نے ایک سیاہ بچے کو جنم دیا ہے، میں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے عرض کیا: سرخ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے عرض کیا: ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خیال میں یہ کہاں سے آ گیا؟“ اس نے عرض کیا: (پرانی) رگ اسے لے آئی ہو گی۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ممکن ہے یہ بھی رگ ہو جو اسے لے آئی ہو۔“ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اس بچے سے انکار کی اجازت نہیں دی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7314) و مسلم (1500)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْوَلَدُ لِلْمَرْأَةِ وَلِلزَّانِي الْحَجَرُ)
بچہ عورت کا اور زانی کے لیے پتھر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3312
3312 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ ابْنُ أَخِي، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ. وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ) : ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: (احْتَجِبِي مِنْهُ) : لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: (هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمَعَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ) : مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہے، تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ چنانچہ جب فتح مکہ کا سال ہوا تو سعد رضی اللہ عنہما نے اسے لے لیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے۔ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ میرا بھائی ہے، وہ دونوں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سعد رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی نے اس (بچے) کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے، یہ اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عبد بن زمعہ! بچہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو، جبکہ زانی کے لیے پتھر (یعنی رجم) ہے۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اس سے پردہ کیا کرو۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ تب فرمایا جب آپ نے اس لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھی۔ اس کے بعد اس نے سودہ رضی اللہ عنہما کو تادمِ زیست نہیں دیکھا۔ اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عبد بن زمعہ! وہ تمہارا بھائی ہے، اس لیے کہ وہ اس کے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2745، 4303) و مسلم (1457/36)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَأْيُ الْقَائِفِ فِي شَأْنِ أُسَامَةَ وَزَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
حضرت اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما کے بارے میں قیافہ شناس کی رائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
3313 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ."، فَقَالَ: أَيْ عَائِشَةُ! أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ، فَلَمَّا رَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑے خوش خوش میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”عائشہ! کیا تجھے معلوم نہیں کہ مجزز مدلجی آیا ہوا ہے، جب اس نے اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما کو اس حال میں دیکھا کہ ان دونوں پر ایک چادر تھی اور انہوں نے اپنے سروں کو اس سے ڈھانپ رکھا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے، اس نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6771) و مسلم (1459/38)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نِسْبَةُ الْوَلَدِ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ كَبِيرَةٌ)
اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا کبیرہ گناہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3314
3314 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ  فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ) : مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سعد بن ابی وقاص اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جانتے بوجھتے اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6766) و مسلم (115/ 63)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دَعْوَةُ غَيْرِ الأَبِ أَبًا كُفْرَانُ نِعْمَةٍ)
اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی اور کو باپ کہنا کفران نعمت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3315
3315 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَقَدْ كَفَرَ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ: (مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ) : فِي (بَابِ صَلَاةِ الْخُسُوفِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنے آباء سے بے رغبتی و اعراض نہ کرو، کیونکہ جس شخص نے اپنے باپ سے اعراض کیا (اور اپنے آپ کو کسی اور کی طرف منسوب کیا) اس نے کفر کیا۔“ متفق علیہ۔ «وَقَدْ ذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا: مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللّٰهِ، فِي بَابِ صَلَاةِ الْخُسُوفِ» عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث: ”اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں۔“ صلاۃ الخسوف کے باب میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6768) و مسلم (113/ 62)
حديث عائشة: ما من أحد أغير من الله، تقدم (1483)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَاقِبَةٌ مُخْزِيَةٌ لِمَنْ يَنْكُرُ أَوْلَادَهُ)
اپنی اولاد کا انکار کرنے والوں کا رسوا کن انجام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3316
الْفَصْلُ الثَّانِي 3316 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ:"أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ ; فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کے متعلق آیت نازل ہوئی تو انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت بچے کو ایسی قوم میں داخل کر دے جس سے ان کا ناطہ نہیں، اللہ کے نزدیک اس عورت کی کوئی عزت نہیں اور وہ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا، اور جو شخص اپنے بچے کا انکار کر دے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ یہ بچہ اسی کا ہے، اللہ اس سے حجاب فرما لے گا اور اس کو تمام اول و آخر پوری مخلوق کے سامنے رسوا کر دے گا۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2263) و النسائي (179/6 ح 3511) و الدارمي (153/2 ح 2244)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا كَانَتِ الْمَحَبَّةُ فَاحْرُسْ زَوْجَتَكَ)
محبت ہے تو بیوی کی نگہبانی کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3317
3317 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ  فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"طَلِّقْهَا": قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا. قَالَ:"فَأَمْسِكْهَا إِذَنْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: رَفَعَهُ أَحَدُ الرُّوَاةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَحَدُهُمْ لَمْ يَرْفَعْهُ. وَقَالَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میری بیوی ہے جو کسی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی، نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ اس نے عرض کیا: میں اس سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے اپنے نکاح میں رکھ۔“ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی راوی نے اسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوع نقل کیا ہے اور کسی نے مرفوعاً ذکر نہیں کیا۔ چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ حدیث ثابت نہیں۔ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2049) والنسائي (169/6. 170 ح 3494. 3495)
٭ سند المرفوع صحيح و أعل بما لا يقدح .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْأَلَةُ نِسْبَةِ الْوَلَدِ)
بچے کی نسبت کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3318
3318 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ  ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ فَقَضَى أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَمْ يَمْلِكْهَا أَوْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ بِهِ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ الَّذِي ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کی بابت فیصلہ صادر فرمایا جسے اس کے باپ کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں میں شامل کیا گیا ہو: ”اگر وہ بچہ ایسی لونڈی کا ہے کہ مرنے والے شخص نے اس لونڈی سے اس وقت ہمبستری کی تھی جب وہ اس لونڈی کا مالک تھا تو وہ بچہ اس کے ورثاء میں شامل ہے، اس کے پیدا ہونے سے پہلے جو وراثت تقسیم ہو چکی اس سے وہ محروم رہے گا البتہ پیدا ہونے کے وقت جو ترکہ موجود تھا اس میں سے اسے حصہ ملے گا (جس بچے کو شامل کیا جا رہا ہے) اگر اس کے والد نے مرنے سے قبل اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا تو پھر اس بچے کو ورثاء میں شامل نہیں کیا جائے گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہے جس کا وہ متوفی مالک نہیں تھا یا وہ ایسی آزاد عورت سے جو اس کے نکاح میں نہ تھی تو اس بچے کو متوفی کے نسب میں شامل نہیں کیا جائے گا لہذا وہ بچہ متوفی کا وارث نہیں بنے گا، اگرچہ اس بچے کو خود متوفی نے اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قرار دیا ہو کیونکہ وہ زنا کی پیداوار ہے خواہ لونڈی سے ہو یا آزاد عورت سے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2265)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَوْعَانِ مِنَ الْغَيْرَةِ وَالتَّكَبُّرِ)
غیرت اور تکبر کی دو قسمیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3319
3319 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ ; فَأَمَّا الَّتِي يُحِبُّهَا اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُهَا اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُحِبُّ اللَّهُ ; فَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَاخْتِيَالُهُ فِي الْفَخْرِ". وَفِي رِوَايَةٍ:"فِي الْبَغْيِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”غیرت کی ایک قسم ایسی ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے اور ایک قسم ایسی ہے جسے اللہ پسند نہیں فرماتا، رہی وہ جسے اللہ پسند فرماتا ہے، وہ ہے جو مقامِ شک میں ہو، اور رہی وہ جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ غیرت ہے جو غیر شک (گمان) میں ہو۔ اور فخر کی ایک ایسی قسم ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، اور ایک ایسی قسم ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے؛ رہا وہ فخر جسے اللہ پسند فرماتا ہے وہ آدمی کا قتال (جہاد) اور صدقہ کے وقت فخر کرنا ہے، اور رہا وہ جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے تو وہ نسب میں فخر کرنا ہے۔“ اور دوسری روایت میں ہے: ”ظلم میں فخر کرنا۔“ حسن، اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (445/5، 446 ح 24148، 24149، 24153) و أبو داود (2659) والنسائي (5/ 78. 79 ح 2559)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں