مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ هُوَ العَاقِلُ وَمَنْ هُوَ الأَحْمَقُ؟)
عقل مند کون اور بے وقوف کون؟
حدیث نمبر: 5286
5286 - وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، ثُمَّ مَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا قُلْتُمْ؟"قَالُوا: دَعَوْنَا اللَّهَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ، وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟"أَوْ قَالَ:"صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ ; لِمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. [ ص: 3307 ]
عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا، پھر دوسرا اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد فوت ہو گیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے لیے کیا دعا کی؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس کی مغفرت فرمائے، اس پر رحم فرمائے اور اسے اس کے ساتھی سے ملائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی وہ نمازیں جو اس نے اس کی نمازوں کے بعد پڑھیں وہ کہاں گئیں؟ اور اس نے اس کے بعد جو عمل کیے وہ کہاں گئے؟“ یا فرمایا: ”اس نے اس کے بعد جو روزے رکھے تو وہ کہاں گئے؟ ان دونوں کے مابین تو زمین و آسمان کے مابین فاصلے سے زیادہ فاصلہ ہے۔“ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5286]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (2524) و النسائي (4/ 74 ح 1987)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (ثَلَاثُ خِصَالٍ أُقْسِمُ عَلَى صِدْقِهَا)
وہ تین چیزیں جن کے سچ پر میں قسم کھا سکتا ہوں
حدیث نمبر: 5287
5287 - وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ، وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، فَأَمَّا الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا ، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ. وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ فَاحْفَظُوهُ"فَقَالَ:"إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا، فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَيَصِلُ رَحِمَهُ، وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ، فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ. وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا، فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ. وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا، فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَعْمَلُ فِيهِ بِحَقٍّ، فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبُدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَهُوَ نِيَّتُهُ وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تین خصلتیں ہیں، میں ان پر قسم اٹھاتا ہوں اور میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، تم اسے یاد کر لو، وہ چیزیں جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں یہ ہیں: صدقہ کرنے سے بندے کا مال کم نہیں ہوتا، جس بندے کی حق تلفی کی جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے، اور بندہ جب کسی سے سوال کرتا ہے تو اللہ اسے فقر میں مبتلا کر دیتا ہے، رہی وہ بات جو میں تمہیں بتانے جا رہا ہوں اس کو خوب یاد رکھنا۔“ پس فرمایا: ”دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے: ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم عطا کیا ہو اور وہ اس (علم) کے بارے میں اپنے رب سے ڈرتا ہو، صلہ رحمی کرتا ہو اور وہ اس (علم) کے مطابق اللہ کی خاطر عمل کرتا ہو، یہ سب سے افضل درجہ ہے۔ ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا ہو لیکن اسے رزق نہ دیا ہو، اور وہ نیت کا اچھا ہے، وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں (مالدار) شخص کی طرح خرچ کرتا، ان دونوں کے لیے اجر برابر ہے، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال عطا کیا لیکن علم نہیں دیا تو وہ علم کے بغیر اپنے مال کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے، اور وہ نہ تو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اسے حق کے مطابق خرچ کرتا ہے، یہ شخص انتہائی برے درجے پر ہے، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال دیا نہ علم، وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح عمل (یعنی خرچ) کرتا، وہ صرف نیت ہی کرتا ہے جبکہ دونوں کا گناہ برابر ہے۔“ ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2325)
٭ يونس بن خباب ضعيف رافضي و للحديث طريق آخر معلول (ضعيف) عند أحمد (4/ 230 ح 1802) بمتن آخر .»
٭ يونس بن خباب ضعيف رافضي و للحديث طريق آخر معلول (ضعيف) عند أحمد (4/ 230 ح 1802) بمتن آخر .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (تَوْفِيقُ الأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ المَوْتِ)
موت سے پہلے اچھے اعمال کی توفیق
حدیث نمبر: 5288
5288 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ". فَقِيلَ: وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے (اطاعت والے) کاموں پر لگا دیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ اسے کس طرح کام پر لگاتا ہے؟ فرمایا: ”موت سے پہلے اسے صالح عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔“ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5288]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2142 و قال: صحيح)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْ هُوَ العَاقِلُ وَمَنْ هُوَ الأَحْمَقُ؟)
عقلمند اور بیوقوف انسان کون
حدیث نمبر: 5289
5289 - وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ . وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دانا شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا اور موت کے بعد کے لیے عمل کیے، اور کم عقل شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کو خواہش کے تابع کیا اور اللہ پر امید باندھ لی (کہ وہ غفور و رحیم) ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5289]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2459) و ابن ماجه (4260)
٭ أبو بکر بن أبي مريم ضعيف مختلط .»
٭ أبو بکر بن أبي مريم ضعيف مختلط .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الرَّخَاءُ نِعْمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى)
خوش حالی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت
حدیث نمبر: 5290
الْفَصْلُ الثَّالِثُ - 5290 - عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ. قَالَ:"أَجَلْ". قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى ، وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک مجلس میں تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے سر پر پانی (یعنی غسل) کے اثرات تھے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کو خوش طبع دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، پھر لوگوں نے مال داری کے متعلق غور و خوض کرنا شروع کر دیا (کیا وہ جائز ہے یا ناجائز؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اس کے لیے مال داری میں کوئی مضائقہ نہیں، تقویٰ والے شخص کے لیے صحت مال داری سے بہتر ہے، اور حقیقی خوشی نعمتوں میں سے ہے۔“ (اسنادہ صحیح، رواہ احمد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5290]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (5/ 372 ح 23545) [و ابن ماجه (2141) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بَيَانُ إِنْفَاقِ المَالِ بِحَذَرٍ)
مال کو احتیاط سے خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5291
5291 - وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ الْمَالُ فِيمَا مَضَى يُكْرَهُ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَهُوَ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ. وَقَالَ: لَوْلَا هَذِهِ الدَّنَانِيرُ لَتَمَنْدَلَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْمُلُوكُ. وَقَالَ: مَنْ كَانَ فِي يَدِهِ مِنْ هَذِهِ شَيْءٌ فَلْيُصْلِحْهُ، فَإِنَّهُ زَمَانٌ إِنِ احْتَاجَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ يَبْذُلُ دِينَهُ. وَقَالَ: الْحَلَالُ لَا يَحْتَمِلُ السَّرَفَ . رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
سفیان ثوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ماضی میں مال ناپسندیدہ چیز تھی، جبکہ آج وہ مومن کی ڈھال ہے، اور فرمایا: اگر (ہمارے پاس) دینار نہ ہوتے تو یہ بادشاہ ہمیں بے وقعت سمجھتے، اور فرمایا: جس شخص کے ہاتھ میں مال ہو وہ اسے کارآمد بنائے (ضائع نہ کرے) کیونکہ یہ ایسا دور ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہوا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو (حصولِ دنیا کے لیے) اپنا دین بیچ ڈالے گا، اور فرمایا: حلال فضول خرچی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ضعیف مردود، اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5291]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف مردود، رواه البغوي في شرح السنة (14/ 291 بعد 4098 بدون سند و لم أجده مسندًا)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف مردود
--. (لَا عُذْرَ بَعْدَ السِّتِّينَ سَنَةً)
ساٹھ سال کے بعد کوئی عذر قبول نہیں
حدیث نمبر: 5292
5292 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ أَبْنَاءُ السِتِّينَ ؟ وَهُوَ الْعُمُرُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ) .
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت منادی کرنے والا منادی کرے گا: ساٹھ سال والے کہاں ہیں؟“ اور یہ (ساٹھ سال) وہ عمر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ﴾ [سورة فاطر: 37] ”کیا ہم نے تمہیں عمر عطا نہیں کی تھی، جس نے نصیحت پکڑنی تھی وہ نصیحت پکڑتا، اور تمہارے پاس آگاہ کرنے والے بھی آئے۔“ اسنادہ ضعیف جدا، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5292]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (10254، نسخة محققة: 9773)
٭ فيه إبراهيم بن الفضل المخزومي: متروک و أبو بکر بن أبي دارم: کذاب و لکنه توبع، انظر المعجم الکبير للطبراني (11/ 177. 178 ح 11415)»
٭ فيه إبراهيم بن الفضل المخزومي: متروک و أبو بکر بن أبي دارم: کذاب و لکنه توبع، انظر المعجم الکبير للطبراني (11/ 177. 178 ح 11415)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (عُمْرٌ طَوِيلٌ مَعَ أَعْمَالٍ صَالِحَةٍ)
نیک اعمال والی لمبی عمر
حدیث نمبر: 5293
5293 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةً أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ يَكْفِينِيهِمْ؟"قَالَ طَلْحَةُ: أَنَا. فَكَانُوا عِنْدَهُ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا، فَخَرَجَ فِيهِ أَحَدُهُمْ، فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِ الْآخَرُ، فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ وَالَّذِي اسْتُشْهِدَ آخِرًا يَلِيهِ، وَأَوَّلَهُمْ يَلِيهِ، فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ، فَقَالَ:"وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ؟! لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ ; لِتَسْبِيحِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ".
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، بنو عذرہ کے تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو ان کے (کھانے پینے کی) مجھ سے ذمہ داری اٹھا لے؟“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں، چنانچہ وہ (تینوں) ان کے پاس تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے ایک اس لشکر کے ساتھ ہو گیا اور وہ شہید ہو گیا، پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا تو دوسرا شخص اس کے ساتھ گیا تو وہ بھی شہید ہو گیا، پھر تیسرا شخص اپنے بستر پر فوت ہو گیا، راوی بیان کرتے ہیں، طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے (خواب میں) تینوں کو جنت میں دیکھا اور بستر پر وفات پانے والے کو ان کے آگے دیکھا، جو بعد میں شہید ہوا تھا وہ اس کے ساتھ تھا جبکہ پہلے شہید ہونے والا شخص اس دوسرے (شہید) کے ساتھ تھا، چنانچہ اس سے مجھے اشکال پیدا ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو اس سے کون سی چیز عجیب لگی؟ اللہ کے ہاں اس مومن سے افضل کوئی شخص نہیں جسے اسلام میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر اور تہلیل «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے کے لیے طویل عمر دی جائے۔“ سندہ ضعیف، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5293]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (1/ 163 ح 1401)
٭ السند مرسل و له طريق آخر عند البزار (954 کشف الأستار) و أبي يعلي (634) و سنده ضعيف .»
٭ السند مرسل و له طريق آخر عند البزار (954 کشف الأستار) و أبي يعلي (634) و سنده ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (لَيْتَنِي أُعِيدُ إِلَى الدُّنْيَا فَأَعْبُدَ كَثِيرًا)
کاش کہ میں دنیا میں لوٹا دیا جاؤں اور خوب عبادت کروں
حدیث نمبر: 5294
5294 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّ عَبْدًا لَوْ خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
محمد بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے، ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر بندہ اپنے یومِ پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک اللہ کی اطاعت میں سجدہ ریز رہے تو وہ روزِ قیامت اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور وہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اجر و ثواب میں اضافہ کر سکے۔“ دونوں روایات کو امام احمد رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5294]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (4/ 185 ح 17800)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (مَنْ يَدْخُلُ الجَنَّةَ بِدُونِ حِسَابٍ؟)
بلا حساب جنت میں کون جائیں گے؟
حدیث نمبر: 5295
[ 4 ] بَابُ التَّوَكُّلِ وَالصَّبْرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5295 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑ کراتے ہیں اور نہ بدشگونی لیتے تھے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5295]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6472) و مسلم (371 / 218)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه