🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (انْتِشَارُ أُمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا پھیلاؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5296
5296 - وَعَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ:"عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي. فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ. فَقَالَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ  ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: (اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ) . ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ:"سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، چنانچہ ایک نبی گزرے ان کے ساتھ ایک آدمی تھا، ایک اور نبی تھے اور ان کے ساتھ دو آدمی تھے، اور ایک اور نبی تھے ان کے ساتھ چند آدمی تھے، جبکہ کسی نبی کے ساتھ کوئی ایک بھی نہیں تھا، میں نے ایک بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا، میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہوگی لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ہیں، پھر مجھے کہا گیا، دیکھو، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا، مجھے کہا گیا: اس طرف (دائیں، بائیں) دیکھو، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق پر پھیلا ہوا تھا، مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار ہیں جو حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے، «هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» ”یہ وہ لوگ ہیں جو نہ بدشگونی لیتے تھے، نہ دم کرواتے تھے اور نہ ہی داغ لگواتے تھے اور وہ صرف اپنے رب پر توکل کرتے تھے۔““ اتنے میں عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمائے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! اس کو ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان میں کر دے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس میں عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔“ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5296]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5752) و مسلم (374/ 220)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كُلُّ عَمَلِ المُؤْمِنِ فِيهِ خَيْرٌ)
مومن کے ہر کام میں بھلائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5297
5297 - وَعَنْ صُهَيْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ! إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ  فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ  فَكَانَ خَيْرًا لَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعثِ خیر ہے، اور یہ چیز صرف مومن کے لیے خاص ہے، اگر اسے کوئی نعمت میسر آتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5297]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (64/ 2999)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ هُوَ أَفْضَلُ المُؤْمِنِينَ؟)
بہتر مومن کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5298
5298 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَلَا تَعْجِزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ  ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”قوی مومن، ضعیف مومن سے بہتر ہے نیز وہ اللہ کو زیادہ پسند ہے، اور سب (مومنوں) میں خیر ہے، تو اپنے لیے نفع بخش چیز کے لیے محنت و کوشش کر اور اللہ سے مدد طلب کر اور عاجزی و سستی نہ کر، اور اگر تجھے کوئی نقصان پہنچے تو ایسے نہ کہو: اگر میں (اس طرح، اس طرح) کرتا تو اس طرح، اس طرح ہوتا، بلکہ ایسے کہو: «قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» ”اللہ نے مقدر کیا اور جو اس نے چاہا سو کیا“، کیونکہ (لفظ) ”اگر“ عملِ شیطان کھولتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5298]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (34/ 2664)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفَ يَكُونُ التَّوَكُّلُ؟)
توکل کیسا ہونا چاہیے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5299
الْفَصْلُ الثَّانِي 5299 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ  ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق فراہم کرے جس طرح وہ پرندوں کو رزق فراہم کرتا ہے، وہ صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کے وقت شکم سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔“ حسن، رواہ الترمذی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5299]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (2344 وقال: حسن صحيح) و ابن ماجه (4164)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرِّزْقُ سَيَصِلُ قَبْلَ المَوْتِ)
موت سے قبل رزق مل کر رہے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5300
5300 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَيُّهَا النَّاسُ! لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ، وَإِنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ - وَفِي رِوَايَةٍ: وَإِنَّ الرُّوحَ الْقُدُسَ - نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا  ، أَلَا فَاتَّقُوا اللَّهَ، وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ". رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) والْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ) إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ (وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ) .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لوگو! ہر وہ چیز جو تمہیں جنت کے قریب کر دے اور تمہیں جہنم سے دور کر دے میں اس کے متعلق حکم دے چکا ہوں، اور ہر وہ چیز جو تمہیں جہنم کے قریب کر دے اور تمہیں جنت سے دور کر دے میں اس سے تمہیں منع کر چکا ہوں، بے شک «رُوحُ الْأَمِينِ» ”روح الامین“، اور ایک دوسری روایت میں ہے، بے شک «رُوحُ الْقُدُسِ» ”روح القدس“ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کوئی نفس اپنا رزق پورا کیے بغیر فوت نہیں ہو گا، سن لو! اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے رزق تلاش کرو اور رزق کی تاخیر تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اللہ کی نافرمانی کے ساتھ اسے طلب کرو، کیونکہ اللہ کے ہاں جو (انعامات) ہیں وہ تو محض اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔“ شرح السنہ، بیہقی فی شعب الایمان، البتہ امام بیہقی نے «وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ» ”اور بے شک روح القدس“ کا ذکر نہیں کیا۔ إسناده ضعيف، رواه في شرح السنة والبیهقي في شعب الإيمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5300]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (14/ 303. 304 ح 4111) و البيھقي في شعب الإيمان (10376، نسخة محققة: 9891)
٭ السند منقطع، زبيد الإيامي لم يدرک ابن مسعود و للحديث شاھدان ضعيفان .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَفْهُومُ تَرْكِ الدُّنْيَا)
ترک دنیا کا مفہوم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5301
5301 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ  ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ بِمَا فِي يَدَيِ اللَّهِ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الرَّاوِي مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبتی، حلال کو حرام کرنے اور مال ضائع کرنے کا نام نہیں، بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس چیز سے، جو اللہ کے ہاتھوں میں ہے، زیادہ قابلِ اعتماد نہ ہو، اور یہ کہ جب تو کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا جائے تو تو اس کے ثواب میں اس قدر رغبت رکھنے والا ہو کہ (کاش) وہ (مصیبت) تجھے نہ پہنچتی۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور عمرو بن واقد راوی منکر الحدیث ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا» ”اس کی سند بہت ضعیف ہے“، «رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه» ”اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (2340) و ابن ماجه (4100)
٭ عمرو بن واقد: متروک .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَدَرُ الإِنْسَانِ مَكْتُوبٌ)
انسان کی تقدیر لکھی جا چکی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5302
5302 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كَنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ:"يَا غُلَامُ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ  ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ"رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے (سواری پر بیٹھا ہوا) تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو سوال کرے تو صرف اللہ سے کر، جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر پوری امت بھی جمع ہو کر تجھے کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5302]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (1/ 293 ح 2669) و الترمذي (2516 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرِّضَا بِمَشِيئَةِ اللَّهِ دَائِمًا)
مشیت الٰہی پر ہمیشہ راضی رہا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5303
5303 - وَعَنْ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ  ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ  ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سُخْطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”انسان کی سعادت مندی اسی میں ہے کہ وہ اپنے بارے میں اللہ کی قضا و قدر پر راضی ہو، انسان کی بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ سے خیر طلب کرنا ترک کر دے اور انسان کی بدنصیبی ہے کہ وہ اپنے بارے میں اللہ کی قضا و قدر پر راضی نہ ہو۔“ احمد اور ترمذی، اور انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند ضعیف ہے، اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5303]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (1/ 168 ح 1444) و الترمذي (2151)
٭ محمد بن أبي حميد: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عِنْدَمَا سَلَّ سَيْفًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ بَدَوِيٌّ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب ایک دیہاتی نے تلوار سونت لی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5304
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5304 - عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً  ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُونَا، وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ:"إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا. قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ، ثَلَاثًا"وَلَمْ يُعَاقِبْهُ، وَجَلَسَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس آئے، صحابہ کرام کو گھنے خار دار درختوں کی وادی میں دوپہر کو نیند (قیلولہ) نے آ لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (آرام کی غرض سے) یہاں پڑاؤ ڈالا اور صحابہ کرام درختوں کے سائے کی تلاش میں الگ الگ ہو گئے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیکر کے درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور اپنی تلوار اس (درخت) کے ساتھ لٹکا دی، اور ہم تھوڑی دیر کے لیے سو گئے، اچانک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں بلانے لگے، ہم نے دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھ پر میری تلوار سونت لی جبکہ میں اس وقت آرام کر رہا تھا، میں بیدار ہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے تین مرتبہ کہا: «اللّٰهُ» ”اللہ (بچائے گا)“۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی کوئی سرزنش نہیں کی اور آپ بیٹھ گئے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5304]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2910) و مسلم (311/ 843)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ يُنْقِذُكُمْ مِنِّي؟)
تم کو مجھ سے کون بچائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5305
5305 - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ فِي (صَحِيحِهِ) فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: (اللَّهُ) فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْفَ فَقَالَ:"مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟"فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ  . فَقَالَ:"تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَى أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. هَكَذَا فِي (كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ) وَفِي (الرِّيَاضِ) .
اور ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یوں روایت کی ہے، اس نے کہا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ» (اللہ!)“ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلوار پکڑ کر فرمایا: ”تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟“ اس نے عرض کیا: آپ بہتر پکڑنے والے ہیں (یعنی معاف کر دیں)، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آپ سے نہ تو قتال کروں گا اور نہ ہی آپ سے قتال کرنے والوں کا ساتھ دوں گا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا (اسے جانے دیا)، وہ (اعرابی) اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا: میں بہترین شخص کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔ کتاب الحمیدی اور ریاض الصالحین میں اسی طرح ہے۔ اسنادہ صحیح، رواہ النووی فی ریاض الصالحین و البیھقی فی دلائل النبوۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5305]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، ذکره النووي في رياض الصالحين (78 بتحقيقي) ورواه البيھقي في دلائل النبوة (375/3. 376 من طريق الإسماعيلي به و لعله أسلم بعد کما يظھر من کلامه و من أجله ذکر في الصحابة .)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں